بغیر وضو موبائل پر قرآن پڑھنے اور چھونے کا حکم
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 259

    سوال

    موبائل میں موجود قرآن پاک کو بغیر وضو پڑھنااور چھونا، ہاتھ لگانا جائز ہےیا نہیں ؟

    سائل:متعلم جامعہ نعیمیہ:لاہور


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قرآن مجید بلاوضو زبانی پڑھناتو بالاتفاق جائز ہے۔البتہ بغیر وضو چھونا اور ہاتھ لگانا حرام اور گناہ ہے ۔ قال اللہ تعالٰی : لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ۔ ترجمہ کنزالایمان : اسے نہ چھوئیں مگر باوضو۔(الواقعہ:79)

    حاشیہ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح میں ہے:ويحرم على المحدث ثلاثة أشياء:1:الصلاة. 2:والطواف. 3:ومس المصحف القرآن ولو آيةإلا بغلاف.ترجمہ:اور بے وضو شخص کے لئے تین کام حرام ہیں ۔1: نماز پڑھنا۔2:طواف کرنا ۔قرآن مجید اگرچہ ایک آیت ہو اسکو بلاغلاف چھونا۔(حاشیہ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح، ص 148)

    قرآن مجید کو ایسی چیز کے ساتھ چھونا جائز ہے، جو قرآن سے جدا ہو جیسے کوئی کپڑا یا ایسا غلاف جو قرآن مجید سے منفصل ہو۔ اسکی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قرآن مجید یا قرآنی آیت کسی شیشے کے نیچے ہو اور اس شیشے کو چھوا جائے تو یہ بلاکراہت جائز ہوگا ۔ اسی کی ایک صورت موبائل میں موجود قرآن مجید کی ہوتی ہے کیونکہ موبائل میں موجود قرآن مجید کے نظر آنے والے الفاظ حقیقتا الفاظ قرآن نہیں ہوتے بلکہ وہ ان الفاظ کا عکس ہوتے ہیں ۔ لہذا انکا حکم حقیقی الفاظ قرآن والا نہ ہوگا۔اسکی نظائر کتب فقہ میں صراحت کے ساتھ مذکور ہیں چناچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:حرمة مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به۔ترجمہ: حیض ونفاس والی کے لئے ،جنبی کے لئے ،اوربے وضو کے لئے قرآن چھونا حرام ہے۔لیکن اگر قرآن مجید ایسے غلاف کے ساتھ جو اس سے الگ ہوجیسے جزدان اوروہ جلد جو قرآن کے ساتھ لگی ہوئی نہ ہوتو اسکا چھونا جائز ہے۔ اور جو غلاف قرآن مجید سے جُڑا ہوا ہوتا ہےاسکے ساتھ چُھونا جائز نہیں ہے۔(الفتاوٰی الھندیہ، کتاب الطہارۃ،الفصل الرابع فی احکام الحیض والنفاس جلد 1 ص 39)

    یوں ہی شامی میں ہے: لَوْ كَانَ الْمُصْحَفُ فِي صُنْدُوقٍ فَلَا بَأْسَ لِلْجُنُبِ أَنْ يَحْمِلَهُ۔ترجمہ:اگر قرآنِ کریم کسی بکس کے اندر ہو تو جنبی کے لیے اس بکس کو چھونے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔(الدر المختار مع ردالمحتار ،باب الحیض ،جلد 1 ص 293)

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے: (وَ) يَحْرُمُ (بِهِ) أَيْ بِالْأَكْبَرِ (وَبِالْأَصْغَرِ) مَسُّ مُصْحَفٍ: أَيْ مَا فِيهِ آيَةٌ كَدِرْهَمٍ وَجِدَارٍ، (إلَّا بِغِلَافٍ مُتَجَافٍ) غَيْرِ مُشَرَّزٍأَوْ بِصُرَّةٍ بِهِ يُفْتَى۔ ترجمہ:حدث اکبر (بلاغسل)اورحدث اصغر(بلا وضو) قرآن مجید کو چھونا حرام ہے ،یعنی اگر چہ ایک آیت ہو جیسے درہم اور دیوار وغیرہ پر کوئی آیت ہو۔ مگر یہ کہ ایسا غلا ف ہو جو قرآن سے جدا اور الگ ہو قرآن اس میں سلا ہوا نہ ہو۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار ،سنن الغسل، جلد 1 ص 173)

    اسکے تحت علامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی لکھتے ہیں : واختاره في الكافي معللاً بأن المس اسم للمباشرة باليد بلا حائل۔ ترجمہ:کافی میں اس مسئلہ کی علت میں اس بات کو پسند فرمایا ہے کہ مس یعنی چھونا نام ہے کہ کسی چیز کو بغیرکسی رکاوٹ کے بلاواسطہ ہاتھ لگانے کا۔ (تنویر الابصار مع الدرالمختار ،سنن الغسل، جلد 1 ص 174)

    اقول: یہ بات اظہر من الشمس اورابین من الامس ہے کہ موبائل میں قرآن کےالفاظ چھونا بلاحائل نہیں ہوتا بلکہ درمیان میں اسکرین یعنی شیشہ حائل ہوتاہے ۔ اس صورت میں مس کا معنٰی متحقق نہ ہوگا۔ لہذا معلوم یہ ہوا کہ موبائل میں موجود قرآن مجید کوبلاوضو چھونا حرام نہیں ہے ۔وللہ العلم کلہ

    نوٹ : ہماری مذکورہ ساری گفتگو کا مدار جواز و عدم جواز پر ہے۔ لیکن جہاں تک قرآن کے ادب کی بات ہے تو بلاشبہ بندہ زبانی پڑھے یا موبائل میں اسے چاہیے کہ کامل وضو کرکے پڑھے ۔ کہ قرآن مجید رب کریم کی لاریب و بے عیب و ذیشان کتاب ہے ، اسکی شان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اسے ہر حال میں باوضو ہی پڑھا جائے۔

    واﷲ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی

    تاریخ اجراء:24 جمادی الاول 1441 ھ/20 جنوری 2020ء