شوہر کا بیوی سے غیر فطری منافع حاصل کرنا
    تاریخ: 18 نومبر، 2025
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 156

    سوال

    میری شادی کو تقریبا چھ ماہ ہوئے ہیں۔ڈیڑھ ماہ کے عرصے سے میں اپنی امی کے گھر ہوں ،بچہ ضائع ہوا ہے۔اس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں شوہر نہ رابطہ کررہے ہیں نہ ہی نان نفقہ دے رہے ہیں۔وہ کچھ غلط عادتوں میں بھی مبتلا ہیں جس کی بناء پر وہ میری حلال ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کرپاتے۔اس کے علاوہ اورَل اور اینَل سیکس بھی کرتے ہیں۔ان حالات میں کیا میرا خلع لینا جائز ہے؟

    سائل: بنت حواء۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بغیر شرعی عذر کے عورت کا خلع کا مطالبہ کرنا گناہ ہے، اور اس پر سخت وعید آئی ہے۔ لہذا خاندان کے بزرگوں کے سامنے یہ مسائل رکھیں کہ وہ شوہر کو سمجھائیں اور اس سے کوئی ضامن طلب کریں جو کہ آئندہ شکایا ت کے پیش نہ آنے کی ضمانت دے، اگر شوہر ایسا ضامن دے دے تو آپ کو اپنا گھر بسا لینا چاہیے، لیکن اگر شوہر ضمانتی دینے پر راضی نہ ہو،اور مذکورہ افعالِ قبیحہ سے باز نہ آئے نہ ہی نان و نفقہ دے کہ گھر بسانا ممکن نہ ہو توشوہر سے کسی طرح طلاق لے لیں، اگر شوہر طلاق دینے پر رضامند نہ ہو توپھر اس کو کچھ مال وغیرہ دے کر یا مہر نہ لیا ہو تو اس کے عوض شوہر کی رضامندی سے خلع لے لیں،جس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی اور عورت طلاق کی عدت بھی گزارے گی۔عدت کی تفصیل یہ ہے کہ حیض والی عورت کی عدت تین حیض کا گزرنا ہے،اگرحیض نہیں آتا تو عدت تین ماہ ہے اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضعِ حمل(یعنی بچے کی پیدائش) سے عدت پوری ہوگی۔نیز دوران عدت یا بعدِ عدت رجوع کرنا چاہیں تو تجدیدِ نکاح (یعنی نئے مہر کے ساتھ)سے ہی رجوع ہوسکتا ہےاور بعدِرجوع شوہر کو دو طلاق کا حق باقی رہے گا۔لیکن یاد رہے کہ شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں اور نکاح بدستور برقرار رہتا ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    بلا وجہ خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت جنت کی خوشبو نہیں پاسکے گی،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:"«أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ»".ترجمہ:جو عورت بلا وجہ شوہر سے طلاق طلب کرے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔(سنن ابی داود،کتاب الطلاق،باب فی الخلع،2/268،رقم:2226،المکتبۃ العصریہ)

    خلع لینا کب جائز ہے،اسکے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال". ترجمہ: جب میاں بیوی میں رنجش پیش آئی اور دونوں کو خوف ہو کہ ہم سے حدودُ اللہ کی پاسداری نہ ہوگی تو کوئی حرج نہیں ہے کہ عورت مال دے کر اپنے آپ کو چھڑائے تا کہ شوہر اس پر عورت کو خلع دے دے پس جب دونوں نے ایسا کیا تو ایک طلاق ِبائن واقع ہوگی اور عورت پر مال لازم ہوگا۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع،الفصل الاول،1/488،دار الفکر)

    طلاق کی عدتکی اقسام کے متعلق فتاویٰ سراجیہ میں ہے: "المطلقة تعتد بثلاث حیض ان کانت من ذوات الحیض وبثلاثة اشهر ان کانت من ذوات الاشهر کالآیسة والصغیرة عدة الحامل ان تضع حملها. ملخصا".ترجمہ:اگر طلاق یافتہ عورت کو حیض آتا ہو تو وہ تین (کامل)حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اور (جس کو حیض نہیں آتا)تین مہینوں کے ساتھ عدت گزارے گی اگر ہے مہینوں والی جیسے آئسہ(بوڑھی)اورنابالغہ،حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔(فتاویٰ سراجیہ،ص:231،مکتبہ زمزم)

    طلاق بائن میں رجوع کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائه".ترجمہ:جب تین سے کم طلاق بائن ہو تو شوہر کو دورانِ عدت اور بعدِ عدت نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعۃ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،1/473،دار الفکر)

    مرد کیلئے اپنی عورت سے منافع حاصل کرنا:

    بیوی سے جماع کرنا صرف اسی جگہ حلال ہے جہاں کی شریعت نے اجازت دی ہے۔کچھ طریقے شریعت مطہرہ میں ممنوع اور حرام قرار دیے گئے ہیں،جن میں اورل سیکس(مرد یا عورت کاایک دوسرے کے اعضا ئے مخصوصہ کو منہ میں ڈالنا ) اور اینل سیکس (یعنی پچھلے راستے سے جماع کرنا)شامل ہیں۔

    قرآن مجید میں اللہ رب العزّت ارشاد فرماتا ہے:نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪-فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ.ترجمہ:تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھیتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو۔(البقرۃ:223)

    اس آیت کے تحت علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد شمس الدین القرطبی (المتوفی:671ھ) فرماتے ہیں: "هذه الأحاديث نص في إباحة الحال والهيئات كلها إذا كان الوطي في موضع الحرث، أي كيف شئتم من خلف ومن قدام وباركة ومستلقية ومضطجعة، فأما الإتيان في غير المأتى فما كان مباحا، ولا يباح! وذكر الحرث يدل على أن الإتيان في غير المأتى محرم. و"حرث" تشبيه، لأنهن مزدرع الذرية، فلفظ" الحرث" يعطي أن الإباحة لم تقع إلا في الفرج خاصة إذ هو المزدرع".ترجمہ:یہ احادیث تمام کیفیاتِ جماع اور حالتِ جماع کی اباحت میں نص ہیں بشرطیکہ وطی محلِّ حرث میں ہو، یعنی جس کیفیت میں تم چاہو پیچھے کی جانب سے اور آگے کی جانب سے وہ سینے کے بل لیٹی ہوئی ہو یا چت یا پہلو کے بل، اور رہا محلِّ حرث کے علاوہ کسی اور جگہ میں وطی کرنا تو یہ نہ مباح رہا ہے اور نہ اسے مباح کیا جائے گا اور حرث کا ذکر اس پر دلالت کرتا ہے کہ محلِّ حرث کے علاوہ میں وطی کرنا حرام ہے۔ اور حرث یہ تشبیہ ہے، کیونکہ ان میں تولید کا بیج بویا جاتا ہے اور لفظ حرث واضح کرتا ہے کہ اباحت صرف اور صرف فرج میں واقع ہوئی ہے کیونکہ وہی بیج ڈالنے کا محل ہے۔(تفسیر القرطبی،تحت سورۃ البقرۃ،آیۃ:223)

    اینل سیکس کا حکم:

    کسی بھی صورت میں عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنا حرام ہے۔ایسے شخص پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں۔

    حضرت خزیمہ بن ثابترضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،حضور خاتم النبیین ﷺنے ارشاد فرمایا: «إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ».ترجمہ:اللہ تعالی حق بیان کرنے سے حیا نہیںفرماتا، تم میں سے کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ عورتوں کے پچھلے مقام میں وطی کرے۔( معجم الکبیر،4/88، رقم:3736،مکتبۃ ابن تیمیۃ)

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: «مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا».ترجمہ:جو اپنی بیوی کے پچھلے مقام میںوطی کرے وہ ملعون ہے۔(سنن ابی داود، کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح، 2/249رقم: 2162،المکتبۃ العصریۃ)

    حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:"أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (نساوكم حرث لكم فَأتوا حَرْثكُمْ) الْآيَةَ: «أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ»". ترجمہ:رسول اللہﷺ کی طرف وحی کی گئی (نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪-فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ) (حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں)عورت کے پاس آئے سامنے سے یا پیٹھ پھیری سےلیکن مقام دبُر سے اور حیض کے دوران جماع سے بچے۔(مشکاۃالمصابیح،کتاب النکاح،باب المباشرۃ،الفصل الثانی،2/953،رقم:3191،المکتب الاسلامی)

    دبر میں وطی جمہور فقہاء کرام کے نذدیک حرام ہے،چنانچہ امام ابو الحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی (المتوفی:450ھ) فرماتے ہیں:"اعلم أن مذهب الشَّافِعِيُّ وَمَا عَلَيْهِ الصَّحَابَةُ وَجُمْهُورُ التَّابِعِينَ وَالْفُقَهَاءِ أَنَّ وَطْءَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ حَرَامٌ".ترجمہ:جان لو کہ صحابہ کرام،جمہور تابعین اور فقہاء اور مذہب شافعی کے مطابقعورتوںکی دبر میں وطی حرام ہے ۔ (الحاوی الکبیر، باب إتيان النساء في أدبارهن،9/317،دار الکتب العلمیۃ)

    اسی طرح امام ابو زكريا محیی الدين يحيى بن شرف النووی (المتوفى: 676ھ) اپنی کتاب "المنہاج شرح صحیح مسلم"میں فرماتے ہیں۔ (المنہاج شرح صحیح مسلم، باب جواز جماعه امرأته في قبلها من قدامها ومن ورائها ،10/6،دار احیاء التراث العربی)

    اورل سیکس کا حکم:

    اورل سیکس ناجائز و گناہ ہے، اورکئی وجوہات کی بنا پر ناپسندیدہ وگھٹیاعمل ہے۔ نیزاس کام میں شرمگاہ سے نکلنے والی نجاست (مذی) منہ میں جانے کا قوی امکان ہے جبکہ اسی منہ سے اللہ ورسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا نام لیاجاتا ہے،تلاوت قرآن اورذکرواذکارکیے جاتے ہیں۔ لہذا اگر شوہر کہے بھی تواس کی بات نہیں مانی جائے گی کہناجائز کام میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔

    الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه".ترجمہ:مرد کا اپنی عورت کے منہ میں آلہ تناسل داخل کرنا مکروہ ہےاور ایک قول کے مطابق مکروہ نہیں۔( الفتاوی الہندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب الثلاثون،5/372،دار الفکر)

    یہاں ان دو اقوال میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ مکروہ اس صورت میں ہے کہ جب آلہ تناسل پر نجاست لگی ہو اور اگر نجاست نہ لگی ہو تو مکروہ نہیں البتہ ایسا ہونا بہت بعید ہے خاص کر مذی جس کے اترنے کی خبر تک نہیں ہوتی۔

    الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:"وربما كان أسوأ من الدبر: وضع الذكر في فم المرأة ونحوه، مما جاءنا من شذوذ الغربيين، فيكون ذلك حراماً لثبوت ضرره وقبحه شرعاً وذوقاً".ترجمہ:پچھلے راستے میں ہمبستری کرنے سے بھی زیادہ گندا اور بھیانک فعل یہ ہے کہ آلہ تناسل عورت کے منہ میں ڈلا جائے ،جو کہ بے حیا اہل مغرب سے ہمارے ہاں منتقل ہونے والا فعل حرام ہے۔ اس لئے کہ اس کی قباحت اور نقصان پر شریعت اور ذوق سلیم متفق ہیں۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ،الباب السابع،المبحث الرابع،4/191،دار الفکر)

    مذکورہ فعل کئی وجوہ سے ناجائز ہے:

    (۱) یہودونصاری کی پیروی کرنا۔(۲)بے حیائی کرنا۔(۳)غلاظت (منی یامذی) منہ میں لینا یاچاٹنا۔

    (۱) یہودونصاری کی پیروی:

    حضورسرور عالم ﷺ کافرمان ہے:"«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»".ترجمہ:جو کسی قوم سے مشا بہت کرے گا تو وہ انہیں میں سے ہو گا۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب اللباس،الفصل الثانی،2/1246،رقم:4347،المکتب الاسلامی)

    مسلمانوں کو اس وعید سے عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ اللہ و رسول کی پیروی کریں نہ کہ جانوروں کی۔

    (۲)بے حیائی:

    ارشاد باری تعالی ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ-یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ.ترجمہ:بےشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتاہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔(النحل:90)

    سورۃ الانعام میں فرمایا: وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِش. ترجمہ:اور بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ۔(الانعام:151)

    معلوم ہوا کہ بےحیائی کتنا گھٹیا عمل ہے اور کس قدر رب تعالیٰ کو ناپسند ہے لہذا اس بےحیائی سے دور رہیں اورشیطان کی پیروی نہ کریں کیوں کہ شیطان توچا ہتا ہےکہ بندۂ مومن کوبےحیائی اور برائی میں ملوث کردے۔

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے نبی آخر الزماں ﷺ فرماتے ہیں:"«إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْإِيمَانَ قُرَنَاءُ جَمِيعًا فإِذا رفع أَحدهمَا رفع الآخر»".ترجمہ:بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں، جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔(مشکاۃ المصابیح،باب الرفق والحیاء،الفصل الثالث،3/1410،رقم:5093،المکتب الاسلامی)

    (۳)غلاظت (منی یامذی) منہ میں لینا یاچاٹنا:

    ہمارا اسلام ہمیں پاکی و نظافت کا درس دیتا ہے ہر وہ چیز جو ہمارے منہ کو پراگندہ کر دے اس سے بچنے کی تلقین کرتا۔

    (۱) کھانے سےپہلے ہاتھ دھونے کاحکم ہے تاکہ ہاتھ کا میل منھ میں نہ جانے پا ئے۔(سنن نسائی:256) (۲)سوکراٹھنےکے بعدنبی کریم ﷺ نے ہاتھ دھونے کاحکم دیاکہ کہیں ہاتھ رات میں شرمگاہ وغیرہ میں نہ لگا ہواور اس کی نجاست منہ میں داخل ہوجا ئے۔(سنن الدارقطنی:130) (۳) قضائے حاجت کے وقت دایاں ہاتھ شرمگاہ کو لگانےسے نبی کریم ﷺ نے منع کیا ہے۔ (صحیح مسلم:267) (۴) حضور اکرمﷺ نے ہمیں داہنے ہاتھ سے کھانے کاحکم فرمایااور بائیں ہاتھ سے قضائے حاجت کا حکم فرمایا تاکہ جس ہاتھ سےہم کھاتےہیں وہ ہاتھ نجاست آلود نہ ہو۔(سنن ابی داود:33)

    نیز شریعت اسلامیہ نجس اور خبیث کو حرام قرار دے کر اسے کھانے پینے سے منع کرتی اور گھٹیا عادتوں سے بچنے کا حکم کرتی ہے۔ نجاست سے دور رہنے کا حکم دیتی،اورستھرائی کو پسند کرتی ہے۔

    ارشاد باری تعالی ہے: اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ. ترجمہ: بےشک اللہ پسندر کھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔(البقرۃ:222)

    نیز منی ائمہ احناف کے نزدیک ناپاک ہےجیسا کہ علامہ علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"والمني نجس يجب غسله".ترجمہ:منی نجس ہے اور اس کا دھونا واجب ہے۔(الہدایۃ،باب الانجاس،1/36،دار احیاء التراث العربی)

    الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي".ترجمہ:جوچیزیں آدمی کے بدن سے ایسی نکلتی ہیں جن کےنکلنے سے وضو یاغسل واجب ہوجاتاہے وہ نجاستِ مغلظہ ہیں۔جیسے پاخانہ اورپیشاب اور منی اورمذی اورودی۔ (الفتاوی الہندیۃ،الباب السابع فی النجاسۃ واحکامھا،الفصل الثانی فی الاعیان النجسۃ،1/46،دار الفکر)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:8 ذوالحجہ 1444 ھ/27 جون2023ء