''قیامت کے دن ہر جگہ علی علی ہوگا ''کہنے کا حکم

    Qiyamat ke din har jagah Ali Ali hoga kehnay ka hukam

    تاریخ: 24 مئی، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1405

    سوال

    دیکھیں حشر دیہاڑے بس علی علی ہوسی یہ مصرعہ شرعی نقطۂ نظر سے صحیح ہے یانہیں؟ مقصو اپنی اصلاح ہے۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    کلام پر تبصرہ متکلم کے حال کے مطابق ہوتا ہے کہ اگر کسی مؤمن نے کہا ’’بہار نے سبزہ اگایا‘‘ تو یہ مجاز شمار ہوگا لیکن اگر کوئی کافر یہ کہے تو یہ حقیقت قرار پائے گا کہ مؤمن بہار کو سبزہ اگانے کا فاعلِ حقیقی نہیں مانتا بخلاف کافر کے۔ اسی تناظر میں اس مصرعہ پر کلام ہے کہ اگر تو یہ کلام کسی تفضیلی و نیم رافضی کا ہے تو یہ جائز نہیں کہ رافضی کا عقیدہ مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت بلا فصل کا ہے اور اسی پر یہ مصرعہ کہہ کر شیخین کریمین اور عثمان ذو النورین رضی اللہ تعالی عنہم کی افضلیت کا انکار ہے حالانکہ نظرِ تحقیق سے دیکھا جائے تو بروز قیامت جس طرح مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے قسیمِ نار و نور (دوزخ و جنت) کا بیان ہے اسی طرح شیخین کریمین اور عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں بھی یہ فضیلت مروی ہے اور ان تمام کو یہ فضیلت آقا کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کی وساطت سے حاصل ہوگی۔ (دیکھیں فتاوی رضویہ، ج30 ص432-435، رضا فاؤنڈیشن لاہور)