مسجد میں توسیع کا مسئلہ
    تاریخ: 27 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 905

    سوال

    ایک مسجد جوکہ ساکراں بلوچستان میں واقع ہے، چونکہ مسجد چھوٹی اور پرانی ہے اور بارشوں کی وجہ سے ایک سائیڈ سے بیٹھ گئی تھی ۔ اہل محلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ بقیہ مسجد کو شہید کرکے نئی بنائی جائے اور وسیع بھی کی جائے ، کیونکہ نمازیوں کو بھی تنگی کا سامنا ہے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ مسجد کی جگہ کم ہے اور اطراف میں جس کی جگہ ہے اس نے وہاں اپنی بیٹھک بنائی ہوئی ہے۔اسکے بارے میں کہنا ہے کہ مجھے اس جگہ کے پیسے نہیں چاہییں ۔بس جیسی بیٹھک میری بنی ہوئی ہے ایسی ہی مجھے دوسری جگہ بنواکر دے دیں، کیامالِ مسجد سے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:نور محمد:کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب مسجد کی جگہ تنگ ہواور مسجد کے پہلو میں جگہ موجو د ہو تو ضروری ہے اسے خرید کر مسجد میں اضافہ کیا جائے اور اگر مالکِ زمین بیچنے پر راضی نہ ہو تو لازم ہے کہ اس زمین کی واجبی قیمت اسے دے کر اس سے جگہ لے لیں۔بشرطیکہ اس طرح لینے میں فتنے وغیرہ کاخوف نہ ہو۔لہذا مذکورہ صورت میں اس جگہ کی جو قیمت ہے وہ مالک کو دے دی جائے اور جگہ لے کر مسجد میں شامل کیا جائے۔مالکِ زمین کا یہ شرط کرنا کہ مجھے ایسی بیٹھک بنواکر دو ، اس وقت درست ہے جبکہ بیٹھک کی تعمیر وغیرہ پرآنے والے اخراجات ،اس جگہ کی واجبی قیمت کے مساوی ہوں یا کم ہوں۔وگرنہ یہ شرط درست نہ ہوگی۔کیونکہ کہ اس میں کئی خرابیاں در آنے کا احتمال موجود ہےمثلاََ یہ کہ ممکن ہے اس جگہ کی واجبی قیمت کم ہو اور جس دوسری جگہ بیٹھک بناکر دینے کی اس نے شرط کی اس جگہ خریدنے پھر اسکی تعمیرات پر آنے والے اخراجات اس واجبی قیمت سے زائد ہوں،اس طرح مسجد کے مال کا ضیاع لازم آئے گا۔یونہی اگر قیمت و اخراجات مساوی ہوں تو بھی تعمیرات کی دیکھ بھال کے لئے کسی ایک بندے کو مقرر کرنا لازم و ضروری ہوگا پھر اسکی اجرت مالِ مسجد سے دی جائے گی یہ ایک الگ اسراف ہے۔ پھر بالفرض اگر کوئی فی سبیل اللہ اس ذمہ داری کے لئے راضی ہوبھی جائے جو شخص مسجد کی طرف سے تعمیرات کے اخراجات کرے گا اسکی صداقت و دیانت و امانت کا کیونکر یقین کیا جائے؟؟ عین ممکن ہے کہ بےجا اسراف کرے، مالِ مسجد سے ضرورت سے زائد یا عام قیمت سےمہنگا سامان خریدے۔ یہ ایک الگ امرِ ممنوع ہے۔الغرض اس طرح کی کئی خرابیاں ممکن ہیں جس کے سبب مالکِ زمین کی اس شرط پر عمل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے اس زمین کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت ادا کردی جائے گی۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:(تؤخذ أرض) ودار وحانوت (بجنب مسجد ضاق على الناس بالقيمة كرها) درر وعمادية۔ ترجمہ: جب مسجد لوگوں کے لئے تنگ پڑ جائے ، اور اسکے اطراف میں کوئی زمین، گھر اور دوکان ہو تو انہیں جبرا ،واجبی قیمت دے کر مسجد میں شامل کیا جائے گا۔ددر اور عمادیہ میں یہ مسئلہ ہے۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار، کتاب الوقف، مطلب اذا خرب ولم یکن عمارتہ۔۔۔الخ جلد 4 ص 379)

    تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَ إذَا ضَاقَ الْمَسْجِدُ عَلَى النَّاسِ وَبِجَنْبِهِ أَرْضٌ لِرَجُلٍ تُؤْخَذُ أَرْضُهُ بِالْقِيمَةِ كُرْهًا لِمَا رُوِيَ عَنْ الصَّحَابَةِ أَنَّهُمْ لَمَّا ضَاقَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ أَخَذُوا أَرْضِينَ بِكُرْهٍ مِنْ أَصْحَابِهَا بِالْقِيمَةِ وَزَادُوا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔ترجمہ:اور جب مسجد لوگوں کے لئے تنگ پڑ جائے ، اور اسکے اطراف میں کسی شخص کی زمین ہو تو انہیں جبرا ،واجبی قیمت دے کر مسجد میں شامل کیا جائے گاکیونکہ صحابہ کرام سے مروی ہے کہ جب مسجد حرام کی جگہ کم پڑی تو انہوں نے لوگوں سے واجبی قیمت کے عوض زمین لی اور مسجد میں اضافہ کیا۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،فصل من بنی مسجدا لم یزل ملکہ ، جلد 3 ص 331)

    سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں : ہمارے ائمہ کرام نے بلا خلاف تصریح فرمائی کہ مسجد اگر تنگی کرے اور اس کے قریب اگر کسی شخص کی زمین ہو اور وہ دینے پر راضی نہ ہوتو بحکم سلطان بے اس کی مرضی کے لے کرمسجد میں داخل کر لی جائے اور مالک کو بازار کے بھاؤ سے قیمت دے دی جائے کما نص علیہ فی البزازیۃ والفتح والبحر والدروغیرہا (جیسا کہ اس پر بزازیہ، فتح، بحر اور دروغیرہ میں نص فرمائی گئی۔)(فتاوٰی رضویہ، کتاب الوقف، جلد 16 ص 401، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    الاشباہ میں ہے:دَرْءُ الْمَفَاسِدِ أَوْلَى مِنْ جَلْبِ الْمَصَالِحِ۔ترجمہ:فساد دور کرنا ، منفعت حاصل کرنے سے اولٰی ہے۔(الاشباہ والنظائر، جلد 01 ص 78)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    تاریخ اجراء:17ربیع الثانی 1442 ھ/02 دسمبر2020 ء