warasat ka masla wasiyat ka hukam
سوال
ثمینہ بانو کا انتقال ہوا ، اسکے ورثاء میں شوہر(محمد یحییٰ) ماں(حمیدہ) ایک بیٹا(محمد بلال) اور دو بیٹیاں (مدیحہ، عائشہ) ہیں۔ ثمینہ کی وراثت میں تین عدد سونے کے سیٹ تھے جس میں سے اس نے اپنی دو بیٹیوں کو الگ الگ دو سیٹ دے دیئے تھے، اور تیسرے سیٹ کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا کہ اگر تمہاری بیٹی یعنی میری پوتی پیدا ہو تو یہ اسکا ہے اور ورنہ تمہارے بیٹے یعنی میرے پوتے کی شادی ہوگی تو اسکی بیوی کو دینا۔ اس وقت بیٹا دو سال کا ہے جبکہ بیٹی پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی اس وقت حمل تھا۔
بعد ازاں محمد یحیی کا انتقال ہوا ۔ اسکے والدین میں کوئی موجود نہیں ہے۔جبکہ بقیہ ورثاء وہی ہیں ۔ اسکی وراثت میں ایک فلیٹ اور ایک گاڑی ہے۔تمام ورثاء کے مابین وراثت کی شرعی تقسیم فرمادیں ۔
سائل: بلال: کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں تین امور ہیں:
1: ھبہ ۔
2: وصیت ۔
3: وراثت۔
1: ثمینہ بانو نے اپنی دو بیٹیوں کو الگ الگ سونے کے سیٹ دیئے انکی شرعی حیثیت ھبہ (gift) کی ہے،جس کا حکم یہ ہے جب شئی موھوبہ (جو چیز ھبہ کی)کو موہوب لہ (یعنی جس کے لیے گفٹ کیا گیا ہے) اپنے قبضے میں لے لے، تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے ھبہ کیاگیاہے ، اب اس پر کسی غیر کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
ہبہ کی تعریف کے حوالے سے علامہ محمد بن فرامرز المعروف ملا خسرو علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:(تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ) أَيْ بِلَا شَرْطِ عِوَضٍ لَا أَنَّ عَدَمَ الْعِوَضِ شَرْطٌ فِيهِ۔ترجمہ: کسی چیز کا( دوسرے کو )بلا عوض ( بغیر عوض کی شرط کے )مالک بنادینا ہبہ کہلاتا ہے ،یعنی اسمیں عوض کا ہونا شرط و ضروری نہیں ۔(درر الحكام شرح غرر الأحكام جلد 2 صفحہ 217 دار إحياء الكتب العربية)
تنویرالابصار میں ہے: وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ) ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے :لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
2: امرِ ثانی کا حکم یہ ہے کہ مذکورہ وصیت شرعاً معتبر نہیں ہے کیونکہ وصیت کے صحت و نفاذ کو لازم ہے کہ موصٰی لہ (جس کے لئے وصیت ہو) موصِی (جو وصیت کرے )کی موت کے وقت حقیقاً یا حکماً موجود ہو۔حقیقتاً موجود ہونے سے مراد یہ ہے کہ موصٰی لہ ، موصِی کی موت کے وقت زندہ ہو۔اور حکماً یہ ہے موصٰی لہ حمل ہو اور وہ وقت وصیت سے لےکر چھ ماہ سےگزرنے پہلے پہلے پیدا ہوجائے۔
جبکہ صورتِ مستفسرہ میں اولاً موصٰی لھا(ثمینہ بانو کی پوتی) کا اصلاً وجود نہیں، نہ حقیقتاً نہ حکماً تو اس حق میں وصیت کیونکر صحیح و نافذ ہوگی۔؟
رہا اسکے پوتے کی بیوی کا معاملہ تو اسکے حق میں بھی وصیت درست نہیں کیونکہ یہاں موصٰی لہ مجہول ہے کہ اولاً علم نہیں کہ پوتا شادی کے قابل ہونے تک باقی رہے یا نہیں؟ پھر ثانیاً کہ اگر قابل ہوبھی گیا تو کیا لازم شادی ہو بھی یا نہ ہو؟ کہ دنیا میں بے شمار لوگ بغیر شادی کئے اس جہاں سے چل دیئے۔ پھر شادی اگر ہو بھی جائے تو اس بات کی تعیین کیسے ہوگی کہ اسکی زوجہ وقتِ موتِ موصِی موجود تھی یا بعد میں پیدا ہوئی؟ الغرض
پوتے کی بیوی کے بارے میں ایسی جہالت ہے جس کا ارتفاع ممکن نہیں ۔ سو ایسی جہالت ضرور نفاذ وصیت سے مانع ہوگی اور وصیت جائز نہ ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے: وأما) الذي يرجع إلى الموصى له، فمنها أن يكون موجودا، فإن لم يكن موجودا لا تصح الوصية؛ لأن الوصية للمعدوم لا تصح ۔ ترجمہ: وہ شرائط جو موصٰی لہ کی طرف لوٹتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ موصٰی لہ موجود ہو ، سو اگر موجود نہ ہو تو وصیت درست نہ ہوگی کیونکہ معدوم کے لئے وصیت درست نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع جلد 7 ص 335)
اسی میں ہے: إذا ولدت لأقل من ستة أشهر، وإذا جاءت به لستة أشهر فصاعدا لا يعلم وجوده في البطن لاحتمال أنها علقت بعده. فلا يعلم وجوده بالشك۔ ترجمہ: (پیٹ میں موجود بچے کے لئے وصیت اس وقت درست ہوگی )جب ولادت چھ ماہ سے کم عرصہ میں ہوجائے، مگر جب چھ ماہ کے بعد ولادت ہو تو پیٹ میں اسکا وجود معلوم نہیں کیونکہ احتمال ہے کے وصیت کے بعد نطفہ جما ہوا۔ تواسکا وجود شک کی وجہ سے معلوم نہیں ہوا۔ (بدائع الصنائع جلد 7 ص 336)
البنایہ شرح الھدایہ میں ہے: الوصية للمعدوم باطلة۔ ترجمہ:معدوم کی وصیت باطل ہے۔ (البنایہ شرح الھدایہ للعینی، جلد 470)
فتاوٰی ہندیہ میں ہے: وتجوز الوصية للحمل وبالحمل إن ولدت لأقل من ستة أشهر من وقت الوصية۔ ترجمہ:حمل کی اور حمل کے لئے وصیت جائز ہے جبکہ وہ وقتِ وصیت سے چھ ماہ پہلے پیدا ہوجائے۔ (الفتاوٰی الھندیہ، کتاب الوصیۃ، ج6،ص92)
بہارِ شریعت میں ہے :پیٹ کے بچہ کی اور پیٹ کے بچے کے لئے وصیّت جائز ہے بشرطیکہ وہ بچہ وقت وصیّت سے چھ ماہ سے پہلے پہلے پیدا ہوجائے۔ (بہار شریعت جلد 3 ص 942)
مجہول کی وصیت کے بارے میں بدائع میں ہے: ومنها أن لا يكون مجهولا جهالة لا يمكن إزالتها، فإن كان لم تجز الوصية له؛ لأن الجهالة التي لا يمكن استدراكها تمنع من تسليم الموصى به إلى الموصى له، فلا تفيد الوصية۔ ترجمہ:ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ موصٰی لہ ایسا مجہول نہ ہوکہ جسکی جہالت کا ارتفاع ممکن نہ ہو ، اگر ایسا ہوا تو وصیت جائز نہیں ہے کیونکہ وہ جہالت جسکا ارتفاع ممکن نہ ہو موصٰی بہ پر موصٰی لہ کے قبضہ سے مانع ہے لہذا مفیدِ وصیت نہ ہوگی۔ (بدائع الصنائع جلد 7 ص 342)
3: وراثت کی تقسیم یوں ہوگی کہ ثمینہ بانو اور یحییٰ دونوں کے کل مالِ وراثت ( موجودہ سونے کا سیٹ ، فلیٹ گاڑی اور اسکے علاوہ جو کچھ مال ہے) کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے انکی ماں (حمیدہ) کو 8 حصے ، بیٹے (بلال) کو 20 حصے اور دونوں بیٹیوں (مدیحہ، عائشہ) کو الگ الگ10 حصے ملیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی:وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے)اگر میت کے اولاد ہو ۔(النساء : آیت نمبر ٍ10)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:06 ذوالقعدہ 1443 ھ/06 جون 2022 ء