Qist Ada Na Karne Par Mobile Band Karna Kaisa
سوال
آج کل قسطوں پر موبائل بیچنے والے ، تاخیر پر جرمانہ تو نہیں لگاتے لیکن موبائل کو کمپنی کے واسطے سے عارضی طور پر بند کروادیتے ہیں، جس سے موبائل ایک کھلونا ہوجاتا ہے۔ جب قسط بھر دی جاتی ہے، تو موبائل کھول دیتے ہیں۔ ایسا کرنا شرعاً کیسا؟سائل: مولانا محمد یاسر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
قسطوں پر موبائل کی خرید و فروخت میں ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے موبائل کو عارضی طور پر بند کر دینا، جائز ہے۔
عقدِ بیع میں اگر قیمت کی ادائیگی کے لیے کوئی مدت مقرر کر دی جائے (یعنی تاجیل کی جائے) تو بائع کا حقِ حبس (مبیع کو روکنے کا اختیار) ختم ہو جاتا ہے اور اس پر مبیع مکمل طور پر مشتری کے سپرد کرنا لازم ہوتا ہے۔ تاہم، قسطوں کے کاروبار میں حقِ حبس ختم نہیں ہوتا، کہ یہاں اسے قسط کی ادائیگی سے مشروط کیا جاتا ہے، یعنی اس میں عرف رائج ہے، اور قاعدہ مشہور ہے کہ’’ والمعہود عرفا کالمشروط لفظا‘‘ (یعنی جو بات عرف میں طے شدہ ہو وہ لفظی شرط کی طرح ہی نافذ العمل ہوتی ہے)۔ نیز اس میں فریقین کی رضا مندی بھی شامل ہوتی ہے۔ لہذا تاخیر کی صورت میں مبیع سے انتفاع کو روک لینے کا حق بائع کو حاصل ہوتا ہے، اور پوچھی گئی صورت میں موبائل کو بند کردینا اسی حقِ حبس کی جدید صورت ہے، جو کہ جائز ہے۔
مزید یہ کہ خریدار کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ ادائیگی میں ٹال مٹول سے باز رہے۔ قدرت کے باوجود قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر کرنا سخت گناہ، ظلم اور شیطانی رَوِش کو اپنانا ہے (صحیح البخاری: 2287، الجامع الصغیر وزیادتہ: 6261)۔ احادیثِ مبارکہ کے مطابق قدرت ہونے کے باوجود قرض دبائے رکھنا بندے پر روزانہ گناہ لکھے جانے کا باعث ہے (شعب الایمان: 10719، المعجم الاوسط: 5029)۔ اور مرنے کے بعد اپنے پیچھے ایسا قرض چھوڑ جانا جس کی ادائیگی کا انتظام نہ ہو، کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے(سنن ابی داود : 3342)۔ شرعی طور پر ایسے ٹال مٹول کرنے والے کو ظالم، فاسق و فاجر اور کذاب قرار دیا گیا ہے جسے دنیا میں بھی رسوا یا قید کیا جا سکتا ہے(مرآۃ المناجیح، 4/342)۔ جب کہ آخرت میں اس کی نیکیاں (مثلاً نمازیں) قرض کے بدلے میں حقداروں کو دے دی جائیں گی اور نیکیاں ختم ہونے پر لوگوں کے گناہ اس کے سر ڈال کر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا(فتاوی رضویہ، 25/68-69)۔ لہٰذا ان پر فرض ہے کہ وہ عذابِ الٰہی سے ڈریں، وعدہ خلافی سے بچیں اور مقررہ وقت پر قسطیں ادا کر کے اپنے ذمہ کو فارغ کریں۔
دلائل و جزئیات:
شرطِ متعارف کے استحساناً معتبر ہونے پر درر الحكام شرح مجلۃ الأحكام میں ہے: البيع بشرط متعارف يعني المرعي في عرف البلد صحيح والشرط معتبر... الشرط المتعارف ولو لم يكن من مقتضيات العقد جوز البيع معه استحسانا وصار معتبرا هندية ، انظر المواد 36 و 38 و 83 وجواز البيع معه خلاف القياس ؛ لأن فيه نفعا لأحد المتعاقدين ووجه الاستحسان العرف والتعامل ؛ لأن الشرط متى كان متعارفا فلا يكون باعثا على النزاع ويحصل الملك المقصود بغير خصام". ترجمہ: شرطِ متعارف یعنی شہر کے عرف میں جاری شرط کے ساتھ بیع کرنا صحیح ہے اور شرط معتبر ہےاور شرطِ متعارف اگرچہ مقتضیاتِ عقد میں سے نہ ہو، اس کے ساتھ بیع استحساناً جائز ہے اور وہ معتبر قرار پائی ہے ، (ہندیہ) دیکھیے مواد 36، 38 اور 83۔ اور اس کے ساتھ بیع کا جواز خلافِ قیاس ہے؛ کیونکہ اس میں عاقدین میں سے کسی ایک کا نفع ہے، اور استحسان (جواز) کی وجہ عرف اور تعاملِ ناس ہے؛ کیونکہ شرط جب متعارف ہو تو وہ نزاع کا باعث نہیں بنتی اور مقصود ملك بغیر جھگڑے حاصل ہو جاتا ہے۔ (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة: 188، 1/137-138، دار الكتب العلمية، بيروت)
عرفی شرائط کے باعثِ نزاع نہ ہونے اور حدیث کے نہیِ شرط سے مستثنیٰ ہونے پر اسی میں ہے: "علة النهي عن البيع بالشرط الوارد في الحديث الشريف ما يثيره البيع بالشرط من النزاع بين المتبايعين ؛ لأن غاية الشارع إنما هي قطع النزاع وحسم الخلاف بين الناس والشروط التي يجري بها العرف والعادة ليست مما يسبب نزاعا ويصير خصاما فلا تكون مقصودة بالنهي الوارد في الحديث الشريف رد المحتار". ترجمہ: حدیثِ شریف میں بیع بالشرط سے ممانعت کی علت وہ نزاع و جھگڑا ہے جو بیع بالشرط خریدار اور بیچنے والے کے درمیان پیدا کرتی ہے؛ کیونکہ شارع کا بنیادی مقصد لوگوں کے درمیان نزاع کو ختم کرنا اور اختلاف کا قلع قمع کرنا ہے، جبکہ وہ شرائط جن پر عرف و عادت جاری ہو ان سے نزاع پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ خصومت کا سبب بنتی ہیں، لہٰذا وہ حدیثِ شریف میں وارد ممانعت کا مقصود و مراد نہیں ہیں (رد المحتار)۔ (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، تحت المادة: 188، 1/138، دار الكتب العلمية، بيروت)
ملائمِ عقد شرط کے صحیح ہونے اور مقتضائے عقد کے لاحق ہونے پر علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں: "الشرط الذي لا يقتضيه العقد لكنه ملائم للعقد لا يوجب فساد العقد أيضا لأنه مقرر لحكم العقد من حيث المعنى مؤكدا إياه على ما نذكر إن شاء الله تعالى فيلحق بالشرط الذي هو من مقتضيات العقد". ترجمہ: وہ شرط جس کا عقد تقاضا تو نہیں کرتا لیکن وہ عقد کے ملائم (موافق) ہوتی ہے، وہ بھی عقد کے فساد کا موجب نہیں بنتی؛ کیونکہ وہ معنی کے اعتبار سے عقد کے حکم کو ثابت اور اس کی تاکید کرنے والی ہوتی ہے جیسا کہ ہم ان شاء اللہ تعالیٰ آگے ذکر کریں گے، لہٰذا اسے اس شرط کے ساتھ لاحق و ملحق کیا جائے گا جو مقتضیاتِ عقد میں سے ہوتی ہے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، 5/171، دار الكتب العلمية، بيروت) ۔واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25محرم الحرام 1448ھ/11 جولائی 2026ء