قربانی کے جانور سے نفع لینے کی تحقیق
    تاریخ: 29 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 455

    سوال

    بعض کا کہنا ہے کہ عام طور پر کتب فقہ میں جو ذبح سے پہلے قربانی کے جانور سے انتفاع (دودھ وغیرہ کی صورت میں)کو مکروہ لکھا ہے یہ کراہتاپنے اطلاق پر نہیں ہے، بلکہ اس کو فتاوی ہندیہ کی عبارت کے ساتھ مقید کیا جائےگا یعنی اگر قربانی کے جانور کو چارہ خرید کر کھلا رہا ہو تو اس کا دودھ وغیرہ استعمال کر سکتا ہے، البتہبہتر یہ ہے کہ اس صورت میں بھی دودھ وغیرہ استعمال نہ کرے،اس طرح ہندیہ اور دوسرے فتاوی کی عبارات میں تطبیق ہو جائے گی۔کیا یہ قول درست ہے؟

    سائل: عبد اللہ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    محرّر مذہبِ حنفیہ امام محمد رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ الأصل‘‘میں صراحتاً فرماتے ہیں کہ قربانی اور بَدنہ کے جانور سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو اس پر صدقہ کرنا لازم ہے۔اسی لئے کثیر فقہی کتب اس سے مملو ہیں جہاں کسی قید کے بغیر مطلقاً جانور سے فائدہ اٹھانے کو ناجائز کہا گیا ہے۔ مثلاً: حاشیہ الدر المنتقی، فتاویٰ ظہیریہ، ہدایہ، فتاویٰ رضویہ، بہار شریعت وغیرہا۔

    فتاویٰ ہندیہ میں دونوں قول (ممانعت واباحت) موجود ہیں اور جو اباحت میں قید لگائی گئی ہے، یہ المحیط الرضوی سے ماخوذ ہے۔ المحیط الرضوی میں اس قول کے ساتھ مطلقاً ممانعت کا قول بھی علت کے ساتھ موجود ہے، جبکہ یہ قول بغیر عّلت کے ہے۔ ممانعت کی علت یہ ہے کہ جب قربانی کے جانور میں قربت (نیکی) متعین ہو گئی، تو اس کے تمام اجزاء میں وہ سرایت کر گئی۔ لہٰذا، اراقۃ الدم (خون بہانے) سے پہلے کسی بھی جزو سے فائدہ اٹھانا اس قربت میں خلل انداز ہو گا، اسی لیے یہ مکروہ ہے۔ اسی طرح خلاصۃ الفتاویٰ کا حال ہے جس میں دونوں قول موجود ہیں۔ ایک ممانعت کا قول علت کے ساتھ ہے جبکہ اباحت کا بغیر علت کے۔المحیط البرہانی میں بھی یہ دونوں قول موجود ہیں اور اباحت کا بغیر علت کے ہے۔ لیکن وہاں انہوں نے صراحت کی ہے کہ یہ قول امام بقّالی (زین المشائخ ابو الفضل محمد بن ابی القاسم بن بابجوك البقالی الخوارزمی) نے اپنی کتاب ’’ الفتاویٰ‘‘میں ذکر کیا ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ قید امام بقّالی رحمۃ اللہ علیہ نے لگائی ہے کسی اور نے نہیں۔

    صرف چارہ دینے یا نہ دینے کا فرق نہیں بلکہ دیگر کتب میں بعض مشائخ احناف سے ایک اور فرق بھی بیان کیا گیا ہے جو قابلِ فہم ہے۔ وہ قول یہ ہے کہ فقیر یا نذر ماننے والے غنی وفقیر کے لیے قربانی کے جانور سے فائدہ اٹھانا مکروہ ہے، جبکہ غنی صاحب نصاب کا فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غنی صاحب نصاب کے لیے جانور میں قربت متعین نہیں ہوتی، اسی لیے اسے اختیار ہے کہ اس جانور کے بدلے اس سے اچھا جانور لے سکتا ہے۔ جبکہ فقیر جس نے قربانی کی نیت سے جانور لیا یا غنی وفقیر جنہوں نے جانور کی نذر مان لی، وہ اسے تبدیل نہیں کر سکتے۔ اس قول کو تبیین الحقائق اور المحیط البرہانی میں نقل کیا گیا ہے۔ اور رد المحتار اور بدائع الصنائع میں اس قول کو نقل کرکے اس کی تائید کی گئی ہے۔

    البتہ، فتاویٰ غیاثیہ میں امام زعفرانی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ یہ فرق بھی نہیں، بلکہ غنی اور فقیر دونوں کا فائدہ اٹھانا مطلقاً منع ہے، اور یہی ظاہر الروایہ کے مناسب ہے کہ ’’ الأصل‘‘میں مطلقاً کراہت بیان ہوئی۔

    حاصل کلام یہ ہے کہ قربانی کے جانور سے فائدہ اٹھانے میں چارہ دینے نہ دینے کی قید یا غنی اور فقیر کی قید درست نہیں، بلکہ مفتیٰ بہ قول یہی ہے کہ مطلقاً فائدہ اٹھانا منع ہے۔

    دلائل وجزئیات:

    محرّر مذہب حنفیہ امام محمد رحمہ اللہ الأصل میں فرماتے ہیں: "وَإِذا مَاتَ أحد الشُّرَكَاء فِي الْبَدنَة أَو الْأُضْحِية فَرضِي وَارثه فنحرهاعَن الْمَيِّت مَعَهم أجزاهم وَإِن كَانَ أحد الشُّرَكَاء فِي الْبَدنَة كَافِرًا أَو مُسلما يُرِيد اللَّحْم دون الْهَدْي لم يجزهم. وَلَا يركب الْبَدنَة وَلَا يحلب وَلَكِن ينضح ضرْعهَا بِالْمَاءِ الْبَارِد حَتَّى يَتَقَلَّص وَيذْهب لَبنهَا وَمَا حلب قبل ذَلِك تصدق بِهِ أَو بِقِيمَتِه إِن كَانَ قد اسْتَهْلكهُ وَإِن ركبهَا أَو حمل مَتَاعه عَلَيْهَا للضَّرُورَة ضمن مَا نَقصهَا ذَلِك".ترجمہ: اگر بَدنہ (حج کی قربانی) یا مطلقا قربانی میں کوئی شریکِ حصص فوت ہو جائے اور اس کا وارث اس سے راضی ہو کر مورث کی طرف سے باقی شرکاء کے ساتھ قربانی کرے، تو یہ سب کے لیے کافی ہوگا۔ لیکن اگر بَدنہ میں کوئی شریکِ حصص کافر ہو یا کوئی مسلمان محض گوشت کے لیے قربانی کرے نہ کہ ہَدی کی نیت سے، تو یہ ان کے لیے کافی نہ ہوگا۔ بَدنہ پر سواری نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اس کا دودھ دوہا جائے گا، بلکہ اس کے تھن پر ٹھنڈا پانی چھڑکا جائے گا تاکہ وہ سکڑ جائے اور اس کا دودھ خشک ہو جائے۔ اگر اس سے پہلے دودھ دوہا گیا ہو، تو اسے صدقہ کر دیا جائے گا یا اگر وہ استعمال ہو چکا ہو تو اس کی قیمت صدقہ کی جائے گی۔ اگر ضرورت کی وجہ سے اس پر سواری کی گئی یا اس پر سامان لادا گیا، تو اس سے جو کمی واقع ہوئی اس کا ضمان دیا جائے گا۔(الاصل للامام محمد ، کتاب المناسک، باب النذر، 2/414، عالم الکتب)

    حاشیہ الدر المنتقی میں ہے: "وفي التنوير، ولا يعطى أجر الجزار منها ويكره جز صوفها قبل الذبح لينتفع به بخلاف ما بعده، ويكره الانتفاع بلبنها قبله ".ترجمہ: التنویر میں ہے کہ قربانی کے عین جانور سے قصاب کی اجرت نہیں دی جائے گی، اور اس کے ذبح سے پہلے اس کی اون کاٹنا مکروہ ہے تاکہ اس سے نفع اٹھایا جائے، البتہ ذبح کے بعد یہ جائز ہے۔ اسی طرح، ذبح سے پہلے اس کے دودھ سے نفع اٹھانا بھی مکروہ ہے۔ (حاشیہ الدر المنتقی علی مجمع الانهر ، کتاب الاضحیۃ، 4/175،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    فتاوی ظہیریہ میں ہے: "ولو حلب اللبن من الاضحية قبل الذبح او جر صوفها يتصدق به ولا ينتفع ".ترجمہ: اگر قربانی کے جانور کا دودھ ذبح سے پہلے دوہا جائے یا اس کی اون کتر لی جائے، تو اسے صدقہ کر دیا جائے گا اور اس سے نفع نہیں اٹھایا جائے گا۔ (فتاوی ظہیریہ مخطوط ، کتاب الاضحیۃ،الفصل الرابع)

    ہدایہ میں ہے: "ويكره أن يجز صوف أضحيته وينتفع به قبل أن يذبحها" لأنه التزم إقامة القربة بجميع أجزائها، بخلاف ما بعد الذبح لأنه أقيمت القربة بها كما في الهدي، ويكره أن يحلب لبنها فينتفع به كما في الصوف". ترجمہ: قربانی کے جانور کی اون کاٹنا اور اس سے ذبح سے پہلے نفع اٹھانا مکروہ ہے، کیونکہ قربانی کرنے والے نے اس کے تمام اجزاء کے ساتھ قربت قائم کرنے کا التزام کیا ہوتا ہے۔ البتہ، ذبح کے بعد یہ جائز ہے، کیونکہ اس وقت قربانی کے ذریعے قربت حاصل ہو چکی ہوتی ہے، جیسا کہ ہدی (حج کی قربانی) کے بارے میں ہے۔ اسی طرح، اس کا دودھ دوہ کر اس سے نفع اٹھانا بھی مکروہ ہے، جیسا کہ اون کے بارے میں ہے۔ (الہدایۃ، کتاب الاضحیۃ، 4/361، دار احياء التراث العربي)

    فتاوی رضویہ میں ہے:والسرفی ذٰلک مایستفاد من کلمات العلماء الکرام ان اصل القربۃ فی الاضحیۃ انما تقوم باراقۃ الدم لوجہ ﷲ تعالی فمالم یرق لایجوز الانتفاع بشیئ منہ حتی الصوف واللبن وغیر ذٰلک لانہ نوی اقامۃ القربۃ بجمیع اجزائھا.ترجمہ : اور قربانی کے جانور سے انتفاع کی ممانعت کا راز جو کلماتِ فقہاء سے مستفاد ہوتاہے وہ یہ ہے کہ قربانی کی نیکی اسی صورت میں مکمل ہوتی ہے جب اللہ کی رضا کےلیے جانور کا خون بہا دیا جائے ، تو جب تک یہ قربت واقع نہیں ہو گی ، قربانی کے جانور سے ہر قسم کا نفع اٹھانا ، جائز نہیں ہو گا ، حتی کہ اُون اور دودھ وغیرہ سے بھی ، اس لیے کہ جو انسان قربانی کا جانور خریدتا ہے وہ اس کے تمام اجزا کے ساتھ قربت یعنی نیکی کرنے کی نیت کر چکا ہوتا ہے،ا س لیے جب تک جانور سے یہ اصلِ غرض حاصل نہیں ہوتی ، اس سے ہر قسم کا انتفاع مطلقا منع ہے‘‘۔(فتاویٰ رضویہ، 20/511-512، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    بہار شریعت میں ہے:”جانور دودھ والا ہے تو اُس کے تھن پر ٹھنڈا پانی چھڑکے کہ دودھ خشک ہو جائے اگر اس سے کام نہ چلے ، توجانور کو دوہ کر دودھ صدقہ کرے“۔ (بہار شریعت، 3/347، مکتبۃ المدینہ ، کراچی )

    فتاوی ہندیہ میں ہے:" وَلَوْ حَلَبَ اللَّبَنَ مِنْ الْأُضْحِيَّةِ قَبْلَ الذَّبْحِ أَوْ جَزَّ صُوفَهَا يَتَصَدَّقُ بِهِ، وَلَا يَنْتَفِعُ بِهِ، كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ. وَإِذَا ذَبَحَهَا فِي وَقْتِهَا جَازَ لَهُ أَنْ يَحْلِبَ لَبَنَهَا وَيَجُزَّ صُوفَهَا وَيَنْتَفِعَ بِهِ؛ لِأَنَّ الْقُرْبَةَ أُقِيمَتْ بِالذَّبْحِ، وَالِانْتِفَاعُ بَعْدَ إقَامَةِ الْقُرْبَةِ مُطْلَقٌ كَالْأَكْلِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ. وَإِنْ كَانَ فِي ضَرْعِهَا لَبَنٌ وَيُخَافُ يَنْضَحُ ضَرْعَهَا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ، فَإِنْ تَقَلَّصَ وَإِلَّا حَلَبَ وَتَصَدَّقَ، وَيُكْرَهُ رُكُوبُهَا وَاسْتِعْمَالُهَا كَمَا فِي الْهَدْيِ، فَإِنْ فَعَلَ فَنَقَصَهَا فَعَلَيْهِ التَّصَدُّقُ بِمَا نَقَصَ، وَإِنْ آجَرَهَا تَصَدَّقَ بِأَجْرِهَا، وَلَوْ اشْتَرَى بَقَرَةً حَلُوبَةً وَأَوْجَبَهَا أُضْحِيَّةً فَاكْتَسَبَ مَالًا مِنْ لَبَنِهَا يَتَصَدَّقُ بِمِثْلِ مَا اكْتَسَبَ وَيَتَصَدَّقُ بِرَوْثِهَا، فَإِنْ كَانَ يَعْلِفُهَا فَمَا اكْتَسَبَ مِنْ لَبَنِهَا أَوْ انْتَفَعَ مِنْ رَوْثِهَا فَهُوَ لَهُ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِشَيْءٍ، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ".ترجمہ: اگر قربانی کے جانور کا دودھ ذبح سے پہلے دوہا جائے یا اس کی اون کتری جائے، تو اسے صدقہ کرنا ہوگا اور اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں، جیسا کہ «الظہیریۃ» میں ہے۔ لیکن اگر قربانی اپنے وقت پر ذبح کر لی جائے، تو اس کے بعد اس کا دودھ دوہنا، اون کاٹنا اور ان سے نفع اٹھانا جائز ہے، کیونکہ ذبح کے ذریعے قربت حاصل ہو چکی ہوتی ہے، اور قربت کے قیام کے بعد نفع اٹھانا جائز ہے، جیسے گوشت کھانا، جیسا کہ «المحیط» میں ہے۔ اگر جانور کے تھن میں دودھ ہو اور اس کے نکلنے کا اندیشہ ہو، تو اس پر ٹھنڈا پانی چھڑکا جائے، اگر تھن سکڑ جائے تو ٹھیک، ورنہ دودھ دوہ کر صدقہ کیا جائے۔ قربانی کے جانور پر سواری کرنا یا اسے استعمال کرنا مکروہ ہے، جیسا کہ ہدی (حج کی قربانی) کے بارے میں ہے۔ اگر اس سے نقصان ہوا تو اس کی تلافی صدقہ کے ذریعے کرنی ہوگی۔ اگر جانور کرائے پر دیا گیا تو اس کی اجرت صدقہ کی جائے گی۔ اگر کسی نے دودھ دینے والی گائے خریدی اور اسے قربانی کے لیے واجب کیا، تو اس کے دودھ سے حاصل ہونے والا مال صدقہ کرنا ہوگا، اور اس کی گندگی بھی صدقہ کی جائے گی۔ لیکن اگر وہ اسے چارہ کھلا رہا ہو اور دودھ یا گندگی سے نفع اٹھائے، تو یہ اس کے لیے جائز ہے اور اسے کچھ صدقہ نہیں کرنا، جیسا کہ «محیط السرخسی» میں ہے۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الاضحیۃ ،الفصل السادس،5/301،دارالفکر)

    خلاصۃ الفتاوی میں ہے: "وفي الاصل يكره ان يجلب الاضحية ويجز صوفها قبل الذبح وينتفع به وان فعل ذلك تصدق به... وما اصاب من لبنها تصدق مثله او قيمته وكذا الاوبار الا ان يعلفها بقدرها “. ترجمہ: «الأصل» میں ہے کہ قربانی کے جانور کا دودھ دوہنا یا اس کی اون کاٹنا اور اس سے ذبح سے پہلے نفع اٹھانا مکروہ ہے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے صدقہ کرنا ہوگا۔ اسی طرح، اگر اس کے دودھ سے کچھ حاصل کیا تو اس کے مثل یا اس کی قیمت صدقہ کی جائے گی، اور اسی طرح اس کی اون کے بارے میں بھی حکم ہے، الا یہ کہ وہ اسے اس کے بقدر چارہ کھلائے (تو پھر صدقہ لازم نہیں)۔( خلاصۃ الفتاوی،کتاب الاضحیۃ، الفصل السادس، 4/321،مکتبہ رشیدیہ)

    المحيط الرضوی للإمام رضی الدين السرخسی میں ہے: "ويكره أن يجلب الأضحية وقد التزم تنفيذ القربة في جميع أجزائها بإراقة الدم فيكره فصل جزء منها قبل تنفيذ القربة فيها، فأما الموسر إذا عين شاة للأضحية لا يتعين فقيل الذبح هذه وغيرها سواء وإن كان في ضرعها لبن وهو يخاف ينضح ضرعها بالماء البارد، فإن تقلص وإلا حلب وتصدق لأن دفع الضرر عنها واجب، ويكره ركوبها واستعمالها كما في الهدي، فإن فعل فنقصها فعليه التصدق بما نقص وإن أجرها تصدق بأجرها. ولو اشترى بقرة حلوبة وأوجبها أضحية فاكتسب مالا من لبنها أو انتفع من روثها فهو له ولا يتصدق بشيء ".ترجمہ: قربانی کے جانور کا دودھ دوہنا مکروہ ہے، کیونکہ قربانی کرنے والے نے اس کے تمام اجزاء کے ساتھ قربت قائم کرنے کا التزام کیا ہوتا ہے، جو خون بہانے سے مکمل ہوتی ہے، لہٰذا اس سے پہلے کسی حصے کو الگ کرنا مکروہ ہے۔ اگر موسر (غنی) نے کوئی بکری قربانی کے لیے متعین کی، تو وہ خاص طور پر واجب نہیں ہوتی، اور اسے یا کسی اور جانور کو ذبح کرنا برابر ہے۔ اگر اس کے تھن میں دودھ ہو اور نکلنے کا اندیشہ ہو، تو اس پر ٹھنڈا پانی چھڑکا جائے؛ اگر تھن سکڑ جائے تو ٹھیک، ورنہ دودھ دوہ کر صدقہ کیا جائے، کیونکہ جانور کو نقصان سے بچانا واجب ہے۔ قربانی کے جانور پر سواری کرنا یا اسے استعمال کرنا مکروہ ہے، جیسا کہ ہدی (حج کی قربانی) میں ہے۔ اگر اس سے نقصان ہوا تو اس کی تلافی صدقہ سے کرنی ہوگی، اور اگر جانور کرائے پر دیا گیا تو اس کی اجرت صدقہ کی جائے گی۔ البتہ، اگر کسی نے دودھ دینے والی گائے خریدی اور اسے قربانی کے لیے واجب کیا، تو اس کے دودھ سے حاصل ہونے والا مال یا اس کی گندگی سے نفع اٹھانا اس کے لیے جائز ہے، اور اسے کچھ صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ (المحيط الرضوي ،کتاب الاضحیۃ، باب ما یکرہ من الانتفاع ، 6/67-68، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    المحیط البرہانی میں ہے: "قال البقالي في «كتابه» : وما أصاب من لبنها تصدق بمثله أو قيمته، وكذا الأرواث إلا أن يعلفها بقدرها".ترجمہ: امام البقّالی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا: قربانی کے جانور کے دودھ سے جو کچھ حاصل ہو، اس کے مثل یا اس کی قیمت صدقہ کی جائے گی، اور اسی طرح اس کی گندگی (روث) کے بارے میں بھی حکم ہے، الا یہ کہ وہ اسے اس کے بقدر چارہ کھلائے (تو پھر صدقہ لازم نہیں)۔

    (المحیط البرہانی، کتاب الاضحیۃ، الفصل السادس الانتفاع بالاضحیۃ،8/470،مکتبۃ الرشد الریاض)

    تبیین الحقائق میں ہے: "وَيُكْرَهُ لَهُ الِانْتِفَاعُ بِلَبَنِهَا كَمَا فِي الصُّوفِ، وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ أَجَازَ الِانْتِفَاعَ لِلْغَنِيِّ بِلَبَنِهَا وَصُوفِهَا؛ لِأَنَّ الْوَاجِبَ فِي حَقِّهِ فِي الذِّمَّةِ فَلَا يَتَعَيَّنُ". ترجمہ: قربانی کے جانور کے دودھ سے نفع اٹھانا مکروہ ہے، جیسا کہ اس کی اون کے بارے میں ہے۔ لیکن ہمارے بعض اصحاب نے غنی کے لیے اس کے دودھ اور اون سے نفع اٹھانے کی اجازت دی ہے، کیونکہ اس کے حق میں قربانی کا وجوب ذمہ پر ہے، لہٰذا وہ (جانور) خاص طور پر متعین نہیں ہوتا۔ (تبیین الحقائق، کتاب الاضحیۃ، 6/487، مرکز اہل السنۃ برکات رضاہند)

    رد المحتار میں ہے:" وَالْجَوَابُ أَنَّ الْمُشْتَرَاةَ لِلْأُضْحِيَّةِ مُتَعَيِّنَةٌ لِلْقُرْبَةِ إلَى أَنْ يُقَامَ غَيْرُهَا مَقَامَهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ الِانْتِفَاعُ بِهَا مَا دَامَتْ مُتَعَيِّنَةً وَلِهَذَا لَا يَحِلُّ لَهُ لَحْمُهَا إذَا ذَبَحَهَا قَبْلَ وَقْتِهَا بَدَائِعُ، وَيَأْتِي قَرِيبًا أَنَّهُ يُكْرَهُ أَنْ يُبَدِّلَ بِهَا غَيْرَهَا فَيُفِيدُ التَّعَيُّنَ أَيْضًا، وَبِهِ انْدَفَعَ مَا مَرَّ عَنْ الْمِنَحِ فَتَدَبَّرْ".ترجمہ: جواب یہ ہے کہ قربانی کے لیے خریدا گیا جانور قربت کے لیے متعین ہوتا ہے جب تک کہ اس کی جگہ کوئی دوسرا جانور نہ لے لے، لہٰذا جب تک وہ متعین ہے، اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں۔ اسی وجہ سے اگر اسے اس کے وقت سے پہلے ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت کھانا جائز نہیں، جیسا کہ «بدائع» میں ہے۔ اور جلد ہی یہ بات آئے گی کہ اسے کسی دوسرے جانور سے بدلنا مکروہ ہے، جو اس کے تعین کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اس سے وہ بات رد ہو جاتی ہے جو «المنح» میں گزری، لہٰذا غور کرو۔ (رد المحتار، کتاب الاضحیۃ، 9/476، مکتبہ امدادیہ ملتان)

    بدائع الصنائع میں ہے: "وَلَوْ اشْتَرَى شَاةً لِلْأُضْحِيَّةِ فَيُكْرَهُ أَنْ يَحْلُبَهَا أَوْ يَجُزَّ صُوفَهَا فَيَنْتَفِعَ بِهِ لِأَنَّهُ عَيَّنَهَا لِلْقُرْبَةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُ الِانْتِفَاعُ بِجُزْءٍ مِنْ أَجْزَائِهَا قَبْلَ إقَامَةِ الْقُرْبَةِ فِيهَا، كَمَا لَا يَحِلُّ لَهُ الِانْتِفَاعُ بِلَحْمِهَا إذَا ذَبَحَهَا قَبْلَ وَقْتِهَا وَلِأَنَّ الْحَلْبَ وَالْجَزَّ يُوجِبُ نَقْصًا فِيهَا وَهُوَ مَمْنُوعٌ عَنْ إدْخَالِ النَّقْصِ فِي الْأُضْحِيَّةَ، وَمِنْ الْمَشَايِخِ مَنْ قَالَ هَذَا فِي الشَّاةِ الْمَنْذُورِ بِهَا بِعَيْنِهَا مِنْ الْمُعْسِرِ أَوْ الْمُوسِرِ أَوْ الشَّاةِ الْمُشْتَرَاةِ لِلْأُضْحِيَّةِ مِنْ الْمُعْسِرِ فَأَمَّا الْمُشْتَرَاةُ مِنْ الْمُوسِرِ لِلْأُضْحِيَّةِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَحْلُبَهَا وَيَجُزَّ صُوفَهَا؛ لِأَنَّ فِي الْأَوَّلِ تَعَيَّنَتْ الشَّاةُ لِوُجُوبِ التَّضْحِيَةِ بِهَا بِدَلِيلِ أَنَّهُ لَا تَقُومُ التَّضْحِيَةُ بِغَيْرِهَا مَقَامَهَا وَإِذَا تَعَيَّنَتْ لِوُجُوبِ التَّضْحِيَةِ بِهَا بِتَعْيِينِهِ لَا يَجُوزُ لَهُ الرُّجُوعُ فِي جُزْءٍ مِنْهَا، وَفِي الثَّانِي لَمْ تَتَعَيَّنْ لِلْوُجُوبِ بَلْ الْوَاجِبُ فِي ذِمَّتِهِ وَإِنَّمَا يَسْقُطُ بِهَا مَا فِي ذِمَّتِهِ بِدَلِيلِ أَنَّ غَيْرَهَا يَقُومُ مَقَامَهَا فَكَانَتْ جَائِزَةَ الذَّبْحِ لَا وَاجِبَةَ الذَّبْحِ، وَالْجَوَابُ عَلَى نَحْوِ مَا ذَكَرْنَا فِيمَا تَقَدَّمَ أَنَّ الْمُشْتَرَاةَ لِلْأُضْحِيَّةِ مُتَعَيَّنَةٌ لِلْقُرْبَةِ إلَى أَنْ يُقَامَ غَيْرُهَا مَقَامَهَا فَلَا يَحِلُّ الِانْتِفَاعُ بِهَا مَا دَامَتْ مُتَعَيَّنَةٌ وَلِهَذَا لَا يَحِلُّ لَهُ لَحْمُهَا إذَا ذَبَحَهَا قَبْلَ وَقْتِهَا".ترجمہ: اگر کسی نے قربانی کے لیے بکری خریدی، تو اس کا دودھ دوہنا یا اس کی اون کاٹ کر نفع اٹھانا مکروہ ہے، کیونکہ اس نے اسے قربت کے لیے متعین کیا ہے، لہٰذا قربت کے قیام سے پہلے اس کے کسی حصے سے نفع اٹھانا جائز نہیں، جیسے کہ اگر اسے وقت سے پہلے ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت کھانا جائز نہیں۔ نیز، دودھ دوہنا یا اون کاٹنا جانور میں نقص کا باعث بنتا ہے، اور قربانی کے جانور میں نقص پیدا کرنا ممنوع ہے۔ بعض مشائخ نے کہا کہ یہ حکم اس بکری کے بارے میں ہے جو نذر کی ہو، خواہ معسر (فقیر) ہو یا موسر (غنی)، یا معسر کی خریدی ہوئی قربانی کے لیے ہو۔ لیکن موسر کی خریدی ہوئی قربانی کے لیے بکری کے بارے میں اس کا دودھ دوہنا یا اون کاٹنا جائز ہے، کیونکہ پہلی صورت میں بکری وجوبِ قربانی کے لیے متعین ہوتی ہے، اس لیے کہ اس کی جگہ کوئی دوسری بکری قربانی کے لیے کافی نہیں ہوتی، اور جب وہ وجوب کے لیے متعین ہو جاتی ہے تو اس کے کسی حصے سے رجوع کرنا جائز نہیں۔ جبکہ دوسری صورت میں بکری وجوب کے لیے متعین نہیں ہوتی، بلکہ وجوب موسر کی ذمہ پر ہوتا ہے، اور یہ بکری اس ذمہ کے وجوب کو پورا کرتی ہے، کیونکہ اس کی جگہ کوئی دوسری بکری بھی قربانی کے لیے کافی ہو سکتی ہے، لہٰذا اس کا ذبح جائز ہے، نہ کہ واجب۔ لیکن اس کا جواب وہی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیا کہ قربانی کے لیے خریدی گئی بکری قربت کے لیے متعین ہوتی ہے جب تک کہ اس کی جگہ کوئی دوسری نہ لے لے، لہٰذا جب تک وہ متعین ہے، اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں، اور اسی وجہ سے اگر اسے وقت سے پہلے ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت کھانا جائز نہیں۔ (بدائع الصنائع،کتاب التضحیۃ، فصل ما یستحب قبل التضحیۃ وعندھما وبعدہا وما یکرہ، 4/219-220، مکتبہ رشیدیہ)

    فتاوی غیاثیہ میں ہے: "الزعفرانى فى حلبها وجز صوفها الموسر والمعسر الذي اشتراها للاضحية سواء وهو الصحيح". ترجمہ: امام الزعفرانی رحمہ اللہ کے مطابق، قربانی کے لیے خریدے گئے جانور کا دودھ دوہنا یا اس کی اون کاٹنا، خواہ خریدار موسر (غنی) ہو یا معسر (فقیر)، دونوں کے لیے یکساں ہے، اور یہی صحیح قول ہے۔ (فتاوی غیاثیہ،کتاب الصید والذبائح وا لضحایا الخ،نوع فی الانتفاع بالاضحیۃ، ص131، المطبعۃ الکبری الامیریۃ) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:16 ذو الحجۃ1446 ھ/13 جون 2025ء