ایک بیٹا ،تین بیٹیاں اور مال وراثت میں ناجائز تصرف
    تاریخ: 12 مارچ، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 1018

    سوال

    کہ میرےماموں اورممانی دونوں کاانتقال ہوگیاہےانہوں نےاپنےوارثین میں ایک بیٹااورتین بیٹیاں چھوڑیں ہیں ۔انکی وراثت کی تقسیم کےسلسلےمیں آپ کی رہنمائی درکارہے ۔

    وہ اسٹیل مل میں جاب کرتےتھےانتقال کےبعداسٹیل مل سے(341846)روپےملےہیں اورکچھ رقم ابھی ملنی باقی ہے ۔ اورایک فلیٹ بھی تھاجوانکےبیٹےنےبغیر بتائےفروخت کردیاجوکہ 27لاکھ میں فروخت ہوا ۔ان پیسوں کی تقسیم وارثین میں کیسےہوگی؟ تینوں رقوم (جواسٹیل مل سےمل چکےہیں،جوملنے ہیں اورفلیٹ کی رقم) کی شرعی طورپرالگ الگ تقسیم کیسےہوگی؟

    نیز بیٹےنےماں باپ کا چہلم کیااس پر پیسےلگائے،بہن کی شادی کی اس پراس نےاپنی خوشی سےپیسےلگائےاب بعدمیں جب جائیدادکی تقسیم کامعاملہ ہواتوکہہ رہا ہےکہ میں نےاپنےوالدکےپیسوں میں سےپیسےلگائےہیں تواب جووراثت تقسیم ہو گی تواس میں سےمجھےان تمام چیزوں کےپیسےبھی دیئےجائیں ۔ اورمیں بیمارہواتھااس پرمیں نےپیسےخرچ کیےاسکےبھی پیسے مجھےباپ کی جائیداد میں سےدئیے جائیں ۔ تواس کےیہ مطالبات جائز ہیں یانہیں؟ بینوا توجروا

    سائل:محمد ارسلان خان: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگرسائل اپنےبیان میں سچاہےاورورثاء صرف وہی ہیں جوسوال میں مذکور ہیں تومرحوم کےکفن دفن کےاخراجات اورقرضوں کی ادائیگی اوراگرکسی غیروارث کےلئےوصیت کی ہوتواسکومرحوم کےتہائی مال سےپورا کرنےکےبعد تمام جائیدادکے کل5 حصےکئےجائیں گے۔ جن میں سےدوحصےمرحومکےبیٹےکو ملیں گےاورتین بیٹیوں میں سےہرایک بیٹی کوایک یک حصہ ملےگا ۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ:5

    میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیٹا 3 بیٹیاں

    2 فی کس 1


    اس تقسیم کی روسےاسٹیل مل سےجوپیسےمل چکےہیں ان میں سےبیٹےکو(136738.4)روپےملیں گے ۔اورتین بیٹیوں میں سےہرایک بیٹی کو(68369.2)روپےملیں گے ۔

    اورفلیٹ کے27لاکھ میں سےبیٹےکو(1080000)روپےملیں گےاورتین بیٹیوں میں سےہرایک بیٹی کو(540000)روپےملیں گے ۔

    نیزمرحوم کےبیٹےنےماں،باپ کےچہلم پرجوخرچ کیااگروہ تمام ورثاءکی اجازت ورضامندی سےخرچ کیاتووہ خرچہ ترکہ سےمنہاکیا جائےگااوراگرورثاءکی اجازت کےبغیرخرچ کیاتووہ اسکی طرف سےتبرع واحسان ہوگااو راسی کےحصہ سےکاٹاجائےگا ۔

    اورمرحوم کےبیٹےنےبہن کی شادی پرجوخرچہ کیااگراس نےبہن سےاجازت لی تھی کہ ساراخرچہ اس کےحصےسےکیاجائےگا تووہ خرچہ بہن کےحصہ سےلیاجائےگااوراگربغیراجازت اپنی مرضی سےخرچہ کیاتوبہن کواسکاپوراپوراحق دیاجائےگااوربھائی کواس خرچہ کےمطالبےکا حق نہیں ہوگا ۔ اسی طرح مرحوم کےبیٹےنےجوکچھ اپنی بیماری پرخرچ کیا،باپ کےترکہ سےاس خرچہ کامطالبہ کرناشرعاًدرست نہیں ۔

    السراجی فی المیراث میں ہے:"تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ "ترجمہ:میت کےترکہ کےساتھ ترتیب وارچارحقوق متعلق ہوتے ہیں :مناسب تجہیزوتکفین سےابتداکی جائےگی،پھربقیہ مال سےاسکےقرضےاداکئےجائیں گے،قرضوں کی ادائیگی کےبعدمابقی کےثلث سےوصیت نافذ کی جائے گی،پھر باقی ترکہ ورثاءکےدرمیان تقسیم کیاجائےگا۔(السراجی فی المیراث :ص5،مکتبہ لدھیانوی )

    اللہ تعالی ٰ کا فرمان ہے: لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ :ترجمہ:بیٹےکاحصہ دوبیٹیوں برابرہے۔(النساء: آیت 11)

    امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتےہیں:اوربعینہٖ یہی حال صرف شادی کاہےجس نےصرف کیافقط وہی اس کامتحمل ہوگااجازت نہ دینےوالوں یانابالغوں کواس سےکچھ تعلق نہیں وہ اپناحصہ متروکہ پدری سےپوراپوراپائیں گےاورصَرف شادی کامطالبہ صرف دختر سےنہیں ہوسکتا مگریہ کہ اس سےٹھہرالیاہوکہ ہم یہ ساراصَرف تیرےحساب میں مجرالیں گے،وذٰلک لان ماکانوا مضطرین فی ذٰلک وماسبیلہ ھذا ففاعلہ متبرع الا ان یشرط الرجوع کما اذا کفن الاجنبی المیت اوقضی دین غیرہ بلااذنہ والمسئلتان فی الدرالمختاروالعقود الدریۃ۔ترجمہ:یہ اسلئےہےکہ وہ اس میں مجبورنہیں تھےنہ اسکی یہ سبیل ہےلہٰذاایساکرنے والا متبرع قرارپائےگا سوائےاس کےکہ اس نےرجوع کی شرط کی ہوجیساکہ کوئی اجنبی میت کوکفن پہنائےیاکسی کی اجازت کےبغیراس کاقرض اداکردے۔ یہ دونوں مسئلےدرمختاراورعقودالدریہ میں مذکورہیں۔(فتاوی رضویہ :ج26،ص 131،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فتاویٰ رضویہ میں ہے:فان من انفق فی امر غیرہ بغیر امرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشئ۔ترجمہ:کیونکہ جس نےغیر کےمعاملہ میں اس کےحکم اورکسی مجبوری کےبغیرخرچ کیاتووہ خرچہ بطورنیکی ہوگالہذااس خرچہ کی وصولی کےلئےرجوع نہ کرسکےگا۔(فتاوی رضویہ :ج18،ص178،رضافاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23 محرم الحرام1441 ھ/23 ستمبر 2019 ء