سوال
مسجد گلاب شاہ بخاری ڈہر کی سندھ ایک جامع مسجد ہے جس میں جمعہ نماز اور عید نماز بھی ہوتی ہے۔مسجد شریف زبون حال ہو گئی ہے اور جماعت کے لیے بھی اراضی کم ہو گئی ہے۔جنوب اور مشرق کی طرف عام راستہ ہے،شمال کی طرف درگاہ شریف ہے،مغرب کی طرف قبرستان ہے۔شریعت کے مطابق آپ بتائیں قبرستان کے اوپر چھت ڈال کر مسجد کی توسیع کی جائے؟قبرستان کی چھت بھی اتنی اوپر کی جائے تاکہ بندہ نیچے سے آجا سکے اور قبروں کا بھی کسی قسم کا نقصان نہیں ہو گا تو کیا قبرستان کی چھت پر مسجد کی تعمیر کر سکتے ہیں ؟کیا شریعت اجازت دیتی ہے؟
سائل: مہتم مسجد ہذا حافظ واحد بخش حسینی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ایسے قبرستان کہ جن کی موقوفہ زمین سے باہر ستون قائم کر کے اوپر چھت ڈالنا ممکن ہو تو اسکے بالائی حصہ پر مسجد کی تعمیر جائز ہے۔البتہ وقفی قبرستان کافی وسیع ہوتے ہیں لہذا ان کے اطراف میں ستون قائم کرکے چھت بنانا ناممکن کام ہےکہ مسجد کی عمارت بنانے کیلئے لا محالہ درمیان میں بھی کہیں نہ کہیں ستون قائم کرنے کی حاجت رہے گی، اس کے بغیر عمارت کاقائم نہیں رہ سکتی۔لہذا اگر عمارت بنانا ممکن ہو تو پھر درج ذیل شرائط کے ساتھ مسجد کی تعمیر جائز ہوگی ورنہ نہیں:
(۱)اس سے قبریں متاثر نہ ہوں۔(۲)مردوں کے عزیز و اقارب کے آنے جانے کا راستہ نہ رکے۔
(۳)چھت کے ستون مسلمانوں کی قبورپر واقع نہ ہوں، بلکہ قبرستان کی وقف جگہ کی حدود سے باہر ہوں۔
(۴)جس زمین میں ستون قائم کیے جائیں،اگر وہ کسی مسلمان کی ملک ہے، تووہ مالک اسے اس کام کے لیے وقف کردے ۔
(۵)اگر گورنمنٹ کی اُفتادہ(ناکارہ)زمین ہے ،تو اس کاروائی سے مسلمانوں کے راستے وغیرہ کو ضرر نہ ہو اور کاروائی اہلِ محلہ خود کریں یا ان کے اذن سے ہو کہ ان حالتوں میں کوئی بے جا تصرف نہیں ہو گا، نہ وقف رکے گا، نہ اس کی زمین کسی دوسرے کام میں صرف ہو گی، صرف بالائی ہوا،جو نہ موقوف تھی نہ مملوک، اس میں ایک تصرف ہوگا، جومسلمانوں کے نفع کے لیے ہے، اس میں کسی قسم کا ضرر نہیں ہے۔
(۶) اگر ستون قبرستان کی وقف جگہ میں ہوں تو یہ جائز نہیں ہو گا، اگرچہ کسی قبر پر نہ ہوں، کیونکہ یہ جگہ قبرستان کے لیے وقف ہے، تو اس میں صرف قبریں ہی بنائی جا سکتی ہیں، اس کے علاوہ کسی اور کام میں اس کو استعمال کرنا ،جائز نہیں۔
نیز نااتفاقی وفساد سے بچنے کے لیے مسجد کی تعمیر میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ یہ تعمیر قبرستان کے متولی، علاقے کے مشیران اور جن لوگوں کے عزیز و اقارب کی قبریں اس احاطہ میں آ رہی ہوں،ان کے صلاح ومشورہ کے بغیر ایسا اقدام نہ کیا جائے۔
شبہ: وقف تام ہونے کی صورت میں شے موقوف کو دوسرے مصرف میں استعمال نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کو متعلقہ وقف یا مصالح وقف میں استعمال کرنا ممکن ہو ۔اور قبرستان کی جگہ پر مسجد بنانے میں مصرف تبدیل کرنا ہے جو کہ درست نہیں۔
ازالہ شبہ: قبرستان کیلئے وقف کی ہوئی زمین میں کوئی میت دفنایا گیا تو اس سے وقف تام ہو گیا پھر ستون گاڑھ کر اس کے اوپر چھت ڈالنے کے بعدمسجد بنانے جائز ہے، کہ یہاں موقوفہ زمین کسی دوسرے کام میں صَرف نہیں ہوئی، یہ صِرف بالائی ہَوا ہے،جو نہ موقوف تھی نہ مملوک، اس میں ایک (قبرستان کی تعمیر کا )تصرف ہوگا، جومسلمانوں کے نفع کے لیے ہے، اس میں کسی قسم کا ضرر نہیں ہے۔
دلائل و جزئیات:
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”مسجد قدیم لبِ مقبرہ واقع ہے، یہ بیرون حدودمقبرہ ستون قائم کر کے اوپر کافی بلندی پر پاٹ کر چھت کو صحن مسجد سابق سے ملا کر مسجد کردینا چاہتا ہے، اس طرح کہ زمین مقبرہ نہ رکے، نہ اس میں دفن مَوتٰی کرنے اور اس کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے کی راہ رکے ،نہ اس چھت کے ستون قبور مسلمین پر واقع ہوں، بلکہ حدود مقبرہ سے باہر ہوں کہ اس میں حرج نہیں، جبکہ وہ زمین جس میں ستون قائم کیے گئے، متعلق مسجد ہو اور کاروائی اہل محلہ کی یا ان کے اذن سے ہو یا وہ زمین اس بانی سقف یا کسی دوسرے مسلمان کی ملک ہو اور مالک اسے ہر کام کے لیے وقف کردے یا وہ زمین افتادہ بیت المال کی ہو اور اس میں اس کاروائی سے مسلمانوں کے راستے وغیرہ کو ضرر نہ ہو کہ ان حالتوں میں اس نے کوئی بے جا تصرف نہ کیا، نہ وقف کو روکا، نہ اس کی زمین کو کسی دوسرے کام میں صرف کیاصرف بلائی ہوامیں کہ نہ موقوف تھی، نہ مملوک، ایک تصرفِ غیر مضرنفع مسلمین کے لیےکیا ۔
ہندیہ میں حق عام کی شے پاٹ کر اس پر مسجد اس طرح بنانے کا جس سے ان حقوق کو ضرر نہ پہنچے جزئیہ یہ ہے: "فی نوادر ھشام سألت محمد الحسن عن نھر قریۃ کثیرۃ الأھل لا یحصی عددھم و ھو نھر قناۃ أو نھر واد لھم خاصۃ، و أراد قوم أن یعمروا بعض ھٰذا النھر و یبنوا علیہ مسجدا و لا یضر ذٰلک بالنھر و لا یتعرض لھم أحد من أھل النھر، قال محمد رحمہ اللہ تعالیٰ یسعھم أن یبنوا ذٰلک المسجد للعامۃ أو المحلۃ کذا فی المحیط" ہشام نے نوادر میں کہا کہ میں نے امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے دریافت کیا: ایک کثیر آبادی والے قصبہ میں ایک نہر ہے، جو کہ جنگل یا پہاڑ کے نالے کی صورت میں ہے اور وہ خاص انہی لوگوں کی ہے، اب کچھ لوگوں کا ارادہ ہوا کہ وہ نہر کے کچھ حصہ پر تعمیر کر کے مسجد بنا دیں، اس سے نہ تو نہر کو کوئی نقصان ہے اور نہ ہی نہر والوں میں سے کسی کو کوئی اعتراض ہے؟ تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ان لوگوں کو ایسی مسجد بنانے کا اختیار ہے، چاہے وہ مسجد اہل محلہ کے لیے بنائیں یا عام لوگوں کے لیے، جیسا کہ محیط میں ہے۔
اور یہیں سے ظاہر ہو گیا کہ وہ سقف بھی مسجد ہو جائے گی اور اس میں نمازی کو ثواب مسجد ملے گا اور اس کے نیچے قبریں ہونا اس بنا پر کہ ہمارے علماء نے قبروں کے سطحِ بالائی کو حقِ میت لکھا ہے اور مسجد کا جمیع جہات میں حقوق العباد سے منقطع ہونا لازم ہے، ہر گز مانع مسجدیت نہ ہو گا کہ اس حق سے مراد کسی کی ملک یا وہ حق مالکانہ ہے، جس کے سبب وہ اس مسجد میں تصرف سے مانع آ سکے کہ جب ایسا ہو گا تو وہ خالص لوجہ اللہ نہ ہوئی، اور مسجد کا خالص لوجہ اللہ ہونا ضرور ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ ،16-303-305،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’وقفی قبرستان مسلمانوں کے مردوں کو دفن کے لئے موقوف ہوتا ہے۔ لہذا اس کے کسی حصہ کو مدرسہ بنا دینا سخت نا جائز و حرام ہے اس لئے کہ یہ ابطال غرض وقف ہے اور وہ ہر گز جائز نہیں... البتہ اگر قبرستان کی حدود سے باہر ستون قائم کریں اور اس کی چھت اتنی بلندی پر ڈھالیں کہ اس میں دفن کی غرض سے لوگوں کے آنے جانے میں رکاوٹ نہ ہو اور نہ قبرستان کی زمین کا کچھ حصہ ستون کے قائم کرنے میں لیں تو اس صورت میں اس کی چھت پر مدرسہ اور دکانیں بنا سکتے ہیں ورنہ نہیں ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد ششم ص ۳۹۹ پر ہے اور قبرستان میں ہر وہ بات جائز نہیں جو اس کے وقف کی غرض کے خلاف ہو یا مردہ کی اذیت کا سبب ہو‘‘۔(فتاوی فیض رسول،3/374،شبیر برادرز لاہور) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 شوال المکرم 1444 ھ/18 مئی 2023ء