سوال
ہماری فیملی کی ایک خاتون نے اپنے شوہر کے پاس ہوتے ہوئے ،اپنے شوہر کے دوست سے ناجائز تعلقات قائم کر لیے ،جس سے وہ حاملہ ہو گئی ،حاملہ ہونے کے بعد شوہر سے زبردستی طلاق لے لی ۔شادی کے تین ماہ بعد ان کے گھر بیٹی پیدا ہوئی ۔شادی کے دو سال بعد طلاق لے کر چلا گیا ۔پھر دو سال بعداس خاتون نے تیسرے مرد سے شادی کر لی ۔سوال یہ ہے کہ اس خاتون کا پہلے شوہر کی عدتمکمل کیے بغیر دوسرے مرد سے شادی کرناجائز تھا۔دوسرا یہ کہ دوسرے مرد سے طلاق کے بعد تیسرے شخص سے نکاح کا کیا حکم ہے ؟
سائل:فیروز احمد ۔ بمعرفت علامہ طارق المدنی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
خاتون کا عدت کے دوراندوسرا نکاح کرنا ناجائز و حرام تھا ۔اور یہ نکاح اصلا منعقد نہیں ہوا ۔عدت کے دوران نکاح تو نکاحبلکہ نکاح کا صریح پیغام دینا بھی حرامہے۔اسی طرح اس بیٹی کا نسب اپنے باپ(پہلے شوہر)سے ثابت ہو گا۔الولدللفراش وللعاھرالحجر۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کا نسب نکاح والے سے ہوگا اور زانی کے لیے پتھر ہے(یعنی اس کو سنگسار کیا جائے گا)۔
البتہ خاتون کا تیسرے مرد سے نکاح کرنا جائز ہے ،اس میں حرج نہیں۔
اللہ جل وعلا کا فرمان ہے :ولاتعزموا عقدۃ النکاح حتی یبلغ الکتب اجلہ ۔ترجمہ اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے: ولا یجوز للرجل ان یتزوج زوجۃ غیرہ و کذا المعتدۃ کذا فی السراج الوھاج۔ترجمہ:مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے غیر کی بیوی یا اس کی معتدہ سے نکاح کرے ۔( الفتاوی الہندیۃ،کتاب النکاح، جلد: 2، صفحہ: 262)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: عدت میں نکاح حرام قطعی ہے بلکہ نکاح تو بڑی چیز ہے۔ قرآن عظیم نے عدت میں نکاح کے صریح پیام کو بھی حرام فرمایا۔ نکاح بعد عدت کرلینے کے وعدہ کو بھی حرام فرمایا صرف ا س کی اجازت دی ہے کہ دل میں خیال رکھو یا کوئی پہلو داربات ایسی کہو جس سے بعد عدت ارادہ نکاح کا اشارہ نکلتا ہو۔ صاف صاف یہ ذکرنہ ہو کہ میں بعد عدت تجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، یہاں تک کہنا بھی حرام ہے، تو خود نکاح کرلینا کیونکر حلال ہوگا، پھر پہلو دار بات بھی عدت وفات والی سے کہنا جائزہے، عدت طلاق والی سے باجماع امت وہ بھی جائزنہیں۔(فتاوی رضویہ جلد 11صفحہ340،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 رجب المرجب 1443 ھ/28 فروری2022