سوال
میرا ایک کزن ہے جس نے دبئی میں ایک خاص مسجد کے لئے چندہ کیا ، جب چندہ اس پاس جمع ہوگیا تو کسی نے اسکا ذہن بنایا کہ تم یہ چندہ فلانی دوسری مسجد میں خرچ کرو کیونکہ وہاں زیادہ ضرورت ہے اور اس نے ایسا ہی کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے کا کیا حکم ہے جائز یا ناجائز؟ اگر ناجائز تو اسکا ضمان کس پر ہوگا ؟ چندہ لینے والے پر یا ذہن بنانے والے پر یا کسی پر نہیں؟
سائل: صلاح الدین بن شمس الدین : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
چندہ دینے والے نے جس غرض کے لیے چندہ دیا ہے خاص اسی غرض میں خرچ کرنا نہایت ضروری ہے اسکے علاوہ کسی اور میں خرچ نہیں کرسکتے ۔ صورت مسئولہ میں جب ایک خاص مسجد کے لئے چندہ جمع کیا گیا تو اس مسجد کا چندہ دوسری مسجد میں لگانا چندہ دہنگان کی غرض کی خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے کہ مالِ وقف میں غرضِ واقف کی رعایت نہایت ضروری و لازم کہ وہ مثلِ نصِ شارع ہے۔
لہذا اس چندہ جمع کرنے والے پر اس تمام چندے کا ضمان لازم ہے کہ وہ اتنی رقم اپنے پلے چندہ دہندگان کو واپس کرےوہ نہ رہے ہوں تو انکے ورثاء کو واپس کرے یا انکی اجازت سے کسی دوسرے کام میں صرف کریں اور اگر چندہ دینے والوں کا علم نہ ہو تو اتنے پیسے اسی مسجد میں دے،جس کے لئے چندہ کیا۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں :یہ چندے جس خاص غرض کے لیے کیے گئے ہیں اسکے غیر میں صرف نہیں کئے جا سکتے ، اور اگر وہ غرض پوری ہو چکی ہے تو جس نے دیئے اسکو واپس دیئے جائیں یا اسکی اجازت سے دوسرے کاموں میں خرچ کریں ، بغیر اجازت کرچ کرنا ناجائز ہے۔(فتاوٰی امجدیہ ، کتاب الوقف،جلد 3 ص39)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :یہاں حکم شرعی یہ ہے کہ اوقاف میں پہلی نظر شرط واقف پر ہے یہ زمین و دکانیں اس نے جس غرض کےلئے مسجد پر وقف کی ہوں ان میں صرف کیا جائے گا اگرچہ وہ افطاری و شیرینی وروشنی ختم ہو اور اس کے سوا دوسری غرض میں اس کاصرف کرنا حرام ،حرام سخت حرام اگرچہ وہ بناء مدرسہ دینیہ ہو فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (واقف کی شرط ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نص)۔(فتاوٰ ی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 16 ص486،486، ملخصا)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے:وقف جس غرض کےلئے ہے اسکی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتی، نہ ایک مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں۔(فتاوٰی رضویہ جلد 16 ص 205)
اسی میں آپ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :چندہ کاروپیہ چندہ دینے والوں کا مِلک رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں جب اُس میں صَرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیاجائے یا کسی دوسرے کام کے لئے وہ اجازت دیں۔(فتاوٰ ی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 23 ص566،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاريخ اجراء:02 ذوالقعدہ 1444 ھ/23 مئی 2023 ء