بیوٹی پالر میں ہونے والے کاموں کا شرعی حکم
    تاریخ: 18 نومبر، 2025
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 158

    سوال

    پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال کے پیش نظر ہمارے ادارے خواتین کے لیے حلال روزگار کمانے کے مختلف پروگرام شروع کے جیسے گھریلو دست کاری وغیرہ ۔۔۔اب ہمچاہتے ہیں کہ انہیں بیوٹی پالر ز بیوٹی سیلون کا کام سیکھایا جائے لیکن اس سے پہلے ہم یہ چاہتے ہیں کہ میں کوئیبھی کام ناجائز نہ ہو ، سب کام وہ ہوں جن کی شریعتمیں اجازت ہے۔اب سے گزارش ہے کہ ہمارے لیے ایک دائرہ متعین فرمائیں جس میں رہتے ہوئے ہم کام کر سکیں ؟

    سائل:محمد نعمان

    

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب جاننے سے قبل مختصر تمہیدی کلماتذہن نشین کر لیں !

    اسلام میں عورت کو بلا ضرورت گھر سے نکلنےسے منع کیا گیا ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ عورت کوہے کہ اس میں اس کا تحفظ ہے ۔ نیز مرد و عورت کے اختلاط سے جو فتنے جنم لیتے ہیں ان سے اہل اسلام کوروکنا ہے ۔

    وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی ۔(الاحزاب، 33)

    اور لبرل ذہن سمجھتے ہیں کہ اسلام عورتوں کو محبوس کرتا ہے اور انھیں قید و بند ہو نے پر مجبور کرتاہے ۔ جو کہ ان کی تعصب پسندی اور خواہش نفس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔۔

    اسلام عورت کو اجازت دیتا ہے کہ اسے اگر ضرورت و حاجت کی بنا پر (92 کلو میٹر) سے کم سفرکرنا پڑ جائے تو وہ سفر کرسکتی ہے جبکہ راستہ پر امن ہو اورخاتون مکمل شرعی حجاب میں ہو ۔

    اور اگر سفر شرعی ( 92 کلو میٹر)ہو تو اس صورت میں ایک اور شرط ہے کہ محرم یا شوہر ساتھ ہو ۔ شرعی حجاب کی شرط ہو یا راستے کے پر امن ہونے یا سفر شرعی میں محرم یا شوہر کی شرط یہ تمام شرائط اسلام کے خاص نقطہ نظر (تحفظِ نساء)کے فلسفہ کے پیشِ نظر ہیں ۔۔۔جبکہ مغرب میں عورت کی آزادی کا فلسفہ عورت کو بےآبرو کرنا ہے۔

    عورت کے لیے روزگار کے لیے گھر سے باہر نکلنے کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ گھر میں کوئی کمانے والا نہیں،یا پھر شوہر ،بیٹے،بھائی یا باپ کی کمائی پر گزر اوقات نہیں ،نہ ہی کوئی اور ایسا ذریعہ ہے جس سے گھر میں رہتے ہوئے معاشی نظام چل سکے تو اس کے لیے حلال روزگار کے لیے گھر سے باہر نکلنا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

    1:۔گھر سے کام کی جگہ(working place) تک آنا جانا مکمل شرعی حجاب میں ہو۔

    2:۔غیر مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو۔

    3:۔کسی بھی نامحرم کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا نہ ہو ،اسی طرح بلا ضرورت بات چیت کرنے سے بھی بچے ۔

    4:۔جو کام کر رہی ہے، فی نفسہ حلال ہو۔

    5:۔وہاں کسی قسم کے فتنہ و فساد اور تہمت لگنے کا اندیشہ نہ ہو۔

    بیوٹی پالر کے وہ امورجو ناجائز ہیں

    بھنویں بنانا:

    تزیین و زیبائش کے طور پر بھنووں کو چہرے کی بناوٹ کی مناسبت سےبنایا جاتا ہے یہ بھی حرام ہے کہ حدیث پاک میں ہے: عن عبد الله رضي الله عنه،" لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله، ما لي لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله".۔ترجمہ :عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ اللہ کی لعنت ہو گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر، بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں،میں کیوں نہ اس پر لعنت بھیجوں جس پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ کتاب اللہ میں بھی موجود ہے۔(صحیح بخاری رقم الحدیث:5948 )

    البتہ اگر کسی عورت کی بھنویں مردوں یا خنثوں جیسیلگتی ہوں تو اسے صحیح کرنے میں حرج نہیں تاہم یہ صورت بھی نہایت قلیل ہے۔ انما الاعمال بالنیات۔ واللّٰہ یعلم المفسد من المصلح ترجمہ:اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے مفسد کو مصلح سے۔(البقرہ:220)

    جسمکو سوئی کے ذریعہ گدوانا یعنی ٹیٹو بنوانا :

    اس کی تمامصورتیں ناجائز و حرام ہیں خواہ وہ نام لکھوانا ہو یا کسی جاندار کی یا پھر بے جان کی تصویر بنانا ہو۔

    عورت کا چہرے پر بندیا اور ٹکیہ بنانا :

    پیشانی اور بھنووں کے درمیان جو ٹکیہ اور بندیا بنائی جاتی ہے اس لیے کہ یہ ہندوؤوں کا طریقہ ہے ۔

    فرض ستر عورت والے حصے کی صفائی ستھرائی :

    مخصوص حصہ (ناف سے گھٹنوں سمیت) کی کسی بھی قسم کی صفائی کے لیے دوسری عورت کے سامنے اس حصے کو کھولنا پڑتا ہے جو کہ مطلقا ناجائزہے۔جبکہاس کے علاوہدیگر اعضاء بھی عام خواتین کے سامنے کھولنے سے بچنا چاہیے۔

    حرام اشیاء کا استعمال کرنا :

    میک اپ میں استعمال شدہ بعض چیزیں وہ ہوتی ہیں جن کا استعمال شرع شریف میں حرام ہے۔

    بیوٹی پالر کے وہ امور جو جائزہیں

    مہندی لگانا :

    ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگا نا جائز بلکہ عورتوں میں تو مطلوب و محبوب ہے۔سنن ابی داود میں ہے :عن عائشۃ ان ھند بنت عتبہ ،قالت یانبی اللہ ﷺ بایعنی ، قال ﷺ: لا ابایعک حتی تغیری کفیک کانھما کفّا سبع ترجمہ: ام المومنین سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ ہندہ بنت عتبہ نے کہا : اے اللہ کے نبی ﷺمجھ سے بیعت لے لیجیے آپ ﷺ سے فرمایا : میں اس وقت تک تمہاری بیعت نہیں لوں گا جب تک کی تم اپنی ہتھیلیوں کو رنگ نہ لو، یہ تو گویا درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔

    ناخن پالش لگانا اور مصنوعی ناخن لگانا:

    ناخن پالش لگانا جائز ہے ،مگر ایسی ناخن پالش نہیں لگانی چاہئے کہ ممنوعہ اشیاء سے بنی ہو اور اسے اتارنے میں کافی دقت پیش آئے ؛کیونکہ تہہ دار پالش لگے رہنے کی صورت میں وضو اور غسل نہیں ہوگا۔مصنوعی ناخن لگانا بھی جائز ہے ،مگر وضو اور غسل کے وقت اتار لیے جائیں تاکہ پانی فرض جگہوں تک پہنچ سکے ۔

    علامہ تور بشتی لکھتے ہیں : وکان النبی ﷺ یامر النساء بتغییر اظفارھن بالحناء حتی انکر علی المراۃ المبایعۃ ترکھا الخضاب فی اظافرھا وقال فی کفیھا کانھما کفا سبع ولم یکن للرجال ان یتشبھوا بالنساء ترجمہ: نبی کریم ﷺ خواتین کو مہندی کے ساتھ ناخن رنگنے کا حکم دیتے تھے حتی کہ آپ نے ایک خاتون سے بیعت نہیں لی کیونکہ اس نے اپنے ناخنوں کو رنگاہوا نہیں تھا اور فرمایا اس کی ہتھیلیاں جانور کی طرح ہیں اور مردوں کو خواتین کے ساتھ مشابہت جائز نہیں ۔

    عورتوں کا بال کٹوانا:

    نا بالغہ لڑکی کے بال کاٹنا، کٹوانا تو جائز ہے ،لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ لڑکوں کےساتھ مشابہت نہ ہو۔

    بالغہ لڑکیاں ضرورت کے پیشِ نظر بال کٹواسکتی ہیں،جبکہ1 شوہر کی اجازت سے ہو ۔2کندھوں کے نیچے جو بال لٹک رہے ہوں صرف انہیں کٹوائے۔3 کٹوانا شوہر کی خوش نودی کے لیے ہو ،غیر مردوں کو دیکھانے کی غرض سے نہ ہو۔4مردوں اور فاسقہ، کافرہ عورتوں کی طرز پر نہ ہو۔

    بیماری کی وجہ سے بال کٹوانا:

    حجامہ یادیگر امراض کے سبب بالوں کا کٹواناضروری ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں،جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے :’’ولو حلقت المراۃ راسھا فان فعلت لوجع اصابھا لا باس بہ وان فعلت ذالک تشبھا بالرجل فھو مکروہ کذا فی الکبری ‘‘ ترجمہ: اور اگر عورت اپنے سر کا حلق کروائے تو اگر ایسا کرنا انگلیوںکے درد کی وجہ سے ہو تو کوئی حرج نہیں ،،اور اگر محض مردوں سے مشابہت کی وجہ سے ہو تو پھر مکروہ ہو گا۔

    وگ لگوانا :

    اگر مصنوعی بال انسان اور خنزیر کے علاوہ کسی اور جانور کے ہوں،یا پھر حلالاجزاء سے تیار کردہ ہوں ان کے لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ دھوکہ دینا مقصود نہ ہو۔ محیط برہانی میں ہے : وانما جاءت الرخصۃ فی شعر غیر بنی آدم، تتخذہ المراۃ، ویزید فی قرونھا ترجمہ: انسانی بالوں کے علاوہ بال لگوانے کی رخصت ہے کہ خاتون لگائے اور اپنی مینڈھوں میں اضافہ کرے۔

    نوٹ:لیکن یاد رہے کہ وضو میں وگ پر مسح نہیں ہوگا۔

    Bleach, Cream, Massage اور فیشل کروانا بھی مذکورہ شرائط کے ساتھ جائز ہے۔

    حدیث مبارک میں ہے :اَیُّ النِّساءِخَیْرٌ ؟ قَالَ : الّتِیْ تَسُرُّہُ اِ ذَا نَظَرَ ، وَتُطِیْعُہُ اِذَا اَمَرَ ، وَلَا تُخَالِفُہُ فِی نَفْسِھَا وَماَ لِھَا بِمَا یَکْرَہُ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا عورتوں میں سے کونسی عورت بہتر ہے تو آپ ﷺ نےفرمایا :وہ عورت کہ جب اسے اس کا خاوند دیکھے تو خوش ہو جائے اور جب اسے حکم دے تو یہ اس کی اطاعت کرے اور اپنی جان اور مال کے بارے میں کوئی ایسا اقدام نہ کرے جو اسکے خاوند کو ناگوار ہو۔

    ملا علی قاری اس کی شرح فرماتے ہیں :(اذا نظر ): ای الیھا ورای منھا البشاشۃ و حسن الخلق و لطف المعاشرۃ ، وان اجتمعت الصورۃ والسیرۃ فھی سرور علی سرور ،نور علی نور ترجمہ: یعنی جب شوہر اس کی طرف دیکھے تو اس کا چہرہ ترو تازہ ہو اور اچھے اخلاق والی ہو ، صحیح رہن سہن والی ہو ۔اور اگر سیرت اور صورت دونوں اچھی ہوں تو سرور ہی سرور ہے اور نور ہی نور ہے ۔

    بھنووں کے علاوہ چہرے کے بال صاف کرنا :

    چہرے کےغیرضروری بال جو عجیب وغریب لگتے ہوں انہیں صاف کرنے کی گنجائش ہے بالخصوص جب شوہر کو ان سے کراہت آتی ہو۔ علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہلکھتے ہیں: فلو کان کان فی وجھا شعر ینفر زوجھا عنھا بسببہ ففی تحریم ازالتہ بعد لان الزینۃ للنساء مطلوبۃ للتحسین‘‘ ترجمہ: اگر خاتون کے چہرےمیں بال ہیں جس سے شوہر کو نفرت ہوتی ہے ،تو ان بالوں کو دور کرنے کو حرام قرار دینابہت دور کی بات ہے، کیوں کہ خواتین میںحسن و جمال کی بنا پر زینت مطلوب ہے۔(رد المحتار جلد 6 صفحہ373 دار الفکر ) ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 صفر المظفر ا1444 ھ/12 ستمبر 2022 ء