سوال
عرض یہ ہے کہ میرے نانا وراثت میں ایک مکان چھوڑ کر گئے انکے انتقال کے وقت انکی ایک بیوی(رحمت بی بی)،ایک بیٹا(عبدالفہمیر) اور تین بیٹیاں ( نصرت،مسرت،عشرت)تھیں۔ میرے نانا کا انتقال 1977 میں ہوا ۔ پھر میری والدہ( نصرت) کا انتقال 1991 میں ہوا،والدہ کی وفات کے وقت میرے والد (محمد کاظم)، تین بیٹیاں (شمع،ثناء، فرحہ)اور دو بیٹے (کاشف ، شہزاد) تھے ۔سال 2016 میں والد کا انتقال بھی ہوگیا ، اسوقت انکے ورثاء میں صرف ہم سب بہن بھائی موجود تھے جبکہ انکے والدین ان سے بہت پہلے وفات پا چکے تھے۔ پھر سال 2018 میں میری نانی کا انتقال ہوا ،اب میری دو خالہ اور ماموں حیات ہیں ۔ جو مکان نانا کے نام تھا نانی کے انتقال کے بعد ماموں نے دھوکہ سے آدھا مکان ساڑھے بائیس لاکھ میں بیچ دیا ۔ اور اسی رقم میں سےساڑھے سات لاکھ روپے اسی مکان پر لگائے اور بنوایا ۔ جس میں ہم رہتے ہیں ۔باقی رقم میں سے انہوں نے کسی کو کوئی حصہ نہیں دیا ۔ اب ہمیں بتائیں اس مکان میں کس کا کتنا حصہ ہے۔
سائل:محمد کاشف عطاری :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔
السراجی فی المیراث ص 5پر ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔
لہذا اگر معاملہ حقیقت پر مبنی ہے تو اس مکان کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال وراثت کو 960 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سےعبدالفہمیرکو 410 حصے دیئے جائیں گے جبکہ مسرت،عشرت میں سے ہر ایک 205 حصوں کی حقدار ٹھہری ہیں ۔ چونکہ نصرت کاانتقال ہوچکا ہے تو انکی والد کی وراثت سے جو حصہ بنا وہ حصہ انکے ورثاء میں تقسیم ہوگا جسکی تفصیل درج ہے کہ کاشف اور شہزاد کو 40،40 حصے ملیں گے اور انکی بہنوں (شمع،ثناء، فرحہ) میں سے ہر ایک کو 20 حصے ملیں گے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11 ذوالقعدہ 1440 ھ/15 جولائی 2019 ء