قرض پر نفع لینے کا حکم
    تاریخ: 1 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 312

    سوال

    عرض یہ ہے کہ ہمارےبڑے بھائی10سال پہلے ایک جھوٹے مقدمے میں پھنس گئے تھے اور کیس بھی چھوٹا تھا لیکن لالچی وکیلوں نےکیس کو خراب کردیا جس کی وجہ سے 5سے 6 سال تک یہ کیس چلا اس دوران ان کی جمع پونجی جو بھی تھی ختم ہو گئی اور قرضے بھی چڑھ گئے جہاں تک ہم سب بھائیوں کی طرف سے ہوسکتا تھا ہم نے ان کی مدد کی اور چھوٹے بھائی عبد الرؤف نےقرضے کی مد میں 10سے 15 لاکھ تک بھائی کو دیئے اس کے علاوہ ضرورت پڑی تو بھائی عبدالرؤف نے کہا میری دس لاکھ کی بولی والی کمیٹی ہے جو میں ابھی اگر نکل والوں تومجھے865000روپے ملیں گے تو میں آپ سے پورے دس لاکھ روپے لوں گا کیوں کہ اگر میں وقت پر لیتا تو پو رے دس لاکھ ہی ملتےتو بھائی نے مجبوری میں یہ رقم ان سے لے لی ۔

    اور جب معاملات حل ہوئے تو بھائی یہ پوری رقم ادا نہیں کر سکے اور ایک سال پہلے ان کا انتقال ہوا ،اب ان کا بیٹا احمد اپنی پراپرٹی بیچ کے یہ رقم دینے کو تیار ہیں ،اور بھائی عبدالرؤف بضد ہیں کہ میں پورے دس لاکھ لوں گا ۔

    تو آپ سے پو چھنا یہ کہ دس لاکھ ادا کریں یا 865000روپے ؟اور اگر دس لاکھ دیتے ہیں تو ہم پر گناہ تو نہیں ہوگا ؟

    سائل:عبدالرزاق،کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

    اگر معاملہ واقعتا ایسا ہی ہے جس طرح بیان کیا گیا تو عبد الرؤف صاحب نے مرحوم بھائی کو جس شرط پر 865000روپے بطورقرضہ دیئے وہ سراسر سود کی شرط ہے اور جس قرضہ پر مخصو ص نفع (اضافی رقم)ملنے کی شرط رکھی گئی ہو اس منافع کو چھوڑنا واجب اور اس لینا حرام قطعی ہے ۔اور جو لوگ سودکی لین دین میں معاونت کرے تو وہ بھی حدیث مبارکہ کی رو سے گنہگا رہونگے ۔اور عبدالرؤف صاحب کا یہ کہنا کہ"وقت پر پسے نکالنے کی صورت میں پورے ملتے اور بھائی کو دینے کی کے لیئے جلدی نکالنے کی وجہ سے کم ملےلہذا اس نقصان کی تلافی بھائی ہی کی طرف کی جانی چاہیئے "شرعا درست نہیں ہےاس لیئے کہ جلدی نکالنے کی وجہ سے جو نقصان انہوں نے اٹھا یا ہے وہ در اصل اپنے بھائی کے لیئے ایک ایثار وقربانی ہےجس کا بہترین بدلہ اللہ تعالی ان کودنیا ء و آخرت میں عطاء فرمائیگااگر وہ اللہ تعالی کے لیئے سود کے چند ٹکےچھوڑ نا پسند کریں ۔

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :" كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا"(مسند الحارث ،باب فی القرض یجر منفعۃ،رقم الحدیث:۱۳۷)

    ترجمہ:ہر وہ قرضہ جو کسی نفع کا باعث ہو وہ ربا (سود ) ہے ۔

    اسی طرح تنویر الابصار مع الدرالمختار(باب الربا،ج:،ص:۱۷۰،طبع:دارالفکر ،بیروت)میں سود کی تعریف یوں ہے :" فضل خال عن عوض مشروط لأحد المتعاقدين "(ملخصا)ترجمہ:ایسا نفع جو عوض سے خالی ہو اور عقد کے وقت مشروط ہو متعاقدین (کنٹریکٹ کر نے والوں )میں سے کسی ایک کے لیئے ۔

    اللہ تعالی سود سے ملنے والے منافع اور اس کے لینے والے کا حکم بیان فرماتا ہے :

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَؕ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرۃ:278،279)

    ترجمہ:اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ؕپھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔

    اس سے پہلے آیت نمبر276 میں سود لینے کی وجہ سے مال کے برباد ہونے اور صدقات کی وجہ سے مال بڑھنے کو بیان کرتا ہے :يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (البقرۃ:276)

    ترجمہ:اللہ ہلاک کرتا ہے سُود کو اور بڑھاتاہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار۔

    اورحضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنےسودکی لین دین کرنے اور اس میں معاونت کرنے والوں کے بارے میں فرمایاہے:

    لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ(مسلم شریف ، باب آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ،رقم الحدیث:106)ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے ،سود کھلانے ،سود لکھنے والے اور ان پر گواہوں بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا وہ سب (گناہ میں )برابر ہیں ۔

    واللہ تعالی اعلم باالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 محرم الحرام 1440 ھ/10اکتوبر 2018 ء