سوال
(1) بعض اوقات امام صاحب جو حافظ بھی ہوتے ہیں کو جو خاص رقم دی جاتی ہے اس کے بعد سالانہ رمضان کا بونس یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ اسی رقم میں بونس بھی شامل ہے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ کیا امام و مؤذن سالانہ رمضان کے بونس کے مستحق ہیں یا یہ محض تبرع ہے؟
(2) یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ امام و مؤذن صاحبان کی تنخواہ کتنی ہونی چاہئے؟ بعض علماء کا کہنا ہے کہ عرف کے مطابق دی جائے اور عموما ہمارے ہاں جتنا امام و مؤذن صاحبان کی تنخواہ مقرر کی جاتی ہے اس سے 5 افراد کی فیملی کا خرچ بھی ممکن نہیں ہوتا بلکہ قرض لینا پڑتا ہے۔
سائل: عبد اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(1) امام وموذن جنہیں ہمارے عرف میں سالانہ بونس رمضان میں دیا جاتا ہے وہ اس کے مستحق ہیں یہ محض تبرع نہیں کہ غیر منصوص علیہ مسائل میں عرف مستقل دلیل شرعی ہے۔ لہذا اگر کوئی امام صاحب تراویح بھی پڑھاتے ہیں تو انہیں محض 27 ویں کے چندے سے ہدیہ دینا اور بونس نہ دینا اس صورت میں جائز نہ ہوگا جبکہ وہ ہدیہ بونس کے برابر نہ ہو کہ بونس عرف کی بنا پر حق ثابت ہو چکا لیکن اگر بونس کے برابر ہو تو مزید مال کا تقاضا روا نہیں کہ بغیر حیلہ شرعی کے تراویح کا عوض لینا قرار پائے گا ۔لیکن اگر مذکورہ بالا حیلہ شرعیہ کے مطابق باقاعدہ تنخواہ مقرر کی ہو تو مزید مال کا تقاضا ان کا حق ہے نہ دینے والا ظالم۔
خیال رہے کہ وقف کے ملازمین کا معاملہ عام ملازمین یا اجیر کی طرح نہیں ہوتا ، وقف کے ملازمین کو جو وظیفہ دیا جاتا ہے وہ ایک جہت سے اجرت اور دوسری جہت سے صلہ ہوتا ہے، جیسے قاضی اور دیگر ایسے لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے کام کیلئے فارغ کیا ہو ، تو ان کو بیت المال (مال وقف) سے اتنا وظیفہ دیا جائے گا جس سے ان کی اور ان کے زیر کفالت افراد کی جملہ ضروریات با آسانی پوری ہو جائیں،یہ وظیفہ بطور صلہ کے ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے کاموں کیلئے فارغ کیا ہے ، لہذا ان کے اخراجات بھی مسلمانوں کے مال سے ادا کئے جائیں گے۔ ہمارے معاشرے میں مساجد ومدارس میں ماہ رمضان میں بونس دینے کا عرف ہے تا کہ رمضان اور عید کے اضافی اخراجات با آسانی پورے ہو جائیں اسی طرح دنیاوی اداروں میں بھی سال کی ابتداء یا اختتام پر بونس دینے کا عرف ورواج ہے۔
وقف کا ملازم محض اجیر نہیں ہوتا،علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "وَفِي الْأَشْبَاهِ الْجَامِكِيَّةِ فِي الْأَوْقَافِ لَهَا شَبَهُ الْأُجْرَةِ أَيْ فِي زَمَنِ الْمُبَاشَرَةِ وَالْحِلِّ لِلْأَغْنِيَاءِ، وَشَبَهُ الصِّلَةِ فَلَوْ مَاتَ أَوْ عُزِلَ لَا تُسْتَرَدُّ الْمُعَجَّلَةُ".ترجمہ: اشباہ میں ہے ( اوقاف سے وظیفہ پانے والوں کو جو ملتا ہے ) وہ اجرت کے مشابہ ہے ، جن دنوں وہ کام کریں ، اور وہ اغنیاء کیلئے حلال ہے اور وہ صلہ کے بھی مشابہ ہے، لہذا اگر وہ انتقال کر جائے یا معزول کر دیا جائے تو جو پیشگی اجرت دی گئی وہ واپس نہیں لی جائے گی(اگر وہ محض اجرت ہوتی تو وہ واپس لینا لازم آتا)۔ (الدرالمختار،کتاب الوقف، مطلب استأجر دارا فيها أشجار ، 4/434-435،دار الفکر)
معروف چھٹی میں بھی وقف کے ملازمین تنخواہ ضرور پائیں گے،امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’تعطیلات معہودہ مثل تعطیل ماه مبارک رمضان و عیدین وغیر ہا کی تنخواہ مدرسین کو بیشک دی جائے گی فان المعهود عرفا كمشروط مطلقا ( یعنی عرف میں معلوم متعین چیز مطلقا مشروط کی طرح ہے)۔ (فتاوی رضویہ ، 19/338، رضا فاؤنڈیشن لاہور )
(۳) وقف کے ملازمین دو اقسام کے ہیں۔ پہلے مستقل اور دوسرے عارضی۔وقف کے مستقل ملازمین کی تنخواہ بقدر کفایت ہے یعنی جو انہیں کافی ہو اور وقف کے عارضی ملازم کی اجرت عرف کے مطابق ہے۔ لہذا اگر امام ومؤذن جو کہ وقف کے مستقل ملازم ہیں کو مثلاًلاکھ روپے ماہانہ کفایت کرتے ہیں جبکہ امام موذن کی تنخواہ کا عرف 25 یا 15 ہزار ہے تو انہیں 25 یا 15 ہزار کے بجائے بقدر کفایت دیا جائے گا تاکہ وقف معطل کرنا لازم نہ آئے۔اور عارضی ملازم مثلاً مسجد میں رنگ کرنے والا کی اجرت اگر عرف میں 25 ہزار ہے لیکن اسے 50 ہزار کفایت کرتے ہیں تو اسے 25 ہزار سے زائد نہیں دیا جائے گا کہ وہ عارضی ملازم ہے۔
وقف کے مستقل ملازمین کو بقدرِ کفایت تنخواہ دی جائے گی، علامہ حصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "(وَيَبْدَأُ مِنْ غَلَّتِهِ بِعِمَارَتِهِ) ثُمَّ مَا هُوَ أَقْرَبُ لِعِمَارَتِهِ كَإِمَامِ مَسْجِدٍ وَمُدَرِّسِ مَدْرَسَةٍ يُعْطَوْنَ بِقَدْرِ كِفَايَتِهِمْ".ترجمہ: اور وقف کی آمدنی میں سے سب سے پہلے اس کی تعمیر پر خرچ کیا جائے، پھر جو اس کی آبادی سے زیادہ قریب ہو(یعنی مصالح مسجد جن سے مسجد کو ظاہری بقاء ہو)، جیسے مسجد کا امام اور مدرسہ کا مدرس، انہیں ان کی جملہ حاجات کے مطابق مال دیا جائے۔(الدرالمختار،کتاب الوقف ، 4/366،دار الفکر)
اگر کوئی وقف کے مستقل ملازمین کو بقدرِ کفایت نہیں دیتا تو اسکے متعلق علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وَالْحَاصِلُ: أَنَّ الْوَجْهَ يَقْتَضِي أَنَّ مَا كَانَ قَرِيبًا مِنْ الْعِمَارَةِ يُلْحَقُ بِهَا فِي التَّقْدِيمِ عَلَى بَقِيَّةِ الْمُسْتَحِقِّينَ، وَإِنْ شَرَطَ الْوَاقِفُ قِسْمَةَ الرِّيعِ عَلَى الْجَمِيعِ بِالْحِصَّةِ أَوْ جَعَلَ لِلْكُلِّ قَدْرًا وَكَانَ مَا قَدَّرَهُ لِلْإِمَامِ وَنَحْوِهِ لَا يَكْفِيهِ فَيُعْطِي قَدْرَ الْكِفَايَةِ لِئَلَّا يَلْزَمَ تَعْطِيلُ الْمَسْجِدِ فَيُقَدِّمُ أَوَّلًا الْعِمَارَةَ الضَّرُورِيَّةَ ثُمَّ الْأَهَمَّ فَالْأَهَمَّ مِنْ الْمَصَالِحِ وَالشَّعَائِرِ بِقَدْرِ مَا يُقَوَّمُ بِهِ الْحَالُ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ يُعْطَى لِبَقِيَّةِ الْمُسْتَحِقِّينَ إذْ لَا شَكَّ أَنَّ مُرَادَ الْوَاقِفِ انْتِظَامُ حَالِ مَسْجِدِهِ أَوْ مَدْرَسَتِهِ لَا مُجَرَّدُ انْتِفَاعِ أَهْلِ الْوَقْفِ وَإِنْ لَزِمَ تَعْطِيلُهُ ".ترجمہ: حاصل کلام یہ ہے کہ یہ وجہ اس کا تقاضا کرتی ہے کہ جو عمارت کے قریب ہے اسے بقیہ مستحقین پر مقدم کرنے میں عمارت کے ساتھ ملایا جائے گا۔ اور اگر واقف نے پیداوار کو تمام پر حصہ کے مطابق تقسیم کرنے کی شرط لگائی یا تمام کے لئے مقدار مقرر کر دی اور جو اس نے امام وغیرہ کے لئے مقرر کی وہ اسے کافی نہیں ہو سکتی تو اسے کفایت کی مقدار دیا جائے گا تاکہ مسجد کو ویران کرنا لازم نہ آئے ۔ پس پہلے ضروری تعمیر اور مرمت کو مقدم کیا جائے گا اور پھر مصالح اور شعائر میں سے جو زیادہ اہم ہو گی اتنی مقدار کے ساتھ جس کے ساتھ حال قائم رہ سکے (یعنی اس کی آبادی میں خلل واقع نہ ہو) پھر اگر کوئی شے بچ جائے تو بقیہ مستحقین کو دی جائے گی۔ کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ واقف کی مراد اپنی مسجد یا مدرسہ کی حالت کا انتظام کرنا ہے نہ کہ صرف اہل وقف کیلئے نفع کا حصول اگر چہ اسے معطل اور ویران کرنا لازم آئے ۔ (رد المحتار، کتاب الوقف، مطلب یبدا من غلۃ الوقف بعمارتہ، 4/368، دار الفکر) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 26رمضان المبارک 1446 ھ/27 مارچ 2025ء