قرض لے کر کرایہ کم کرنا

    qarz le kar kiraya kam karna

    تاریخ: 17 جولائی، 2026
    مشاہدات: 29
    حوالہ: 1640

    سوال

    میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں جس کا 7 ہزار روپے کرایہ ہے اور 1 لاکھ ایڈوانس دیا تھا ، پھر مالک مکان کو ایک لاکھ روپے کی ضرورت پڑگئی اس نے کہا کہ میں بینک سے لون لوں گا تو سود دینا پڑےگا تو آپ مجھے دے دو میں آپکا کرایہ 7 ہزار سے کم کرکے ساڑھے تین ہزار کردیتا ہوں میں نے ایک لاکھ دے دیے پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ اسکو ضرورت آگئی ایک لاکھ کی اس نے پھر مجھ سے کہا کہ مجھے ایک لاکھ دے دو اور اب تمہارا کرایہ بالکل ختم ہوگیا،اب جب ایک سال ہوگیا اس بات کو تو اس نے کہا کہ تم نے جو تین لاکھ دیئے تھے اسکی وجہ سے تو 7 ہزار کرایہ ختم ہوگیا جو پہلے طے ہوا تھا لیکن اب سال گزر گیا ہے لہذا سال گزرنے پر ایک ہزار روپے بڑھتے ہیں اب آپ ہر مہینے ایک ہزار روپے دیا کرو۔ یاد رہے کہ یہ تین لاکھ روپے جو میں نے دئے اسکو انہوں نے ایڈوانس میں شمار کیا ہے ،اور بات یہ طے ہوئی کہ جب مکان خالی کرو گے یا مالک خالی کروائے گا اسوقت تین لاکھ واپس دے دیئے جائیں گے ،جب تک خالی نہیں ہوتا تب تک 7 ہزار سے اوپر جو کرایہ ہے وہ دینا ہوگا یعنی ایک سال کا ایک ہزار روپے بڑھیں گے،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ سارامعاملہ شرعی اعتبار سے کیسا ہے جائز ہے یا حرام ہے یا سود ہے؟

    سائل: خرم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت قرض پر نفع کی ایک صورت ہے اور قرض پر نفع حرام ہے، حدیث پاک میں ہے جو قرض نفع دے وہ سود ہے ،اور بمطابق قرآن و حدیث سود حرام ہے ،

    مسند الحارث باب فی القرج یجر المنفعۃ جلد 1 ص500 میں ہے :عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلہ سَلَّمَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا»ترجمہ: عمارہ ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' ہر وہ قرض جو نفع دے وہ سود ہے۔

    اور جو کرایہ بڑھ رہا ہے اسکا لینا ان کے لیے جائز ہے کیونکہ ہمارا عرف یہی ہے کہ ہر سال کرایہ بڑھتا ہے ،

    شامی مطلب فی وقف المشاع جلد 4ص364 میں ہے :وَفِي شَرْح الْبِيرِيِّ عَنْ الْمَبْسُوطِ أَنَّ الثَّابِتَ بِالْعُرْفِ كَالثَّابِتِ بِالنَّصِّ:ترجمہ: اور شرح بیری میں مبسوط سے منقول ہے کہ جو چیز عرف سے ثابت ہو وہ ایسے ہی ہے جیسا کہ نص سے ثابت ہو۔

    اور لازم ہے کہ اس معاملے کو جلد از جلد ختم کردیں تا کہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کے عذاب سے بچیں ، قال اللہ تعالیٰ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ :ترجمہ کنزالایمان : اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو ، پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللّٰہ اور اللّٰہ کے رسول سے لڑائی کا۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی