سودی اور غیر سودی رقم کا اختلاط
    تاریخ: 4 فروری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 745

    سوال

    ایک مسجد کا اکاؤنٹ 1992 کو ایک بنک میں (open) کیا گیا جو کہ نادنستہ طور پر وہ اکاؤنٹ کرنٹ کی بجائے سیونگ یعنی سودی اکاؤنٹ تھا ،اس اکاونٹ سے رقم نکالنا بہت دشوار تھا لیکن کافی تگ و دو کے بعد ہمیں اس اکاؤنٹ میں جمع شدہ تمام رقم موصول ہو گئی ۔اب ہمیں دو مسئلے درپیش ہیں ۔

    1992 سے لے کر 2013 تک کا ریکارڈ بنک کے پاس موجود نہیں اس لیے کہ وہ ریکارڈ پرانا ہو گیا ۔

    2013 سے لےکر تا حال ریکارڈ موجود ہے ۔

    1992 سے 2013 تک جو ریکارڈ موجود نہیں کہ اس میں کتنی رقم اصل ہے اور کتنی رقم سودی ہے۔

    اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم کس طرح سودی رقم کو اصل رقم سے الگ کریں ؟نیز پھر جو رقم سودی الگ کر لیں اس کا مصرف کیا ہے؟قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں ؟سائل:اہل علاقہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے محفوظ فرمائے ،اور اس کا وبال سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ! آمین

    سب سے پہلے تو جن لوگوں نے دانستہ یا نادنستہ طور پر سودی اکاؤنٹ میں مسجد کا چندہ رکھا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کریں ، اور آئندہ اس گناہ عظیم سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں !

    اولاً: وہ سودی رقم جس کا ریکارڈ موجود نہیں اسے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بنک جو ہر سال (kibore rate) کی صورت میں منفعت کا تعین کرتا ہے ،ان سالوں کا وہ ریٹ معلوم کیا جائے پھر اسی حساب سے سود کو الگ کیا جائے۔

    ثانیاً:1992 سے تاحال سود کا حکم شرعی:

    سودی رقم کا حکم یہ ہے کہ اسے بغیر ثواب کی نیت کے کسی شرعی فقیر کو دے دیا جائے۔اس رقم کو نہ خود رکھ سکتے ہیں نہ مسجد و مدرسہ میں لگا سکتے ہیں۔ہاں جب یہ رقم کسی شرعی فقیر کےقبضے میں دے دی گئی تو وہ اگرمسجد میں اپنی مرضی سے خرچ کرنا چاہے تووہ کر سکتا ہے۔

    اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:” وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۔ ترجمہ کنزالایمان:اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود ۔ (البقرۃ، آیت 275)

    حدیث پاک میں ہے:لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ ۔ترجمہ:اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے،اس کے لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (الصحیح لمسلم،جلد 2،صفحه 27،باب الربا،مطبوعہ کراچی)

    قرض پر کسی قسم کا نفع شرط ٹھہرالینا سود اور سخت حرام و گناہ ہے۔چنانچہ حدیث پاک میں ہے:” کل قرض جر منفعۃ فھو ربا.ترجمہ:ہر قرض جو نفع لائے وہ سود ہے۔ (کنزالعمال،جلد 6، صفحه 99،مطبوعہ ، لاھور)

    مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:”عن ابن سیرین:اقرض رجل رجلاً خمسین مائۃ درھم و اشترط علیہ ظھر فرسہ فقال ابن مسعود: ما اصاب من ظھر فرسہ فھو ربا۔ترجمہ:ابن سیرین (رحمۃ اللہ تعالی علیہ) سے مروی ہےکہ ایک شخص نے ، دوسرے کو پانچ سو درہم قرض دیے اور اس پر اس کے گھوڑے کی سواری(کا نفع حاصل کرنے) کی شرط رکھی توابن مسعود (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا: اس نے گھوڑے کی سواری کا جو نفع پایا وہ سود ہے۔(المصنف لابن ابی شیبہ،جلد 10، صفحه 648، مطبوعہ المجلس العلمی،بیروت)

    امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا:”وہ زیادت کہ عوض سے خالی ہواور معاہدہ میں اس کا استحقاق قرار پایا ہو،سود ہے ۔ مثلا سو(100) روپے قرض دئے اور یہ ٹھہرالیا کہ پیسہ اوپر سو (100)لے گا تو یہ پیسہ عوض شرعی سے خالی ہے لہٰذا سود،حرام ہے۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد 17، صفحہ 326، مطبوعہ رضا فاونڈیشن، لاھور)

    سودی رقم کو خود استعمال کرنا جائز نہیں:

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:يٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(278)ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی ایمان والے ہو تو جو کچھ بھی سود میں سے باقی ہے، اسے چھوڑ دو۔

    اسی سلسلے میں اگلی آیت میں فرمایا گیا:فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ(279)ترجمہ: اور اگر تم ایسا نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو! اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے صرف اپنا اصل سرمایہ لینا جائز ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ (البقرہ: 278-279)

    آخری آیت ِمبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص سود سے باز آ جائے اور توبہ کر لے تو اس کے لیے صرف اپنا اصل سرمایہ لینا جائز ہے، جبکہ سودی رقم کو اپنے استعمال میں لانے کی ہرگز اجازت نہیں۔

    سودی پیسہ مسجد و مدرسہ میں نہیں لگا سکتے :

    یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک عام مؤمن یہ ہرگز گوارا نہیں کرتا کہ اس کے گھر میں حرام مال آئے یا اس پر خرچ ہو، پھر ہم اللہ جل شانہ کے مقدس گھر میں حرام مال خرچ کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟

    صحیح مسلم شریف کی حدیث ہے:

    إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: 51] وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: 172] ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور صرف پاک چیز کو ہی قبول فرماتے ہیں۔ اور یقیناً اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے اپنے رسولوں کو دیا۔ چنانچہ فرمایا:"اے پیغمبرو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، بے شک میں تمہارے اعمال کو خوب جاننے والا ہوں۔" (المؤمنون: 51)اور فرمایا:"اے ایمان والو! ہم نے جو پاکیزہ رزق تمہیں عطا کیا ہے، اس میں سے کھاؤ۔" (البقرة: 172)

    پھر نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر میں ہوتا ہے، پریشان حال، غبار آلود اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر پکارتا ہے: "اے رب! اے رب!" حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام، اور اس کی پرورش بھی حرام مال سے ہوئی ہوتی ہے، تو ایسے شخص کی دعا کہاں قبول کی جائے گی؟(مسلم، الصحيح، كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها، 2: 703، رقم الحدیث : 1015)

    رد المحتار میں ہے: قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالٰى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. اهـ. شرنبلالية۔ترجمہ: تاج الشریعہ فرماتے ہیں: "اگر اس میں خبیث مال خرچ کیا جائے یا ایسا مال جس کا سبب خبیث اور طیب دونوں ہوں، تو یہ مکروہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ (مال) ہی قبول فرماتے ہیں، لہٰذا اس کے گھر کو ایسے مال سے آلودہ کرنا جسے وہ قبول نہیں فرماتا مکروہ ہے۔ (رد المحتار جلد: 1،صفحہ : 658 دار الفکر بیروت)

    امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ایک سوال میں سود کا پیسہ صدقات و خیرات بالخصوص تعمیر مسجد میں لگانے کے متعلق سوال ہوا تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا:” اس غرض کے لئے جومال دفع کیا (دیا)جائے وہ مساجد وغیرہ امورِ خیر (خیر کے کاموں)میں صرف کہ (وہ مال )خبیث ہے اور یہ مواضع خبیث کا مصرف نہیں ، ہاں فقیر اگر لے کر بعد قبول و قبضہ اپنی طرف سے مسجد میں دے دے تو مضائقہ نہیں ۔(فتاوی رضویہ،ج 17،ص 352 ،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 22شعبان المعظم1446 ھ/21فروری2025ھ