وقف کو تبدیل کرنے کا حکم
    تاریخ: 27 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 906

    سوال

    1913 میں ہمارے دادا(حاجی احمد) نے اپنی دو جائیدادیں وقف کیں ، جسکی تفصیل یہ ہے کہ انہوں نے ایک جائیداد کے بارے میں کہا کہ اسکی آمدنی میں سے چھٹا حصہ دینی و خیراتی کاموں میں صرف کیا جائے اور بقیہ میری تمام اولاد پر نسل در نسل خرچ کیا جائے ۔ نہ ان جائیدادوں کو کوئی بیچ سکتا ہے نہ کرایہ کے علاوہ کوئی اور تصرف کرسکتا ہے محض ان جائیدادوں کو کرایہ پر دیا جاسکتا ہے اور اس کرائے کی تقسیم حسبِ بالا طریقے سے کی جائے گی۔اللہ نہ کرے اگر کسی زمانے میں میری نسل میں سے کوئی شخص باقی نہ رہے اس ان دقف املاک کی کل آمدنی مذہبی اور خیراتی کاموں میں خرچ کی جائے۔

    اسی طرح دوسری جائیداد کے بارے میں بھی یہی کہا کہ اسکے آمدنی میں سے 2 روپے دینی کاموں میں خرچ کیا جائے اور بقیہ میری تمام اولاد پر نسل در نسل خرچ کیا جائے۔ اللہ نہ کرے اگر کسی زمانے میں میری نسل میں سے کوئی شخص باقی نہ رہے اس ان دقف املاک کی کل آمدنی مذہبی اور خیراتی کاموں میں خرچ کی جائے۔

    1: بعد ازاں کسی نے ان جائیدادوں کو پگڑی پر بیچ دیا اور اب ان مکانات کی پگڑی کا کرایہ اور رسید پلٹائی کی رقم آتی ہے شرعی اعتبار سے بتائیے کہ پگڑی کی رسید پلٹائی لینا جائز ہے یا نہیں؟

    2: نیز کیا ہم ان جائیدادوں کو کسی بھی مرحلے پر اونرشپ کرسکتے ہیں یا نہیں؟

    3: ان تمام جائیدادوں کے پراپرٹی ٹیکس ، پانی کے ٹیکس ،الیکٹرک بلزوغیرہ بھی بھرنے پڑتے ہیں یہ تمام اخراجات کس مد سے کریں۔

    سائل: محمد عادل: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    حاجی احمد کا اپنی جائیداد کو مذکورہ طریقہ پر وقف کرنا، وقفِ صحیح و درست ہے ، اب ان تمام جائیدادوں پر وقف کے تمام احکام جاری ہونگے، لہذا ان تمام وقف املاک میں صرف وہ تصرفات جائز ہونگے جو حسبِ شرائط ِواقف ہوں اسکے علاوہ دیگر تمام کے تمام تصرفات شرعاً باطل و عاطل، فاسد و کاسد قرار پائیں گے۔ کیونکہ فقہاء کرام فرماتے ہیں ''شرط الواقف کنص الشارع علیہ الصلوۃ والسلام ''کہ واقف کی شرط بالکل ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نص واجب العمل ہے۔

    عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ :ترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔(عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)

    یونہی شامی میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ :ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)

    لہذا جب واقف نے شرط کردی کہ ان جائیدادوں کو محض کرائے پر دیا جائے گااور ان کا کرایہ مذکور فی السوال طریقے کے مطابق خرچ کیا جائے گا، تو بلاشبہ ان مکانات کو خالصتاً کرائے سے ہٹا کر پگڑی پر دے دینا قطعاً یقیناً ناجائز ہے کہ یہ ایسا تصرف ہے جو شرطِ واقف کے خلاف ہے لہذا ضرور بالضرور یہ تصرف باطل قرار پائے گا اور متولیان پر لازم و واجب ہے کہ ان مکان کو واپس اسی حالت پر لوٹائیں جسکی شرط واقف نے کر رکھی تھی۔ وگرنہ تمام مولیان شرط واقف کی خلاف ورزی کرنے کے سبب شرعاً ماخوذ و محسوب ہونگے۔

    فتاوٰی رضویہ میں سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں: شرع مطہر میں بلا شرط واقف کہ اسی وقف کی مصلحت کےلئے ہو وقف کی ہیأت بدلنا بھی ناجائز ہے اگرچہ اصل مقصود باقی رہے تو بالکل مقصدوقف باطل کرکے ایک دوسرے کام کےلئے دینا کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔سراج وہاج وفتاوٰی عالمگیری وغیرہما میں ہے: لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولاالخان حماما ولاالرباط دکانا الااذاجعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف۔ترجمہ:وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں، لہذا مکان کو باغ، سرائے کو حمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جائے گامگر اس وقت یہ تبدیلی ناجائز نہ ہوگی جب واقف نے خود متولی کو اختیار دیا ہو کہ مصلحت کےلئے جو تبدیلی بہتر سمجھیں کرلیں۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الوقف، جلد 16 ص54، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    نوٹ:

    1: اگر مکان پگڑی پر ہو تو ہمارے نزدیک اسکی رسید پلٹائی کی رقم لیناجائز ہوگا، البتہ صورت مستفسرہ میں چونکہ ان جائیدادوں کو پگڑی پر دینے کی صورت میں واقف کی شرائط کی خلاف ورزی لازم آرہی ہے لہذا ان جائیدادوں کو اولاً تو پگڑی پر دینا ہی جائز نہیں تو رسید پلٹائی کی رقم کیوں کر جائز ہوگی؟

    2: ہر گز نہیں ، بلکہ متولیان پر لازم ہے کہ ان تمام موقوفہ جائیدادوں پگڑی فی الفور ختم کی جائے اور انہیں انکی اصلی حالت پر واپس لوٹایا جائے۔جیساکہ در مختار میں ہے: الدر مع الردمیں ہے:فاذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن۔ترجمہ: پس جب وقف تام اور لازم ہوجائے تو اسکا نہ کوئی از خود مالک ہوگا اور نہ کسی کو مالک بناسکے گا۔

    اسکے تحت شامی میں ہے: قوله: لا يملك أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه۔ ترجمہ: یعنی نہ یہ صاحب وقف کا مملوک ہوگا اور نہ ہی بیع وغیرہ کے ذریعے غیر کی ملکیت قبول کرے گا۔ ( ردالمحتار علی الدرالمختارشرح تنویر الابصار ، ج 4 ص 352)

    3: وقف کی آمدنی سے اولاً یہ تمام اخراجات منہا کئے جائیں گے بعد ازاں جو رقم بچے اسے مذکورہ بالا طریقے سے تقسیم کیا جائے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 جمادی الاول 1445ھ/ 12 ستمبر 2023 ء