سوال
حج و عمرہ کیلئے عورت بمع محرم سفر کیلئے نکلی کہ منزل پر پہنچنے سے قبل پاک ہوگئی تو اب نماز مکمل پڑھے گی یا پچھلے سفر کا اعتبار کرتے ہوئے قصرکرے گی؟ سائل: عبد اللہ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر حائضہ عورت دوران سفر یا منزل پر پہنچنے کے بعد پاک ہوگئی تو قصر نماز پڑھے گی۔
اگر کوئی عورت حالت حیض میں اپنے مقام سے ایسے مقام کے لیے بمع محرم سفر کرے جو مسافت سفر پرواقع ہو اور راستے میں ایسی جگہپاک ہوجائے جو منزل مقصود سے مسافت سفر پر نہیں ہے ( یعنی اس کے اوروطن اصلی یا وطن اقامت کے درمیان اڑتالیس میل سے کم مسافت رہ گئی ہو ) تو ایسی صورت میں وہ پوری نمازپڑھے گی یا قصر کرے گی ؟
اس سلسلے میں فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالی کی عباراتمختلف ہیں چنانچہ خاتمۃ المحققین علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ”نہج النجاۃ ‘‘ اور ” فتاویٰ ظہیریہ ‘‘ کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں اور”فتاویٰ تتارخانیہ‘‘اور ” حلبی کبیر‘‘ میں بھی ’’ظہیریہ ‘‘ کے حوالےسے مذکورہے کہ ایسی صورت میں وہ عورت پوری نمازپڑے گی۔اس کے برخلاف ” محیط برہانی ‘‘ میں فقیہ امام ابو جعفر الہندوانی رحمہ اللہ کے حوالے سے قصر کا قول مذکورہے جسے صاحب ” محیط برہانی ‘‘ نے اختیار فرمایا ہے۔اور ’’فتاوی شامی‘‘ میں علامہ شرنبلالی رحمہ اللہ کے حوالے سے بھی یہی قول منقول ہے۔نیز علامہ ملا خسرو رحمہ اللہ نے بھی ’’ درر الحکام شرح غرر الاحکام ‘‘میں مذکورہ صورت میں قصر کا قول ہی اختیار فرمایا ہے ۔
یہاں فقہائے کرام کے دو گروہ ہیں:
اوّل حائضہ کو صبی پر قیاس کرتے ہوئے اتمامِ صلاۃ کا حکم دیتے ہیں ، یعنی صبی و حائضہ دونوں مطلقاً مکلف نہیں لہذادونوں کیلئے ایک حکم ہوگا۔
اور گروہِ ثانی کافر پر قیاس کرتے ہوئے قصر ِصلاۃ ثابت کرتے ہیں،کہ کافر و حائضہ دونوں اہلیتِ وجوب رکھتے ہیں۔
حائضہ عورت کو صبی پر قیاس کرنا درست نہیں:
کیونکہ حیض کی وجہ سے عورت کی مطلقاً نہ اہلیت وجوب متاثر ہوتی ہے اور نہ اہلیت اداء۔یعنی اُن تمام احکام میں حائضہ مکلف ہوتی ہے جن کے لئے طہارت شرط نہیں،مثلاً: (۱)حالت حیض میں رہ جانے والے روزوں کی قضاء عورت پر لازم ہوتی ہے۔
(۲) حالت حیض میں اگر حج یا عمرہ کی نیت کرےتواس کا احرام درست ہوجائے گا۔
(۳) قربانی کے دنوں میں حائضہ مسافرہ پر قربانی واجب نہیں ہوتی ۔
کیونکہ ان تمام احکامات میں طہارت شرط نہیں،لہذا حائضہ مکلف ہوئی،جبکہ اس کے برخلاف صبی اصلاً تکلیف کا اہل نہیں ،پس حائضہ کو صبی پر قیاس کرنا درست نہیں۔لہذا جس طرح ان مسائل میں عورت کی نیت معتبر ہے تو قصر نماز میں بھی نیت معتبر ہوگی۔
حائضہ عورت کی نہ اہلیت وجوب متاثر ہوتی ہے اور نہ اہلیت اداء، چنانچہ امام عبد العزيز بن احمد علاء الدين البخاری الحنفی (المتوفى: 730ھ) فرماتے ہیں:" وَأَنَّهُمَا لَا يَعْدِمَانِ أَهْلِيَّةً لَا أَهْلِيَّةَ الْوُجُوبِ وَلَا أَهْلِيَّةَ الْأَدَاءِ لِأَنَّهُمَا لَا يُخِلَّانِ بِالذِّمَّةِ وَلَا بِالْعَقْلِ وَالتَّمْيِيزِ وَلَا بِقُدْرَةِ الْبَدَنِ فَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ لَا تَسْقُطَ بِهِمَا الصَّلَاةُ كَمَا لَا يَسْقُطُ الصَّوْمُ لَكِنَّ الطَّهَارَةَ عَنْ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ شُرِطَتْ لِلصَّلَاةِ عَلَى وِفَاقِ الْقِيَاسِ كَالطَّهَارَةِ عَنْ سَائِرِ الْأَحْدَاثِ وَالْأَنْجَاسِ".ترجمہ:حیض و نفاس نہ تو عورت کی اہلیتِ وجوب معدوم کرتی ہیں نہ ہی اہلیتِ اداء،کیونکہ حیض و نفاس دونوں ہی ذمہ،عقل،تمییز اور قدرتِ بدن کو مخل نہیں ہوتے۔لہذا قیاساً تو ان سے نماز بھی ساقط نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ روزے ساقط نہیں لیکن بہرحال نماز کیلئے جس طرح دیگر محدثات و نجاسات سے پاک ہونا لازم ہے اسی طرح حیض و نفاس سے پاک ہونے کی شرط موافق ِقیاس ضرور ہے ۔(كشف الأسرار شرح أصول البزدوی،باب معرفة أقسام الأسباب والعلل والشروط،باب بيان العقل،باب بيان الأهلية،باب الأمور المعترضة على الأهلية،4/ 312،دار الکتاب الاسلامی)
قربانی کے دنوں میں حائضہ مسافرہ پر قربانی واجب نہیں ،الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَمِنْهَا الْإِقَامَةُ فَلَا تَجِبُ عَلَى الْمُسَافِرِ... وَجَمِيعُ مَا ذَكَرْنَا مِنْ الشُّرُوطِ يَسْتَوِي فِيهِ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ ".ترجمہ:قربانی کی شرائط میں سے ایک شرط اقامت ہے پس مسافر پر قربانی واجب نہیں ہے اور تمام شرائط جو ہم نے ذکر کیں ان میں مرد و عورت یکساں ہیں یہ بدائع میں ہے۔(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،5/ 292،دار الفکر)
اسلام لانے والے کافر کو حکم ِقصرہے،چنانچہ البحر الرائق، البنايۃ شرح الہدايۃ،المحیط البرہانی،الفتاوی البزازیہ میں ہے واللفظ لہ:" صبي ونصراني خرجا إلى مسيرة ثلاث فبلغ الصبي في بعض الطريق أو أسلم الكافر قصر الكافر لاعتبار قصده لا الصبي في المختار".ترجمہ:نابالغ اور نصرانی تین دن کی مسافت پر نکلے تو درمیان سفر بچہ بالغ ہوگیا یا کافر مسلمان ہوگیا تو کافر بقیہ سفر میں قصر نماز پڑھے گا کیونکہ مختار قول کے مطابق اس کی نیتِ سفر معتبر ہے برخلاف نابالغ کے۔(الفتاوی البزازیۃ،کتاب الصلاۃ،الثانی والعشرون فی السفر،1/65،دار الکتب العلمیۃ)
حائضہ عورت کی نیتِ سفر معتبر ہوگی اور قصر صلاۃ کا حکم راجح ہوگا،وجوہِ ترجیح ملاحظہ ہوں:
(۱)نیتِ انشاءِ سفر کی صحت کے لیے تین چیزیں ہیں:کسی کے تابع نہ ہونا،بلوغت اور مسافت شرعیہ طے کرنے کا ارادہ۔جبکہ حیض کے نہ ہونے کا ذکر کہیں نہیں ملتا،لہذا حائضہ عورت کی نیتِ سفر معتبر ہوگی۔
(۲)قصر کا قول قیاس کے موافق ہے،کیونکہ حائضہ عورت بھی ان تمام احکامات میں مکلف ہے جن میں طہارت شرط نہیں۔یعنی اس کی مطلقاً نہ اہلیتِ وجوب متاثر ہوتی ہے اور نہ اہلیتِ اداء،لہذا صبی کے بجائے کافر پر قیاس ہوگا کہ صبی سرے سے تکلیف کا اہل ہی نہیں ہے،جبکہ کافر فروعات کا مکلف ہے۔ لہذا حائضہ عورت کو اہلیت کے حامل کافر پر قیاس کیا جائے گا۔
(۳)اتمام یا قصر میں سے کوئی حکم منصوص نہیں،لہذا پاک ہونے والی حائضہ کا فریضہ بھی قصر ہونا چاہیے۔کیونکہ سفر میں نماز اور روزے کے احکام میں نرمی کی بنیادی وجہ مشقت ہے،لیکن چونکہ مشقت ہونا نہ ہونا ایک باطنی امر ہے،جس کا ظاہری سبب سفر ہے اور ایسی صورت میں احکام کا مدار ظاہری سبب کو بنایا جاتا ہے،اس لئے سفر کے احکام کا مدار بھی مشقت کے بجائے ظاہری سبب سفر کو بنایا گیا ہے اور باطنی سبب یعنی مشقت کے حوالے سے حائضہ اور غیر حائضہ دونوں برابر ہیں۔
مذکورہ بالا وجوہ سے معلوم ہوا کہ نفسِ مسئلہ میں ” قصر ‘‘ کا قول روایت و درایت دونوں اعتبار سے قوی ہے،لہذا قصر کا قول ہی راجح ہوگا ۔
قصرِ صلاۃ کا حکم ظاہری سببِ سفر سے متعلق ہے، کشف الاسرار میں ہے:"أُضِيفَ إلَى السَّفَرِ دُونَ حَقِيقَةِ الْمَشَقَّةِ؛ لِأَنَّهَا أَمْرٌ بَاطِنٌ يَتَفَاوَتُ أَحْوَالُ النَّاسِ فِيهِ فَلَا يُمْكِنُ الْوُقُوفُ عَلَى حَقِيقَتِهِ فَأَقَامَ الشَّرْعُ السَّفَرَ الْمَخْصُوصَ مَقَامَ الْمَشَقَّةِ؛ لِأَنَّهُ سَبَبُ الْمَشَقَّةِ فِي الْغَالِبِ".ترجمہ:حکمِ رخصت سفر سے منسوب کیا جائے گا نہ کہ حقیقی مشقت کے ساتھ کیونکہ مشقت باطنی معاملہ ہے اس میں لوگوں کے احوال مختلف ہوتے ہیں پس حقیقی مشقت پر اطلاع ممکن نہ ہوئی تو شرع نے مخصوص سفر کو مشقت کے قائم مقام فرمادیا،کیونکہ سفر ہی اکثر طور پر مشقت کا سبب ہوتا ہے۔ (كشف الأسرار شرح أصول البزدوی،باب معرفة أقسام الأسباب والعلل والشروط،باب تقسیم العلۃ،4/ 200،دار الکتاب الاسلامی)
پاک ہونے والی حائضہ قصر نماز پڑھے گی،علامہ شرنبلالی رحمہ اللہ نے درر الحکام کے حاشیہ میں فرمایا:"قُلْت وَلَا يَخْفَى أَنَّهَا لَا تَنْزِلُ عَنْ رُتْبَةِ الَّذِي أَسْلَمَ فَكَانَ حَقُّهَا الْقَصْرَ مِثْلَهُ".ترجمہ:میں (علامہ شرنبلالی)کہتا ہوں کہ مخفی نہیں کہ پاک ہونے والی حائضہ عورت اس کافر کے رتبہ سے کم نہ ہوگی جو کافر مسلمان ہوا۔ پس اس کا حق اسی کی مثل قصر کرنا ہوگا۔(درر الحکام شرح غرر الاحکام،باب صلاۃ المسافر،32/1، دار إحياء الكتب العربية)
اسی طرح المحیط البرہانی میں ہے:"وفي متفرقات الفقيه أبي جعفر... وأما الحائض إذا طهرت في بعض الطريق قصرت الصلاة؛ لأنها مخاطبة".ترجمہ:متفرقاتِ فقیہ ابو جعفر میں ہے حائضہ جب دوران سفر پاک ہوگئی تو قصر نماز پڑھے گی کیونکہ دورانِ حیض بھی وہ مخاطب شریعت ہے۔(المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی،كتاب الصلاۃ،الفصل الثاني والعشرون في صلاة السفر،2/40،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اشکال:حائضہ عورت کو کافر پر قیاس کرنا درست نہیں،فتاوی شامی میں ’’نہج النجاة“کے حوالے سے بیان ہواکہ :’’اگرچہ دونوں (کافرو حائضہ) اہل نیت میں سے ہیں لیکن عورت کا مانع سماوی ہے یعنی وہ ابتداء سے مانع کے زائل کرنے پر قادر نہیں تھی، پس اس کی اوّل وقت سے نیت لغو ہو گی۔جبکہ کافر کو کوئی سماوی مانع نہیں بلکہ وہ ابتداء سے ہی مانع کے زائل کرنے پر قادر ہے ،لہذا اس کی نیت صحیح ہو گی ۔
جواب: یہاں حکم کا مدار مانع سماوی و غیر سماوی پر نہیں بلکہ اہلیت وجوب پر ہے جو کہ کافرو حائضہ دونوں میں موجود ہے۔یعنی اگر مانعِ سماوی کی بنیاد پر عورت کی نیت کو لغو قرار دینا درست مانا جائے تو تکلیف ما لا یطاق لازم آئے گا اس لئے کہ عورت پر ان ایام میں رہ جانے والے روزوں کی قضاء ہوتی ہے اور قضاء کیلئے وجوب ثابت ہونا لازم ہے اور ایسی صورت میں روزوں کا وجوب اس حالت میں ہو گا جس میں وہ ادائیگی کی اہل ہی نہیں،لہذا عورت سے ایسی چیز کا شرعی مطالبہ ہوگا جس کی ادائیگی کی وہ اہل نہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:8 جمادی الآخر1445 ھ/22 دسمبر2023ء