وقف کی زمین سے مسجد میں اضافہ
    تاریخ: 27 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 907

    سوال

    السلام علیکم

    عرض یہ ہے کہ ہمارے بزرگ میانوالی سے تقریبا 80 سال قبل کراچی آکر آباد ہوئے ،اس وقت کراچی میں کوئی لیز وغیرہ نہیں ہوتی تھی ، بس جس جگہ پر جو بیٹھ گیا وہ جگہ اسی کی سمجھی جاتی تھی ،ہمارے بزرگوں نے یہاں مسجد کے لیے بھی ایک جگہ مختص کردی تھی اور اس کے گرد نشانات لگا دئیے کہ یہاں ہم مسجد بنائیں گے۔جب مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو مسجد کے ایک حصہ پر مکانات بنادئیے گئے تاکہان کے کرائے سے مسجد کے اخراجات پورے کیے جا سکیں، لیکن اب یہ مکانات خستہ حالت کو پہنچ چکے ہیں۔مسجد کا وضو خانہ جو کہ مسجد کی بنیادوں سے متصل بنا ہوا ہے ، اور پانی کے مستقل بہاؤ کی وجہ سے مسجد کی بنیادوں کو کمزور کررہا ہے۔ مسجد کے وہ ستون جوکہ وضو خانہ سے متصل ہیں کئی مرتبہ مرمت کروائے جا چکے ہیں ، مسجد انتظامیہ نے سوچا کہ ان کرائے کے مکانات کو گرا کر پختہ مکانات تعمیر کیے جائیں اور ان مکانات والے حصہ میں گراؤنڈ فلور پر کچھ دوکانیں بنادی جائیں جن سے آنے والا کرایہ مسجد کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ اور کچھ حصہ پر مسجد کا وضو خانہ ، استنجاء خانہ تعمیر کرایا جائے اور اس پلاٹ کے اوپر والی منزلوں میں کرائے کے مکانات تعمیر کرالیے جائیں ۔

    آپ سے گزارش ہے کہ یہ ارشاد فرمادیں کہ کیا کرائے کے مکانات والے حصہ میں گراؤنڈ فلور پر ہم مسجد کا وضو خانہ اور استنجاء خانہ تعمیر کرواسکتے ہیں؟

    سائل: محمد صدیق عطاری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسئولہ میں کرائے کے مکانات والے حصہ میں گراؤنڈ فلور پر مسجد کا وضو خانہ اور استنجاء خانہ تعمیر کرواسکتے ہیں، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ مسجد سے متصل مسجد کا یہ حصہ وقف علی المسجد ہے جس کا حکم یہ ہے کہ

    ضرورت کے وقت اسکو مسجد میں شامل کرنا اور اس پر مصالح مسجد (مثلا وضو خانہ، استنجاء خانہ وغیرہ) میں سے کچھ بنانا درست ہے ،

    تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الوقف مطلب فی الوقف اذا خرب ولم یمکن عمارتہ ج 4ص 379 میں ہے :فِي الْفَتْحِ: وَلَوْ ضَاقَ الْمَسْجِدُ وَبِجَنْبِهِ أَرْضُ وَقْفٍ عَلَيْهِ أَوْ حَانُوتٌ جَازَ أَنْ يُؤْخَذَ وَيُدْخَلَ فِيهِ:ترجمہ:اور اگر مسجد تنگ ہوجائے ، اور اسکے پہلو میں مسجد پر وقف زمین یا دوکانیں موجود ہوں تو انکو لے کر مسجد میں شامل کرنا درست ہے۔

    یونہی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق کتاب الوقف باب من بنی مسجدا لم یزل ملکہ جلد 3ص 331 میں ہے :وَلَوْ كَانَ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ أَرْضُ وَقْفٍ عَلَى الْمَسْجِدِ فَأَرَادُوا أَنْ يُزِيدُوا شَيْئًا فِي الْمَسْجِدِ مِنْ الْأَرْضِ جَازَ:ترجمہ: اور اگر مسجدکے پہلو میں مسجد پر وقف زمین موجود ہواور لوگ یہ چاہتے ہوں کہ اس زمین سے مسجد میں کچھ اضافہ کردیں تو یہ جائز ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری