انتقال مسجد کا مسئلہ و حکم
    تاریخ: 27 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 910

    سوال

    حالیہ بارشوں سےسیلابی پانی آ نےکی وجہ سےزیرِنظر(تصویر بذریعہ واٹساپ موصول ہوئی)مسجدشریف اورمسجدسےمتصل گوٹھ شدید متاثر ہوا ہےاورآئندہ گوٹھ اورمسجدشریف کوشدیدخطرہ ہےکیونکہ اب پانی گزرنےکارستہ یہی بن گیا ہے،جسکی وجہ سے گوٹھ والےنقل مکانی کر رہے ہیں تاہم مسجد کی وجہ سے کسی نہ کسی طرح رکے ہوئے ہیں کہ کہیں ہم پرشرعی حکم لاگو نہ ہو۔کیااس صورت میں گوٹھ والوں کےلیےکیاحکم ہےاسی مسجدکوشفٹ کرکےدوسری جگہ تعمیرکرسکتے ہیں یانہیں۔لھٰذاقرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:ابو الحسنین مولانا فقیر محمد علی نورانی نقشبندی:جمعہ پیر سارونہ بلوچستان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب مسجد ویران ہوجائے ،بایں طور کہ کسی آفتِ سماوی کے سبب لوگ وہ علاقہ چھوڑ جائیں یا کسی اور وجہ سے اس کو آباد کرنے کی کوئی صورت نہ رہے،اس صورت میں مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت ہے۔

    رہا یہ مسئلہ کہ اب اس مسجد کا کیا حکم ہوگا ؟تو امام محمد کے نزدیک وہ مسجد بانی مسجد کی ملک کی طرف لوٹ جائے گی ،وہ نہ ہو تو اس کے ورثا کی لوٹ جائے گی ۔جبکہ شیخین (امام ابو حنیفہ و امام ابو یوسف)کے نزدیک کسی بھی صورت میں مسجد کی مسجدیت ختم نہیں ہو گی،جمہور مشائخ نے اسی قول کو اختیار کیا ہے ۔البتہ امام ابویوسف علیہ الرحمہ سے مروی ایک اور روایت کے مطابق مسجد کو قاضی کی اجازت سے فروخت کر کے اس کا ثمن دوسری مسجد میں لگایا جائے گا ۔

    نوٹ: قاضی شرع نہ ہونے کی صورت میں فیصلہ کرنے کا اختیار مستند مفتی کو ہوگا ،وہ بھی نہ ہو تو متدین اہلِ محلہ کو ہو گا۔

    اس کی تفصیل یہ ہے کہ جس جگہ کو ایک مرتبہ مسجد قراردے دیا جائے تو تحت الثری سے عرش اعظم تک اُتنی فضاء مسجد ہوجاتی ہے اور قیامت تک ہمیشہ مسجد ہی رہے گی ، اب اس کو دوسری جگہ منتقل اور اسکی مسجدیت باطل نہیں کی جا سکتی ۔

    مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے والوں سے متعلق اللہ رب العزت کا قرآن پاک میں فرمان ہے :’’وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ترجمہ کنزالایمان :اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ، ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب۔ (البقرہ، آیت:114)

    اس آیت کے تحت صدرالافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ کنزالایمان پر اپنے حاشیہ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں :مسئلہ: جو شخص مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کردے وہ مسجد کا ویران کرنے وا لاا ور بہت ظالم ہے۔ (خزائن العرفان ،زیر آیت البقرہ :114)

    فتح القدیر میں ہے:”الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہ ۔“وقف کو اپنی حالت پر باقی رکھنا واجب ہے۔ (فتح القدیر مع الھدایہ،جلد5، ص 440، مطبوعہ کوئٹہ)

    عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ۔ترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔(عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)

    البتہ اگرکوئی مسجد ویران ہوجائے توضرورت کی وجہ سے اس مسجد کو منتقل کرنا یعنی اس مسجد کا ملبہ و عملہ بعینہ یا بیچ کر دوسری جگہ لگانا جائز ہے۔یہی بات کثیر کتب فقہ مثل مبسوط سرخسی،فتح القدیر، البحر الرائق، الاختیار لتعلیل المختار، ھندیہ،تنویر ، در ،شامی، فتاوٰی رضویہ وغیرہا میں بصراحت مذکور ہے۔ چناچہ سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمانانِ ہندوستان بہ تلاش معاش جنوبی افریقہ کے علاقہ ٹر نسوال میں جاکر آباد ہوئے، انہوں نے اس ملک میں مسجدیں بنائیں، اب وہاں کی گورنمنٹ نے ان پر طرح طرح کے ظلمی قانون نافذ کررکھے ہیں جن کی وجہ سے ان کا رہنا وہاں مشکل ہوگیا ہے، پس اگر یہ لوگ وہاں سے نقل مکان کریں تو دوسرے مذہب کے لوگ یقینا مسجدوں کے مالک بن کر ان کو اپنے تصرف میں لائیں گے، لہذا اس جگہ سے اثاث مسجد کو منتقل یا فروخت کرکے دوسری جگہ جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے اس سے مسجد یں بنائی جائیں تو درست ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

    آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں : اگر اس علاقہ میں پہلے سلطنت اسلام ہوچکی تھی اور بعد کی قوموں نے کبھی جملہ شعائر اسلام کی بندش نہ کی بعض ہمیشہ جاری رہے اور اب جاری ہیں تو اس صورت میں اگر مسلمانوں کو ان میں توطن وبنائے مسجد کی اجازت تھی مگر جب حالت وہ ہے جو سوال میں مذکور ہوئی تو عملہ بیچ کر یا بعینہ دوسری جگہ لے جانے اور وہاں اس سے مسجدبنانے کی اجازت ہے، علی مافصلہ وانقحہ العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالٰی فی ردالمحتار، وذکر ندامتہ علی افتائہ من قبل بخلاف ذلک فلیر اجع الیہ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ اس مسئلہ کی تفصیل و تنقیح علامہ شامی نے ردالمحتار میں فرمائی اور اس سے قبل حکم مذکور کے خلاف اپنے جاری کردی ایک فتوے پر افسوس وندامت کا اظہار کیا اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاویٰ رضویہ ، جلد 16 ص 317،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    سید ی اعلی حضرت علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :مسجد کی چیزیں اس کے اجزاء ہیں،یا آلات یا اوقاف یا زوائد، اجزاء یعنی زمین و عمارت قائمہ کی بیع تو کسی حال ممکن نہیں مگر جب مسجد معاذاﷲ ویران مطلق ہوجائے اور اس کی آبادی کی کوئی شکل نہ رہے تو ایک روایت میں باذن قاضیِ شرع حاکم اسلام اس کا عملہ بیچ کر دوسری مسجد میں صرف کرسکتے ہیں، مواضع ضرورت میں اس روایت پر عمل جائز ہے۔(فتاوی رضویہ جلد:16 صفحہ:261 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ نے جامع الفتاوی کے حوالے سے لکھتے ہیں : لَهُمْ تَحْوِيلُ الْمَسْجِدِ إلَى مَكَان آخَرَ إنْ تَرَكُوهُ بِحَيْثُ لَا يُصَلَّى فِيهِ، وَلَهُمْ بَيْعُ مَسْجِدٍ عَتِيقٍ لَمْ يُعْرَفْ بَانِيهِ وَصَرْفُ ثَمَنِهِ فِي مَسْجِدٍ آخَرَ۔ ترجمہ:اگر لوگ کسی مسجد میں نماز پڑھنا چھوڑ دیں تو محلے والوں کے لیےاس مسجدکو دوسری جگہ منتقل کرنا جائزہو گا ،اور ان کے لیے ایسی پرانی مسجد کو بیچنا جس کے بانیان کے بارے میں علم نہ ہو جائز ہے،اور (بیچنے کے بعد) اس کا ثمن دوسری مسجد میں صرف کرنا جائز ہے ۔(رد المحتار علی الدر المختار ،جلد4 ،صفحہ 359،دار الفکر بیروت)

    علامہ حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :وَلَوْ خَرِبَ مَا حَوْلَهُ وَاسْتُغْنِيَ عَنْهُ يَبْقَى مَسْجِدًا عِنْدَ الْإِمَامِ وَالثَّانِي) أَبَدًا إلَى قِيَامِ السَّاعَةِ (وَبِهِ يُفْتِي) حَاوِي الْقُدْسِيِّ (وَعَادَ إلَى الْمِلْكِ) أَيْ مِلْكِ الْبَانِي أَوْ وَرَثَتِهِ (عِنْدَ مُحَمَّدٍ) وَعَنْ الثَّانِي يُنْقَلُ إلَى مَسْجِدٍ آخَرَ بِإِذْنِ الْقَاضِي :ترجمہ:اگر مسجدکے اردگرد ویران ہو جائے ،اور مسجد کی حاجت نہ رہی تو امام اعظم ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف علیھما الرحمہ کےنزدیک تاقیامت وہ مسجد ہی رہے گی،اور اسی پر فتوی دیا گیا ہے (حاوی القدسی)امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیک بانی یا اس کے ورثا کی ملکیت کی طرف لوٹے گی ۔اور امام ابو یوسف علیہ الرحمہ سے ایک اور روایت مروی ہے کہ قاضی کی اجازت سے اس کو دوسری مسجد کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ (الدر المختار مع تنویر الابصار،جلد4 ،صفحہ 359،دار الفکر بیروت)

    امام ابو یوسف سے مروی دوسری روایت کے متعلق علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : جَزَمَ بِهِ فِي الْإِسْعَافِ حَيْثُ قَالَ: وَلَوْ خَرِبَ الْمَسْجِدُ، وَمَا حَوْلَهُ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ لَا يَعُودُ إلَى مِلْكِ الْوَاقِفِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ فَيُبَاعُ نَقْضُهُ بِإِذْنِ الْقَاضِي وَيُصْرَفُ ثَمَنُهُ إلَى بَعْضِ الْمَسَاجِدِ ترجمہ:اسعاف میں اسی پر جزم کرتے ہوئے فرمایاکہ اگر مسجد اور اس کا گردوپیش ویران ہوجائے اور لوگ وہاں سے نقل مکانی کرجائیں تو امام ابویوسف کے نزدیک وہ واقف کی ملک میں نہیں لوٹے گی چنانچہ قاضی کی اجازت سے اس کا ملبہ فروخت کرکے ثمن کسی دوسری مسجد میں صرف کیا جائے گا۔(رد المحتار علی الدر المختار ،جلد4 ،صفحہ 359،دار الفکر بیروت)

    علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں : وَفِي الْقُنْيَةِ حَوْضٌ أَوْ مَسْجِدٌ خَرِبَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ فَلِلْقَاضِي أَنْ يَصْرِفَ أَوْقَافَهُ إلَى مَسْجِدٍ آخَرَ ۔ترجمہ:اور قنیہ میں ہے کہ حوض یا مسجد ویران ہوجائے اور لوگ وہاں سے نقل مکانی کرجائیں تو قاضی کے لئے جائزکہ اسکا سامان دوسری مسجد میں صرف کرے۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق جلد 5 ص 273)

    ھندیہ میں ہے:عَنْ شَمْسِ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَسْجِدٍ أَوْ حَوْضٍ خَرِبَ، وَلَا یَحْتَاجُ إلَیْهِ لِتَفَرُّقِ النَّاسِ عَنْهُ هَلْ لِلْقَاضِي أَنْ یَصْرِفَ ا َٔوْقَافَهُ إلَی مَسْجِدٍ أَوْ حَوْضٍ آخَرَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ.ترجمہ:شمس الائمہ حلوانی سے اس مسجد یا حوض کے متعلق سوال کیا گیا جو کہ ویران ہوگئے اور لوگوں کی نقل مکانی کے سبب اسکی ضرورت نہ رہی تو کیا قاضی کے لئے جائز ہے کہ اسکا سامان دوسری مسجد میں صرف کرے، تو انہوں نے ارشاد فرمایا ہاں ۔(فتاوٰی ہندیہ جلد 2 ص 478)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    تاریخ اجراء:24 ذوالحجۃ 1442 ھ/03 اگست2021 ء