فوت شدہ بیٹے کا وراثت میں حصہ
    تاریخ: 12 مارچ، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1019

    سوال

    ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے ، والد کا انتقال 2007ء میں ہوا۔ اور والدہ کا 2019 میں ہوا۔ جبکہ ہمارے ایک بھائی کا والد اور والدہ سے پہلے یعنی 1991 میں انتقال ہوا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا انکے بیوی بچوں کا ہمارے والدین کی وراثت میں حصہ ہوگا یا نہیں ؟ اگر ہوگا تو کتنا ہوگا ، اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

    سائل:راشد بن عمر: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آپکے والدین کے ورثاء میں سے جوانکی وفات کے وقت حیات تھے وہ اپنے اپنے حصوں کے مطابق وراثت کے شرعی حقدار ٹھہرے ہیں اور جس بیٹے کا انتقال پہلے ہوا ،اسکے ورثاء (بیوی بچوں )کو والدین کی وراثت سے کچھ حصہ نہ ملے گا۔ کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورث کی وفات کے وقت موجود ہوں۔الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه :ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت)أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث)کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    لیکن اگر دیگر ورثاء چاہیں تو اس مرحوم بیٹے کے ورثاء کو وراثت میں سے کچھ دے سکتے ہیں ، کہ یہ ان کی طرف سے انکے لیے احسان ہوگا ، ایسے لوگوں کو اللہ کریم پسند فرماتا ہے۔قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔وراثت کی تقسیم کی تفصیل جاننے کے لئے تمام ورثاء کی تفصیل لکھ کر بھیجیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 26 ذو الحج 1441 ھ/17 اگست 2020 ء