سوال
: ایک شخص کسی کو کچھ رقم عطیہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں سے آدھی رقم سے لوگوں کا علاج معالجہ کا معاملہ کرو اور بقیہ آدھی سے تعلیمی اخراجات۔ اب لوگوں کو علاج کی زیادہ ضرورت ہے اس لیے یہ شخص آدھے سے کچھ زائد رقم لوگوں کے علاج پر لگادیتا ہے ،اور بقیہ تعلیمی اخراجات پر لگادیتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اسکا ایسا کرنا کیسا ہے؟ جائز ہے یا ناجائز ؟اگر ایسا کرنا ہو تو اسکا کیا طریقہ ہے؟
سائل :عبداللہ : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
عطیہ یا چندہ دینے والی کی شرائط کا اعتبار نہایت ہی اہم اور ضروری ہے ،لہذا چندہ دینے والے نے جس غرض کے لیے چندہ دیا ہے خاص اسی غرض میں خرچ کرنا نہایت ضروری ہے اسکے علاوہ کسی اور میں خرچ نہیں کرسکتے ، اور اگر جس غرض کے لیے دیا گیا وہ پوری ہوچکی ہے تو لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو بقیہ رقم واپس کردیں یا اسکی اجازت سے کسی اور جگہ خرچ کردیں ۔اسکی اجازت کے بغیر خرچ کرنا جائز نہیں ہے ۔
مذکورہ صورت میں اگر چندہ یا عطیہ دینے والے کی اجازت کے بغیر لوگوں کے علاج معالجہ پر چندہ دینے والے کی مقرر کردہ رقم سے زائد دے دیا تو لاز م ہے کہ مقرر کردہ مقدار سے زائد جتنی رقم دوسری مد میں ادا کی ۔چندہ لینے والااتنی رقم اپنی جیب سے اس چندہ دینے والے کو ادا کرے ۔
1:اور اگر چندہ دینے والے کو بتا دے کہ آپ نے جن کاموں کے لیے جتنے پیسے خرچ کیے تھے ہم نے اس میں کچھ کمی زیادتی کردی ہےاوربعد میں یہ چندہ دینے والا اسے درست قرار دے کہ ''چلو کوئی بات نہیں'' تو اب یہ چندہ لینے والا شخص بری الذمہ ہوجائے گا، اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔
2:یا اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جب کسی سے چندہ لے تو اس سے اجازت لے لے کہ میں جہاں مناسب سمجھوں گا خرچ کرونگا تو اب کوئی چندہ دے تو اس شخص کو اختیار ہوگا کہ جس مد میں مناسب سمجھے خرچ کرے۔
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں :
یہ چندے جس خاص غرض کے لیے کیے گئے ہیں اسکے غیر میں صرف نہیں کئے جا سکتے ، اور اگر وہ غرض پوری ہو چکی ہے تو جس نے دیئے اسکو واپس دیئے جائیں یا اسکی اجازت سے دوسرے کاموں میں خرچ کریں ، بغیر اجازت کرچ کرنا ناجائز ہے۔(فتاوٰی امجدیہ ، کتاب الوقف،جلد 3 ص39)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :
یہاں حکم شرعی یہ ہے کہ اوقاف میں پہلی نظر شرط واقف پر ہے یہ زمین و دکانیں اس نے جس غرض کےلئے مسجد پر وقف کی ہوں ان میں صرف کیا جائے گا اگرچہ وہ افطاری و شیرینی وروشنی ختم ہو اور اس کے سوا دوسری غرض میں اس کاصرف کرنا حرام ،حرام سخت حرام اگرچہ وہ بناء مدرسہ دینیہ ہو فان شرط الواقف کنص الشارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (واقف کی شرط ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نص) اور اگر اس نے ان چیزوں کی بھی صراحۃً اجازت شرائط وقف میں رکھی یا مصارف خیر کی تعمیم کردی یا یوں کہاکہ دیگر مصارف خیر حسب صوابدید متولی، تو ان میں بھی مطلقاً یا حسب صوابدید متولی صرف ہوسکے گا۔ (فتاوٰ ی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 16 ص486،486،ملخصا)
اسی میں آپ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں :
چندہ کاروپیہ چندہ دینے والوں کا مِلک رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں جب اُس میں صَرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں کو واپس دیاجائے یا کسی دوسرے کام کے لئے وہ اجازت دیں۔(فتاوٰ ی رضویہ، کتاب الوقف،جلد 23 ص566،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء:05 جمادی الاول 1440 ھ/11 جنوری 2019 ء