امام و مؤذن کی رہائش گاہ کو کرائے پر دینا
    تاریخ: 7 فروری، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 748

    سوال

    1:۔ہم نے اپنی ایک جگہ مسجد کے نام وقف کی کہ اسے مسجد کے کام میں لایا جائے ،پھر وہاں پر امام صاحب اور مؤذن صاحب کی رہاش گاہ بنائی گئی بعد ازاں اس کو کرائے پر لگا دیا ۔تو کیا اس جگہ کو کرائے پر دینا جائز ہے یا نہیں؟ ۔ جبکہ وقف کرنے والے نے اس جگہ کو مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کیا ہو،اور انتظامیہ ان کی اجازت کے بغیر کرایہ لے کر اس رقم کو استعمال کرتی ہے ؟اس کا شرعی حکم ارشاد فرمائیں ! سائل:غلام حسین /ملیر کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    فتوی ھذا سائل کے صادق اورسوال کےواقع کے مطابق ہونے کی شرط پر جاری کیا جا رہا ہے ۔

    اس جگہ امام و مؤذن کی رہاش گاہ بنانا جائز ہے کہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے ۔علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : لَوْ بَنَی بَیْتًا عَلَی سَطْحِ الْمَسْجِدِا لِسُکْنَی الْإِمَامِ فإِنَّهُ لَا یَضُرُّ فِي کَوْنِهِ مَسْجِداً لِأَنَّهُ مِنَ الْمَصَالِحِ ترجمہ:اگرواقف یا متولی نےمسجد کی سطح پر امام کی رہاش کے لیے گھر بنایا تو یہ اس جگہ کے مسجد ہونے میں ضرر نہ دے گا کیوں کہ امام کا گھر مصالح مسجد میں سے ہے ۔( البحر الرائق،جلد:5صفحہ :271،دار المعرفة،بیروت )

    علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:لَوْ بَنَی فَوْقَهُ بَیْتًا لِلْإِمَامِ لَا یَضُرُّ لِأَنَّهُ مِنْ الْمَصَالِحِ.ترجمہ اگر مسجد کے اوپر امام کے لیے گھر بنایا تو خرابی نہیں ہے کیونکہ یہ مصالح مسجد میں سے ہے۔(الدر المختار شرح تنویر الابصار،جلد 4،صفحہ 358،دار الفکر)

    امام و مؤذن کی رہاش گاہ،ان دونوں کے علاوہ کسی اور کو دینا یا کرائے پر دینا جائز نہیں کہ فقہ حنفی کا معروف قاعدہ ہے: الامور بمقاصدھا ترجمہ:امور اپنے مقاصد کے ساتھ ہوتے ہیں۔(الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ جلد 1 صفحہ 23مکتبہ رشیدیہ)

    ہاں !اگر امام ومؤذن اپنی مرضی سے رہائش گاہ میں رہائش پزیر نہ ہوتے ہوں ،اور وہ مکان ایسے ہی بے کار پڑھا ہے تو اسے انفع للوقف کے تحت کرایہ پر دینا، جس سے مسجد کی آمدنی میں اضافہ ہو جائز ہے اور اس کی کمائی مصارفِ مسجد میں ہی خرچ ہو گی ۔مگر یہ صورت فی الواقع شاذ و نادرہے کہ امام ومؤذن کو رہائش گاہ کی حاجت نہ ہو وہ بھی شہر کراچی میں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24 ذی قعدہ 1443 ھ/04 جولائی2021ء