قرآن کی بے حرمتی کرنے کا حکم

    quran ki be hurmati karne ka hukm

    تاریخ: 15 جون، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 1458

    سوال

    میرا بیٹا خواجہ جمشیدغصے کا بہت تیز ہے ، نشہ کرتا ہے ، انتہائی نافرمان ہے۔اس نے ایک بار غصے میں قرآن اٹھا کر پھینک دیا ۔ اس کا کیا کفارہ ہے برائے مہربانی بتادیں۔

    سائل: والد خواجہ جمشید:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قرآن کریم اٹھا کر پھینکنا نہایت سخت گناہ ، قرآن کی بے حرمتی ،توہین اور استخفاف ہے اور قرآن کی توہین و استخفاف کرنے والے کا ایمان سلامت نہیں رہتا، لہٰذا خواجہ جمشیدپر تجدیدِ ایمان اورتوبہ واستغفار لازم ہے،اگر شادی شدہ ہے تو تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے۔اللہ کریم نے قرآن کریم کی عظمت خود قرآن میں بیان فرمائی۔قال اللہ تعالٰی : إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ فِي كِتابٍ مَكْنُونٍ لَا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ ترجمہ کنزالایمان: بےشک یہ عزت والا قرآن ہے محفوظ نَوِشْتَہ میں، اسے نہ چھوئیں مگر باوضو ۔(سورۃ الواقعہ،آیت:77،78،79)

    امام ابوعبد الله،شمس الدين محمدبن احمدبن ابوبكر القرطبي (المتوفى : 671ھ) تفسیر قرطبی میں حدیث پاک نقل فرماتے ہیں: القرآن أفضل من كل شي فَمَنْ وَقَّرَ الْقُرْآنَ فَقَدْ وَقَّرَ اللَّهَ وَمَنَ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ اسْتَخَفَّ بِحَقِّ اللَّهِ تَعَالَى ترجمہ:قرآن ہر چیز سے افضل ہے ،پس جس نے قرآن کی تعظیم کی اس نے اللہ کی تعظیم کی ، اور جس نے قرآن کی اہانت کی اس نے اللہ تعالٰی کے حق کو ہلکا جانا۔( تفسیر قرطبی، باب ما جاء في حامل القرآن ومن هو، وفي من عاداه،جلد 1 ص 26)

    خاتم المحققین علامہ سید محمدامین ابن عابدین شامی اس مسئلے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:لِأَنَّ الشَّارِعَ جَعَلَ بَعْضَ الْمَعَاصِي أَمَارَةً عَلَى عَدَمِ وُجُودِهِ ،كَمَا لَوْ سَجَدَ لِصَنَمٍ أَوْ وَضَعَ مُصْحَفًا فِي قَاذُورَةٍ فَإِنَّهُ يَكْفُرُ، وَإِنْ كَانَ مُصَدِّقًا لِأَنَّ ذَلِكَ فِي حُكْمِ التَّكْذِيبِ، كَمَا أَفَادَهُ فِي شَرْحِ الْعَقَائِدِ، وَأَشَارَ إلَى ذَلِكَ بِقَوْلِهِ لِلِاسْتِخْفَافِ، فَإِنَّ فِعْلَ ذَلِكَ اسْتِخْفَافٌ وَاسْتِهَانَةٌ بِالدِّينِ فَهُوَ أَمَارَةُ عَدَمِ التَّصْدِيقِ وَلِذَا قَالَ فِي الْمُسَايَرَةِ: وَبِالْجُمْلَةِ فَقَدْ ضُمَّ إلَى التَّصْدِيقِ بِالْقَلْبِ، أَوْ بِالْقَلْبِ وَاللِّسَانِ فِي تَحْقِيقِ الْإِيمَانِ أُمُورٌ الْإِخْلَالُ بِهَا إخْلَالٌ بِالْإِيمَانِ اتِّفَاقًا، كَتَرْكِ السُّجُودِ لِصَنَمٍ، وَقَتْلِ نَبِيٍّ وَالِاسْتِخْفَافِ بِهِ، وَبِالْمُصْحَفِ وَالْكَعْبَةِ. ترجمہ: شارع علیہ السلام نے بعض گناہوں کو ایمان نہ ہونے کی نشانی قرار دیا ہے جیساکہ اگر کوئی بت کو سجدہ کرے ،یا قرآن کو نجاست والی جگہ رکھے ،ایسے شخص کی تکفیر کی جائے گی۔اگر چہ وہ مصدق (اسلام کا ماننے والا )ہو،کیونکہ یہ سب چیزیں تکذیب کے حکم میں ہیں۔جیساکہ علامہ تفتازانی نے اسکا شرح عقائد میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اورمصنف نےاپنے قول للاستخفاف سے اسی طرف اشارہ فرمایاکیونکہ اگر وہ کوئی ایسا کام کرے گا تو یہ استخفافِ دین اور اہانتِ دین ہےاور یہ عدم تصدیق کی نشانی ہے اسی لئے(صاحب فتح القدیر نے) مسایرہ میں فرمایا: اور منجملہ تصدیق بالقلب یا تصدیق بالقلب واللسان کے ساتھ وہ امور بھی ملائے گئے ہیں بالاتفاق جن میں خلل ایمان میں خلل کا باعث بنتا ہے ،جیسا کہ کسی بت کو سجدہ کرنا،کسی نبی کا قتل،یا نبی کی توہین ،قرآن کی توہین،کعبہ کی توہین ۔(ردالحتار مع الدر المختار،باب المرتد،جلد 4 ص222)

    خلاصہ یہ ہوا کہ خواجہ جمشید نے قرآن پھینک کر قرآن کی توہین کی ہے ان پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہے

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:08 ذوالحج 1440 ھ/10 اگست 2019 ء