qatl ki diyat mein hamal ke waris hone ka hukm
سوال
ایک شخص کے قتل کے بعد اگر ورثاء اس کی دیت پر راضی ہو جائیں، تو کیا یہ دیت اُس بچے کو بھی ملے گی جو ابھی ماں کے پیٹ میں حمل کی صورت میں ہے؟ نیز تقسیم کا طریقہ بھی تحریر فرمائیں، اس معاملے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
سائل: امجد علی (وکیل)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی اعتبار سے مقتول کی دیت مقتول کے ترکہ کے زمرے میں آتی ہے، لہٰذا اسے دیگر اموالِ ترکہ کی طرح تمام مستحق ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ اصولِ میراث کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ نیز، چونکہ حمل میں موجود بچے کو بھی وارث شمار کیا جاتا ہے، اس لیے اسے بھی میراث میں اس کے شرعی حصے کے مطابق حصہ دیا جائے گا۔
ورثاء میں ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، اس کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے ادا کیا جائے، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے پورا کیا جائے، اور باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ (دیت) کو شرعی ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے۔
اگر ورثاء میں حمل والا بچہ بھی شامل ہے تو اس کے پیدا ہونے تک ورثت کی تقسیم کو موقوف رکہا جائے، اوراگر فوری طور پر تقسیم کرنا ضروری ہے تو اسکی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے حمل کو لڑکا فرض کر کے مسئلہ تیار کیا جائے، پھر اسے لڑکی فرض کر کے دوبارہ مسئلہ بنایا جائے۔ اس کے بعد موجودہ ورثاء کو دونوں صورتوں میں سے جو کم سے کم حصہ بنتا ہو وہ دے دیا جائے، اور باقی حصہ موقوف رکھا جائے۔ جبکہ حمل کے لیے دونوں صورتوں میں سے جو زیادہ سے زیادہ حصہ بنتا ہو، اسے محفوظ رکھا جائے تاکہ پیدائش کے بعد اسی کے مطابق تقسیم کی جا سکے۔اور اگر بچہ مردہ پیدا ہوا تو مسئلہ ازسرنو بنے گا، اور اُس کے لئے روکے گئے تمام حصے موجود وارثین میں حسبِ ضابطہ تقسیم ہوں گے۔
دلائل وجزئیات:
دیت کی حیثیت ترکہ و میراث والی ہوتی ہے جیساکہ سنن ابو داود کی حدیث ہے :عن عمرو بنِ شُعيب، عن أبيه عن جده، قال: وقال رسولُ الله - ﷺ -: «إن العقلَ ميراثٌ بينَ ورثةِ القتيل على قرابتِهم،ترجمہ: حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بیشک دیت مقتول کے وارثوں کے درمیان ان کی قرابت (رشتہ داری) کے مطابق میراث ہوتی ہے۔(سنن ابی داود:حدیث:4563،جلد:5،ص:619،مطبوعہ دارالرسالۃ العالمیہ)
اسی طرح مشکاۃ المصابیح کی حدیث ہے:وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ» ترجمہ: عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: بیشک دیت مقتول کے وارثوں کے درمیان ان کی قرابت کے مطابق میراث ہوتی ہے۔(مشکاۃ المصابیح:حدیث نمبر:3500جلد:2 :1040 ،مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت)
ترکہ میں دیت شامل ہوتی ہے، جیساکہ فتاوی شامی میں ہے: لَان التَّرِكَة فِي الِاصْطِلَاح مَا تَرَكَهُ الْمَيِّتُ مِنْ الْأَمْوَالِ صَافِيًا عَنْ تَعَلُّقِ حَقِّ الْغَيْرِ بِعَيْنٍ مِنْ الْأَمْوَالِ كَمَا فِي شُرُوح السِّرَاجِيَّة.وَاعْلَم أَنه يدْخل التَّرِكَةِ الدِّيَةُ الْوَاجِبَةُ بِالْقَتْلِ الْخَطَأِ أَوْ بِالصُّلْحِ عَنْ الْعَمْدِ أَوْ بِانْقِلَابِ الْقِصَاصِ مَالًا بِعَفْوِ بَعْضِ الْأَوْلِيَاءِ، فَتُقْضَى مِنْهُ دُيُونُ الْمَيِّتِ وَتُنَفَّذُ وَصَايَاهُ كَمَا فِي الذَّخِيرَةِ. ترجمہ:کیونکہ اصطلاح میں ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو میت چھوڑ جائے، بشرطیکہ وہ مال کسی دوسرے کے حق کے ساتھ مخصوص طور پر متعلق نہ ہو، جیسا کہ شروحِ سراجیہ میں مذکور ہے۔اور جان لو کہ ترکہ میں وہ دِیَت بھی داخل ہوتی ہے جو قتلِ خطا کی وجہ سے واجب ہوئی ہو، یا عمد کے بدلے صلح کے ذریعے طے پائی ہو، یا بعض اولیاء کے معاف کر دینے کی وجہ سے قصاص مال میں بدل گیا ہو۔ پس اس (دیت) میں سے میت کے قرض ادا کیے جائیں گے اور اس کی وصیتیں نافذ کی جائیں گی، جیسا کہ ذخیرہ میں مذکور ہے۔(حاشیہ ابن عابدین:جلد5،ص:350،مطبوعہ دار الفکر بیروت)
البحر الرائق میں ہے کہ اگر ورثاء میں حمل والا بچہ بھی شامل ہے تو وراثت کی تقسیم اس طرح ہے: ثُمَّ يُقْسَمُ الْبَاقِي عَلَى الْأَوْلَادِ وَيُتْرَكُ نَصِيبُ الْحَمْلِ مِنْهُ عَلَى الِاخْتِلَافِ الَّذِي ذَكَرْنَا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْوَرَثَةِ ذَكَرٌ وَالْحَمْلُ مِنْ الْمَيِّتِ يُعْطَى كُلُّ وَارِثٍ نَصِيبَهُ عَلَى تَقْدِيرِ أَنَّ الْحَمْلَ ذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى أَيُّهُمَا أَقَلُّ، وَإِنْ كَانَ عَلَى أَحَدِ التَّقْدِيرَيْنِ يَرِثُ دُونَ الْآخَرِ فَلَا يُعْطَى شَيْئًا وَكَذَا إذَا كَانَ فِيهِمْ مَنْ لَا يَرِثُ عَلَى تَقْدِيرِ وِلَادَتِهِ حَيًّا وَعَلَى تَقْدِيرِ وِلَادَتِهِ مَيِّتًا يَرِثُ فَلَا يُعْطَى شَيْئًا لِلِاحْتِمَالِ، وَإِنْ كَانَ نَصِيبُهُ عَلَى أَحَدِ التَّقْدِيرَيْنِ أَكْثَرَ يُعْطَى الْأَقَلَّ لِلتَّيَقُّنِ بِهِ وَيُوقَفُ الْبَاقِي :ترجمہ: پھر بقیہ ترکہ اولاد میں تقسیم کیا جائے، اور حمل کا حصہ اس اختلاف کے مطابق محفوظ رکھا جائے گا جو ہم نے پہلے ذکر کیا۔اور اگر وارثین میں کوئی مرد نہ ہو اور حمل ہی صرف ہو تو ہر وارث کو اس کا حصہ دیا جائے گا اس طرح جو کم بنتا ہو مذکر یا مونث فرض کرنے میں ۔اور اگر کسی صورت میں وارث دوسرےصورت کے مقابلے میں وراثت کا حقدار نہ ہو تو اسے کچھ نہیں دیا جاتا۔اسی طرح اگر کچھ وارث ایسے ہوں جو:ایک صورت(لڑکے کے طور پر) پر زندہ پیدا ہونے پر وراثت پائیں،اور دوسرےصورت (موت کے وقت پیدا ہونے پر) پر وراثت نہ پائیں،تو ان کو کچھ نہیں دیا جاتا ،تاکہ احتمال کا خیال رکھا جائے۔اور اگر کسی وارث کا حصہ دونوںصورتوں میں مختلف ہو اور ایک میں زیادہ اور دوسرے میں کم ہو، تو کم حصہ دیا جائے تاکہ یقین کے ساتھ دیا جا سکے اور بقیہ محفوظ رکھا جائے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق:تکلمہ البحرالرائق لطوری ،انواع الحجب ،جلد:8،ص:574،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: عبدالخالق بن محمد عیسیٰ
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1447 ھ/11 فروری 2026ء