قرض پر نفع کا شرعی حکم

    qarz par nafa ka sharai hukm

    تاریخ: 23 جون، 2026
    مشاہدات: 49
    حوالہ: 1498

    سوال

    ہم ایک گھر لینا چاہتے ہیں لیکن اس کی قیمت میں ہمارے پاس 12 لاکھ کم ہیں اسکی قیمت 50 لاکھ ہے ،ہم یہ سوچ رہے ہیں اپنا اوپر والا پورشن کسی کو اسی حالت میں رہنے کے لیے دے دیں اور وہ ہمیں 12 لاکھ دے دے اور 5 سال تک فری میں رہتا رہے ،5 سال بعد اپنے 12لاکھ لے لے، ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    اگر کوئی اوپر رہنے کے لیے تیار نہ ہواور وہ 12 لاکھ کے بدلے ہر مہینے ہم سے 10 ہزار لیتا رہے اور 5 سال بعد اپنے پورے پیسے 12 لاکھ لے لے تو یہ صحیح ہے یا نہیں؟

    سائلہ:حنا

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سوال میں ذکر کی گئیں دونوں صورتیں شرعا ناجائز ہیں کیونکہ یہ سود اور ربو ہے اور سود حرام ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا.(الْبَقَرَة ، 2 : 275) ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔

    دوسری جگہ ارشادہے ۔یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (الْبَقَرَة ، 2 : 278)ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو۔

    صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یاکلون اموال الیتمیالحدیث:2766، ج 2،ص242 میں ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»ترجمہ: حضرت ابو ہرہرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا سات چیزوں سے بچو جو کہ تباہ وبرباد کرنے والی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا:”(1)شرک کرنا(2)جادو کرنا (3)اسے ناحق قتل کرنا کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا (4)سود کھانا (5)یتیم کا مال کھانا (6)جنگ کے دوران مقابلہ کے وقت پیٹھ پھیرکربھاگ جانا(7) اور پاکدامن،شادی شدہ، مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔

    یوں ہی سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، الحدیث:2273،ج3،ص72 میں ہے ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرَائِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا "ترجمہ: حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں کہ شبِ معراج میں ایک ایسی قوم کے پاس سےگزرا، جن کے پیٹ کمروں کی طرح بڑے بڑےتھے، جن میں سانپ پیٹوں کے باہر سے دیکھے جا رہے تھے۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا:”یہ کون لوگ ہیں؟“انہوں نے عرض کی:”یہ سود خور ہیں۔

    مذکورہ دونوں صورتیں قرض پر نفع کی صورتیں ہیں پہلی صورت میں قرض لے پر 5 سال کے لیے فری رہائش کے ذریعے قرض پر نفع دیا جارہا ہے جبکہ دوسری صورت میں قرض پردی گئی رقم پراضافی رقم کی وصولی کی صورت میں نفع لیا جارہا اور قرض پر نفع جبکہ عقد میں مشروط ہو سود ہے

    چناچہ تنویر الابصار مع الدر المختار جلد5ص168 میں ہےهُوَ لُغَةً: مُطْلَقُ الزِّيَادَةِ وَشَرْعًا (فَضْلٌ خَالٍ عَنْ عِوَضٍ مَشْرُوطٍ) ذَلِكَ الْفَضْلُ (لِأَحَدِ الْمُتَعَاقِدَيْنِ) أَيْ بَائِعٍ أَوْ مُشْتَرٍ (فِي الْمُعَاوَضَةِ)

    ترجمہ:ربا لغت میں مطلقا زیادتی کو کہتے ہیں اور شریعت میں اس زیادتی کو کہتے ہیں جو بلا عوض ہو، اور یہ زیادتی متعاقدین یعنی بائع اور مشتری میں سے کسی کے لیے شرط ہو۔

    مسند الحارث باب فی القرج یجر المنفعۃ جلد 1 ص500 میں ہے :عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلہ سَلَّمَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا»ترجمہ: عمارہ ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' ہر وہ قرض جو نفع دے وہ سود ہے۔

    بدائع الصنائع جلد 7 ص 395 میں ہے :(وَأَمَّا) الَّذِي يَرْجِعُ إلَى نَفْسِ الْقَرْضِ: فَهُوَ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهِ جَرُّ مَنْفَعَةٍ، فَإِنْ كَانَ لَمْ يَجُزْ، نَحْوُ مَا إذَا أَقْرَضَهُ وَشَرَطَ شَرْطًا لَهُ فِيهِ مَنْفَعَةٌ؛ لِمَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ «نَهَى عَنْ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا» ؛ وَلِأَنَّ الزِّيَادَةَ الْمَشْرُوطَةَ تُشْبِهُ الرِّبَا؛ لِأَنَّهَا فَضْلٌ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ، وَالتَّحَرُّزُ عَنْ حَقِيقَةِ الرِّبَا، وَعَنْ شُبْهَةِ الرِّبَا وَاجِبٌ:ترجمہ:اور جوشرائط نفس قرض کی طرف لوتتی ہیں وہ یہ ہے کہ وہ اقرض ایسا ہو جس سے نفع حاصل نہ ہو تا ہو اور اگر ایسا ہوا تو یہ جائز نہیں ہے،جیسے جب قرض دیا اور اس میں نفع کی شرط لگادی تو یہ حرام ہے کیونکہ نبی کریم ﷺسے مروی ہے کہ آپ نے اس قرض سے منع فرمایا جو نفع دیتا ہو،کیونکہ اس زیادتی کی شرط سود کی طرح ہے اور کیونکہ یہ ایسی زیادتی ہے ، جس کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہے،اور سود اور سود کے شبہہ سے بچنا واجب ہے ۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی