سادات کو حیلہ شرعی کے بعد زکوٰۃ دینا کیسا
    تاریخ: 4 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 744

    سوال

    میرا تعلق ایک سید گھرانے سے ہے ۔میں کافی عرصہ سے قرضوں میں مبتلا ہوں اور حالات کے پیش نظر اب میں اس قرض کو ادا نہیں کر پارہا ہوں ۔ان قرضوں میں بینک کا قرض بھی شامل ہے جو سود پر ہے۔اب میں توبہ کرکے اسکی ادائیگی کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس وسائل نہیں ہے اور کہیں سے کوئی حل بھی نہیں مل رہا ۔ اب ایک بھائی زکوۃ کی مد سے مدد کرنا چاہ رہے ہیں تو کیا حیلہ کرکے زکوۃ لی جاسکتی ہے نیز میرے قرضوں میں سود کا معاملہ بھی ہے تو اس کے لیے زکوۃ دیں گے تو ادا ہوگی یا نہیں؟

    سائل:سید محمد مزمل:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں حیلہ شرعی کے بعد زکوۃ لی جاسکتی ہے اور یہ زکوۃ ادا بھی ہوجائے گی ۔نیز آئندہ سود ی قرضے سے بچیں کہ سود لینا اور دینا دونوں حرام اورجہنم میں لے کر جانے والا کام ہے۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ ساداتِ کرام اور بنو ہاشم کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ بنو ہاشم سے مراد پانچ خاندان ہیں:آلِ علی،آلِ عباس ، آلِ جعفر، آلِ عقیل، آلِ حارث بن عبدالمطلب ۔البتہ اگر زکوٰۃ کے علاوہ کسی اور مد میں رقم موجود نہ ہو اور سادات ِ کرام ضرورت مند ہوں تو زکوٰۃ کی رقم حیلہ شرعی (کسی شرعی فقیر کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنا دیا جائے اور وہ پھر آگے سید زادے کو دے دے )کے بعد سادات کو دینا اور ان کا اسے لینا جائز ہے کیونکہ اب وہ رقم ان کے حق میں تحفہ ہے۔لیکن سادات کرام کی مدد صرف اسی طریقے سے ہی کرنا یہ مناسب نہیں ہے متمول افراد کو چاہیے کہ سادات کرام کی خدمت صاف مال سے کریں اور ان کی مدد کرنے کو اپنے لئے باعث شرف سمجھیں ۔

    سادات کرام اور بنو ہاشم کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے :”ولا يدفع إلى بني هاشم ، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب كذا في الهداية“ترجمہ:یعنی بنو ہاشم کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اور بنو ہاشم سے مراد آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر، آلِ عقیل اور آلِ حارث بن عبد المطلب ہیں، جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے۔(فتاوی عالمگیری،کتاب الزکوٰۃ، ج01،ص189، مطبوعہ پشاور)

    فتاوٰی رضویہ میں ہے:’’زکوٰۃ ساداتِ کرام و سائرِ بنی ہاشم پر حرامِ قطعی ہے جس کی حرمت پر ہمارے ائمہ ثلٰثہ بلکہ ائمہ مذ اہبِ اربعہ رضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین کا اجماع قائم۔“(فتاوٰی رضویہ،ج10،ص99،رضافاؤنڈیشن، لاہور)

    بخاری شریف میں ہے: قالت: وأتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم، فقلت: هذا ما تصدق به على بريرة، فقال: هو لها صدقة، ولنا هدية۔ترجمہ:حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہانے فرمایا: اورنبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گوشت لایاگیاتومیں نے عرض کہ :یہ وہ گوشت ہے جوبریرہ پرصدقہ کیاگیاہے ،توآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:یہ بریرہ کے لیے صدقہ اورہمارے لیے ہدیہ ہے ۔(صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،حدیث1493،ص277،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23رمضان المبارک4144 ھ/14اپریل2023 ء