سوال
ایک رشتہ دار ہے جس کا حال ہی میں نکاح ہوا ہے ،لڑکی والوں کی طرف سے دنیاوی شرائط بہت تھیں مثلاً لڑکے کا ذاتی گھر ہونا چاہیے جب کہلڑکا والدین کے ساتھ رہتا ہے والدین کا اپنا ذاتی گھر ہے۔حق مہر پانچ لاکھ روپےجو کہ زیور کے طور پر اس نے ادا کر دیا ہے ،لڑکا فی زمانہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچہ اٹھا سکتا ہے ۔صرف زیادہ ڈیمانڈ کی وجہ سے لڑکے نے غلط بیانی کی کہ یہ سب کچھ موجو د ہے یعنی گھر وغیرہ اپنا ہے ۔نکاح کے بعد حقیقت سامنے آئی کہ گھر اپنا نہیں ہے اس نے غلط بیانی کی تو لڑکی والوں کا کہنا ہے کہ جھوٹ پر رشتے نہیں ہوتے ،انکے مطابق ایک حدیثہے کہ ایسے رشتےختم کر دیے جائیں ۔وہ یہ رشتہ ختم کرنے جا رہے ہیں ۔لڑکا سچی توبہ کرکے آئندہ جھوٹ نہ بولنے کا ارادہ کرکے معافی مانگ چکا ہے ۔لڑکی کا کہنا ہے جیسے میرے والدین چاہیں گے ویسا ہوگا ۔ نوٹ : نکاح کفو میں ہی ہوا سائل :عبداللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
واضح رہے کہ نکاح کا رشتہ الفت و محبت کی بنیاد پر قائم کیا جانا چاہیے۔ اس کے ذریعے شوہر اور بیوی، جو ابتدا میں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں، باہم ملتے ہیں اور ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کا عہد کرتے ہیں۔نکاح صرف دو افراد کے درمیان محبت کے تعلق کو پیدا نہیں کرتا بلکہ دو خاندانوں کے درمیان بھی تعلق و محبت کو مضبوط کرتا ہے ۔لہٰذا اس مقدّس رشتے کے قیام میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی یا دھوکا دہی سے اجتناب ضروری ہے۔بَہرحال، جب ان دونوں کے درمیان نکاح ہوا تو لڑکے نے یہ کہا کہ "میرا اپنا ذاتی گھر ہے"، حالانکہ حقیقت میں اس کا اپنا گھر نہیں تھا۔یہ غلط بیانی یا جھوٹ بولنا شرعاً کبیرہ گناہ ہے۔ اگرچہ نکاح درست طور پر منعقد ہو گیا ؛کیونکہ نکاح کی تمام شرائط (ایجاب و قبول، گواہان، کفو بھی ہے کہ اتنے مال پر قادر ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کو نان و نفقہ دے سکتا ہے) پائی گئیں، ،مگر اس جھوٹ کے باعث لڑکا سخت گناہ گار ہوا۔لہٰذا اس پر توبہ اور استغفار اور آئندہ اس قسم کے عمل سے اجتناب کا پختہ ارادہ کرنا لازم ہے ۔اور لڑکے نے اس جھوٹ و غلط بیانی پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کر لی ، امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی توبہ قبول فرمائے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمانے والا، نہایت مہربان ہے۔
محض اس بنیاد پر کہ اس نے نکاح کے وقت غلط بیانی کی تھی، رشتہ ختم کرنا یا نکاح کو فسخ کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ فقہاء نے جو اسبابِ فسخِ نکاح بیان کیے ہیں، ان میں یہ سبب شامل نہیں۔جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ "جھوٹ کی بنیاد پر رشتے قائم نہیں ہوتے، ایسے رشتے ختم کر دیے جائیں" تو اس مفہوم کی کوئی حدیث نہیں ملتی۔بلکہ اس کے برخلاف اسلام نے صلہ رحمی، باہمی حسنِ سلوک اور رشتہ داروں سے تعلق جوڑنے کی تاکید فرمائی ہے، اور قطعِ رحِم (رشتہ توڑنے) والوں کے متعلق فرمایا کہ یہ جنت میں داخل نہیں ہونگے ۔
دلائل وجزئیات :
اسلام میں نکاح ایک مقدس اور عظیم رشتہ ہے، جو محبت، سکون اور بھروسے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہےاس کے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ.ترجمہ:اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ اُن سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبّت اور رحمت رکھی بےشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے۔ (الروم: 21)
جس نے دھوکہ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلّم نے فرمایا وہ میرے طریقہ پر نہیں جیسا کہ سنن الترمذی میں ہے :’’ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلّی اللہ علیہ و الہ وسلّم مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ، مَا هَذَا؟»، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا‘‘.ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم گندم کی ایک ڈھیری پہ گزرے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے اپنی دست مبارک اس ڈھیری میں ڈلا آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی انگلیوں کو تَری پہنچی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آئے ڈھیری کے مالک یہ کیا ہے ؟تو اس نے عرض کی ائے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے بارش کا پانی پہنچا ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تو تم نے یہ تَر حصہ اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ۔ ( سنن الترمذی ، أبواب البيوع، باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع،ج:3،ص:598، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)
نکاح میں جب ایجاب و قبول پایا جائے اور گواہ بھی موجود ہوں تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے مختصر القدوری میں ہے :’’ النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول...... ولا ينقعد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين بالغين عاقلين مسلمين أو رجلٍ وامرأتين، عدولًا كانوا أو غير عدولٍ، أو محدودين في قذفٍ‘‘. ترجمہ :نکاح ایجاب و قبول سے منعقد ہوجاتا ہے ......اور نکاح ان دو گواہوں کی موجودگی میں منعقد ہوجاتا ہے کہ دونوں آزاد ہو،بالغ ہوں،عاقل ہوں،مسلمان ہوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ہوں یہ گواہ عادل ہویا نہ ہویا تہمتِ حد لگے ہوئے ہوں ۔(اللباب فی شرح الکتاب ، كتاب النكاح،ج:3،ص:3، المكتبة العلمية، بيروت – لبنان)
نکاح کے لازم ہونے کی شرائط کو بیان کرتے ہوئے'علامہ وہبہ الزحیلی ' فرماتے ہیں:’’ أن يكون الزوج كفئًا للمرأة، فإن زوجت المرأة نفسها من غير كفء لها، كان للأولياء حق الاعتراض، ويفسخ القاضي العقد إن ثبت له عدم كفاءة الزوج دفعًا للعار. وهذا متفق عليه بين المذاهب كما تقدم‘‘. ترجمہ : یہ کہ شوہر عورت کے لیے کفوہو۔پس اگر خود عورت نے کسی ایسے مرد سے نکاح کیا جو اس کا کفو نہیں تھا، تو اولیاء کو اعتراض کا حق حاصل ہوتا ہے، اور اگر قاضی کے نزدیک شوہر کا غیر کفوہونا ثابت ہو جائے، تو وہ اولیاءکوعار سے بچانے کے لیے نکاح کو فسخ کر سکتا ہے۔ اور یہ بات جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، تمام فقہاء کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ ( الفِقْهُ الإسلامي وأدلته، القسم السادس: الأحوال الشخصية، الباب الأول: الزواج وآثاره، الفصل الخامس: الكفاءة في الزواج، المبحث الثالث ،صاحب الحق في الكفاءة،ج:9،ص:6744، دار الفكر - سوريَّة ۔ دمشق)
اولیاء نے اگر لڑکی کی رضامندی سے نکاح کرد یا تو کسی کو فسخ نکاح کا اختیار نہیں اس بارے علامی ابن عابن خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں :’’و لو زوجو ا ها برضاها و لم یعلموا بعدم الکفاءة ثم علموا لا خیار لاحد ‘‘.ترجمہ اگر اولیاءنے عورت کی رضا مندی سے نکاح کر دیا اور کفو ہونے کو نہیں جانتے پھر جانا تو کسی کو بھی اختیار نہیں ۔(ر دالمحتار علی الدر المختار،کتاب النکاح ،باب الکفاءة ،ص:4،ص:196،قدیمی کتب خانہ)
رشتہ توڑنے والوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک :’’محَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنِ النَّبِيِّ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم قال «لا يدخل الجنة قاطع». قال ابن أبي عمر: قال سفيان: يعني قاطع رحم.ترجمہ : حضرت محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد(جبیر بن مطعم) سے روایت کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قطع تعلق کرنے والا ہے، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔اور ابن ابی عمر نے کہا کہ سفیان ثوری نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:یعنی قاطع سے مراد وہ شخص ہے جو رشتہ داری توڑنے والا ہو۔ (صحیح مسلم ، كتاب البر والصلة والآداب، باب صلة الرحم، وتحريم قطيعتها،ج:4،ص:1981، دار إحياء التراث العربي ببيروت)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتــــــــــــــــــــــــــبه:محمدسجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 01جمادی الاولی 1446ھ/24اکتوبر2025