سوال
کہ میں نے بیوی سے ہمبستری کے دوران جذبات میں آکر اپنی شرمگاہ بیوی کے منہ میں دے دی ۔اور بیوی کی شرمگاہ اپنے منہ میں لے لی ۔ جس پر میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ کرتا ہوں ۔میرا سوال یہ ہے کہ اس سے ہمارے رشتے پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا نا؟
سائل: محمد رضوان: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دین اسلام طہارت وپاکیزگی کادرس دیتاہےاورنجاست وگندگی سےدوررہنےکولازم قراردیتاہے۔قال اللہ تعالیٰ: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْوَالرُّجْزَ فَاهْجُرْترجمہ:اپنے کپڑے پاک رکھو اورگندگی کودورپھینکو۔(المدّثر :4، 5)
نیزفرمایا: إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ.ترجمہ:یقینااللہ تعالی بہت زیادہ توبہ کرنےوالوں اورپاکیزہ رہنےوالوں کوپسندکرتاہے۔ (البقرة : 222)
شریعت اسلامیہ نے میاں بیوی کو اس انداز سے صحبت سے بھی منع فرمایا جس میں جانوروں کے طریقے مشابہت لازم آئے ،چناچہ حدیث پاک میں ہے:اذا اتي احدكم اھله فليستتر ولا يتجرد تجرد العيري نترجمہ: جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس آئے تواسے چاہیے کہ پردہ کرے،اورگدھے کی طرح ننگانہ ہو۔(یعنی بالکل برہنہ نہ ہو،بلکہ جتنی ضرورت ہے اتنا ستر کھولے)۔( سنن ابن ماجہ:ابواب النکاح،ص:138،قدیمی کراچی)
جب اسلام پاکی کا حکم دیتا ہے اور ناپاکی سے منع کرتا ہے اور جائز کام بھی ایسے طریقے سے کرنے سے روکتا ہے جس میں بے حیائی کا ایک گونہ شبہ ہورہا ہو ۔تو میاں بیوی کو ایک دوسری کی شرمگاہ منہ لینے کی اجازت بھی نہیں دے سکتا۔لہذا معلوم ہوا کہ میاں بیوی کا ایک دوسری کی شرمگاہ منہ میں لینا ناجائز و قبیح عمل ہے جو شریعت کے منشاء اور مقصد کے منافی ہے۔
علاوہ ازیں ہمبستری سے پہلے اکٹھے ہونے کی صورت میں مرد اور عورت کی شرمگاہوں سے مذی نکلتی ہے جو ناپاک ہے۔پس اگر عورت شوہر کی شرمگاہ کو منہ میں لےیا مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ کو چاٹے تو ہر ایک کا منہ وزبان ناپاکی سے لتھڑیں گے۔بلکہ بہت ممکن کہ وہ ناپاکی لعاب کےساتھ مل کر حلق سے نیچے اتر جائے۔جیساکہ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ مباشرت فاحشہ کی صورت میں مذی کا خروج غالب ہے :لانھا لاتخلو عن خروج مذی غالبا وھو کالمتحقق فی مقام وجوب الاحتیاط ترجمہ:کیونکہ یہ صورت غالبا مذی نکلنے سے مانع نہیں ہے، لہذا اس مقام میں جہاں احتیاط واجب ہے خروج مذی متحقق کی طرح ہے۔(رد المحتار مع الدرالمختار ،کتاب الوضوء باب سنن الوضو ج1ص147)
حالانکہ ناپاکی سے اجتناب واجب اور اس کو کھانے پینے کی حرمت ثابت، لہذا ان افعالِ شنیعہ سے بچنا ضروری اور ان افعال کا ارتکاب ناجائزو حرام ٹھہرا۔ ابنِ حزم ظاہری نے اس پہ اتفاق ذکر کرتے ہوئے لکھا واتفقوا علی ان اکل النجاسۃ وشربھا حرام حاشا النبیذ المسکرترجمہ: اور قفہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نجاست کھانا،پینا حرام ہے۔ حتی کہ وہ نبیذ بھی حرام ہے جو نشہ آور ہو۔(مراتب الاجماع ص91)
علامہ ابن عابدین فرماتے ہیں: والحرمۃ فرع النجاسۃترجمہ: اور حرمت نجاست کی فرع ہے۔(رد المحتار مع الدرالمختار ،باب مسائل شتٰی ج6ص732)
پھر طبیعت سلیمہ نجاست کھانا بلکہ نجاست دیکھنا،بلکہ محل نجاست دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتی ،ملاحظہ کیجیے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: مانظرت اَو مارأیت فرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قطترجمہ: میں نے کبھی بھی آپ ﷺ کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھا نہ نظر کی۔(سنن ابن ماجہ،ابواب النکاح:حدیث نمبر 138)
اور کیسے گوارا کرے کہ جس منہ سے اپنے پاک رب کا نام لیتا ہے، تلاوت قرآن کرتا ہے ،درود و سلام پڑھتا ہے،دیگر امور دینیہ انجام دیتا ہے ایسے ذی شرف عضو کو ایسے اعضاء کے ساتھ مس کرے جو ناپاکیوں اور نجاستوں کی گزرگاہیں ہیں۔
لیکن اگر کوئی انسان شہوت نفسانی سے مغلوب ہوکر اس فعل ناجائز کا مرتکب ہوجائے تو لازم ہے کہ رب کریم کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ کرے اور آئندہ اس فعل کو نہ کرنے کا عزم مصمم کرلے ۔یقینا اللہ کریم برا مہربان بخشنے والاہے۔
البتہ اس فعل قبیح سے اس شخص کے رشتہ نکاح میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح :ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 ذوالحج 1440 ھ/06 اگست 2019 ء