سوال
بینک اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو ڈیبٹ کارڈ کی سہولت دیتا ہے جس کے ذریعے اےٹی ایم مشین سےپیسے نکالنے، ٹرانسفر کرنے کی سہولت حاصل ہوتی ہے ۔نیز ریسٹورنٹ اور شاپنک مالز پر بل وغیرہ کی ادائیگی بھی اس کارڈ کے ذریعے کی جاتی ہے ۔لیکن بعض ریسٹورنٹ اور نامور برانڈز ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے خریداری پر ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ بینک میں بہت سے لوگ کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز ہوتے ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کی نوعیت قرض کی ہوتی ہے تو کیا اس صورت میں یہ لوگ ڈیبٹ کارڈ سے ملنے والا ڈسکاؤنٹ اویل کرسکتے ہیں؟
سائل:عبد اللہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہمارے پاکستان میں دو قسم کے بینک موجود ہیں:
1:کنونشنل بینک (سودی بینک)Conventional bank
2:اسلامی بینک (غیر سودی بینک)Islamic bank
کنونشنل بینک کے جتنے کسٹمرز ہوتے ہیں چاہے کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز ہوں یا سیونگ اکاؤنٹ ہولڈران سب کی حیثیت قرض خواہ کی ہوتی ہے کیونکہ یہ سب اپنی رقوم بطور قرض بینک کو دیتے ہیں ۔اور بینک ان رقوم کو واپس دینے کا پابند ہوتاہے۔کرنٹ اکاؤنٹ میں تو جتنی رقم ہوتی ہے اتنی ہی واپس ملتی ہے اور سیونگ اکاؤنٹ میں قرض کی رقم کے ساتھ ساتھ منافع کی رقم بھی ملتی ہے جوکہ قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے سود ہے اور شرعاً ناجائز و حرام ہے۔
جبکہ اسلامی بینک میں کسٹمر ز کی حیثیت دو طرح کی ہوتی ہے :کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈر کی حیثیت تو قرض خواہ ہی کی ہوتی ہے یعنی اس کی رقم بطور قرض بینک کے پاس ہوتی ہے لیکن سیونگ اکاؤنٹ ہولڈر کی حیثیت اکثر طور پر رب المال کی ہوتی ہےاور بینک کی حیثیت مضارب کی ہوتی ہے۔ اکثر طور پر اس لیے کیونکہ بعض بینک بطور شراکت کے بھی سیونگ اکاؤنٹ کی سہولت دیتے ہیں۔یعنی اسلامی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں جو رقم ہوتی ہے اس کی حیثیت قرض کی نہیں ہوتی بلکہ راس المال کی ہوتی ہے۔
اور اب جو بینک کے ڈیبٹ کارڈ پر ڈسکاؤنٹ ملتاہے اس کی درج ذیل تین صورتیں ممکن ہیں:
1:یہ ڈسکاؤنٹ بینک کی طرف سے نہ ہو بلکہ ریسٹورنٹ یا برانڈز وغیرہ کی طرف سے ہو۔لیکن یہ صورت قلیل الوقوع ہے کہ صرف ریسٹورنٹ وغیرہ ہی ڈسکاؤنٹ دیں کیونکہ ڈیبٹ کارڈ پر ڈسکاؤنٹ بینک اپنی مارکیٹنگ کے لیے دیتے ہیں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ ان کے یہاں اکاؤنٹ کھلوائیں ۔لہذا کچھ نہ کچھ یا مکمل طورپر اس ڈسکاؤنٹ میں بینک کی طرف سے بھی حصہ داری ہوگی ۔
2: یہ ڈسکاؤنٹ مکمل بینک کی طرف سے ہو۔
3: یہ ڈسکاؤنٹ بینک اور ریسٹورنٹ وغیرہ دونوں کی طرف سے ہو ۔
پہلی صورت میں ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والا ڈسکاؤنٹ سب کے لیے لینا جائز ہے خواہ کنونشنل بینک کے کسٹمرز ہو ں یا اسلامی بینک کے۔کیونکہ یہ بائع کی طرف سے ثمن میں کمی ہے ۔اور اگر بائع اپنی رضا مندی سے ثمن میں کمی کردے تو خریدار کے لیے اس کا لینا جائز ہوتا ہے۔
دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:حَطُّ الْبَائِعِ مِقْدَارًا مِنْ الثَّمَنِ الْمُسَمَّى بَعْدَ الْعَقْدِ صَحِيحٌ وَمُعْتَبَرٌ مَثَلًا لَوْ بِيعَ مَالٌ بِمِائَةِ قِرْشٍ ثُمَّ قَالَ الْبَائِعُ بَعْدَ الْعَقْدِ حَطَطْت مِنْ الثَّمَنِ عِشْرِينَ قِرْشًا كَانَ لِلْبَائِعِ أَنْ يَأْخُذَ مُقَابِلَ ذَلِكَ ثَمَانِينَ قِرْشًا فَقَطْ ترجمہ:خرید وفروخت کا عقد ہوجانے کے بعد بائع کا مقررہ ثمن میں کمی کرنا درست اور معتبر ہے۔ مثال کے طورپر اگر مال ایک سو سکوں کے عوض بیچا گیا پھر بائع عقد کے بعد کہے کہ میں نے بیس سکے کم کردیے تو اب بائع کے لیے اس مال کے عوض صرف اسّی سکے ہی لینا جائز ہوگا۔(درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام ،جلد:1،صفحہ :241،دار الجیل)
دوسری اور تیسری صورت میں بھی سب(دونوں بینکوں کے کسٹمرز) کے لیے لینا جائز ہے ۔البتہ کنونشنل بینک سے نہ لینا بہتر ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ ڈسکاؤنٹ دینےمیں کلی یا جزوی طور پر بینک بھی شامل ہے ۔اور یہ ڈسکاؤنٹ بینک کی طرف سے اپنے کسٹمرز کو تبرع ہوتا ہے جس سے بینک اپنی مارکیٹنگ بھی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ کسٹمرز کو سہولت و آسانی بھی فراہم کرتا ہے۔ڈسکاؤنٹ پر ملنے والا نفع قرض پر مشروط نہیں ہوتا کہ اگر اتنی رقم ہوگی تو ہی ڈسکاؤنٹ ہوگا ورنہ نہیں ہوگا اور اسلامی بینک میں اس کی دلیل یہ ہے کہ بینک اپنے سیونگ اکاؤنٹ ہولڈرز کو بھی یہ ڈسکاؤنٹ دیتا ہے جبکہ ان کی حیثیت تو قرض خواہ کی نہیں ہوتی جیساکہ اوپر بیان کیا گیا ۔اور کنونشنل بینک میں دلیل یہ ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر کا بیلنس چاہے 5 سو روپے ہو یا 5لاکھ ،100 روپے کی چیز خریدنے پر اگر 10 فیصد ڈسکاؤنٹ ہے تو 10 فیصد ہی ملے گا یہ نہیں ہے کہ جس کا بیلنس کم ہو اسے کم ڈسکاؤنٹ ملے گا اور جس کا زیادہ ہو اسے زیادہ ملے گا۔اگر یہ نفع قرض کے ساتھ مشروط ہوتا تو بیلنس کی کمی بیشی سے نفع میں بھی کمی زیادتی ہوتی جیسا کہ عام طور پر کنونشنل بینک اپنے سیونگ اکاؤنٹ ہولڈرزکو قرض کی مقدار کے حساب سے نفع فکس کرتا ہے ۔ بلکہ یہ ڈسکاؤنٹ کی سہولت تو کارڈ ملنے کے ساتھ ہی میسر آجاتی ہے چاہے رقم قرض ہو یا راس المال خواہ اکاؤنٹ میں رقم تھوڑی ہو یازیادہ۔ جبکہ قرض پر ملنے والا مشروط نفع سود ہوتا ہے۔
فتح القدیر میں ہے: أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ قَضَاهُ بِأَحْسَنَ مِمَّا لَهُ عَلَيْهِ لَا يُكْرَهُ إذَا لَمْ يَكُنْ مَشْرُوطًا۔ ترجمہ: کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر وہ اس سے بہتر ادا کرے جو اس پر لازم ہے تو ممنوع نہیں جبکہ یہ مشروط نہ ہو۔(فتح القدیر شرح الھدایۃ،جلد:7،صفحہ:251،دارالفکر بیروت )
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد د ین وملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ربا اس صور ت میں متحقق ہوتا ہےکہ عقد میں مشروط ہو ۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:17،صفحہ:360،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ایک اشکال:یہاں اعتراض یہ ہوتا ہے کہ کنونشنل بینک قرض پر نفع دے کر کمائی کرتاہےلہذا اس کی کمائی حرام ہوئی اور حرام کمائی والے سے تحفہ وغیرہ لینا جائز نہیں ہوتا ؟
جواب:یہ بات بالکل واضح ہے کہ بینک قرض پر نفع لے کر کماتا ہے لیکن یہ اس کی کمائی کا ایک ذریعہ ہے ۔اس کے علاوہ بینک دیگر ذرائع سے بھی آمدنی حاصل کرتا ہے ۔مثلاً آج کل تقریباً ہر کنونشنل بینک کی اسلامک وینڈو ہوتی ہے ،اس سے بھی کمائی حاصل ہوتی ہے ،اسی طرح سروسز چارجز کی مد میں بھی بینک نفع کماتا ہے ۔اور اسی طرح یوٹیلٹی بلز وغیرہ بھی وصول کر کے بھی نفع حاصل کرتا ہے نیز کرنسی وغیرہ کے لین دین سے بھی نفع کمایا جاتاہے۔ لہذا کنونشنل بینک کی آمدنی صرف حرام نہ ہوئی بلکہ مخلوط ہوگئی اور مخلوط آمدنی والے سے تحفہ لینے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ جو تحفہ دیا جا رہا ہے وہ بعینہ حرام سے ہی ہےمگر اس صورت میں بھی بچنا بہتر ہے۔اور بینک یہ ڈسکاؤنٹ حرام کمائی سے ہی دیتا ہے یقیناً یہ بات متیقن نہیں ہے۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے: قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَخْذِ الْجَائِزَةِ مِنْ السُّلْطَانِ قَالَ بَعْضُهُمْ يَجُوزُ مَا لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ يُعْطِيهِ مِنْ حَرَامٍ قَالَ مُحَمَّدٌ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - وَبِهِ نَأْخُذُ مَا لَمْ نَعْرِفْ شَيْئًا حَرَامًا بِعَيْنِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - وَأَصْحَابِهِ، كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ. ترجمہ:فقیہ ابو لیث رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : بادشاہ سے انعام لینے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ لیناجائزہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مالِ حرام سے دیتاہے، امام محمد نے فرمایا ہم اسی کو لیتے ہیں جب تک کسی معین شیئ کے حرام ہونے کی شناخت نہ ہو، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے،جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(الفتاوٰی الھندیۃ،جلد:5،صفحہ:345،دارالفکر بیروت)
فتاوٰی قاضی خان میں ہے: ان لم یعلم الاٰخذ انہ من مالہ او من مال غیرہ فھو حلال حتی یتبین انہ حرام :ترجمہ: اگر لینے والا یہ نہ جانے کہ وہ لی ہوئی چیز دینے والے کے اپنے مال سے ہے یا کسی دوسرے کے مال سے ہے تو پھر وہ حلال ہے حتی کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ حرام ہے۔(فتاوٰی قاضی خان ،جلد:3،صفحہ:302،قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراتشی)ٓ--
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن مخلوط آمدنی کی بابت طویل گفتگو کے بعد فرماتے ہیں : بالجملہ جسے اپنے دین وتقوٰی کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تک خاص اس شیئ کی حلت کاپتہ نہ چلے ورنہ فتوٰی تو جواز ہی ہے تاوقتیکہ بالخصوص اس چیز کی حرمت پر دلیل کافی نہ ملے۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:23،صفحہ:521،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ از روئے فتوی ڈیبٹ کارڈ پر ملنے والا ڈسکاؤنٹ لینامطلقاً جائز ہے۔مگر کنونشنل بینک کے ڈیبٹ کارڈ سے ڈسکاؤنٹ نہ لینا بہتر اور تقوٰی کے زیادہ قریب ہے۔
تنبیہ: اگر کوئی بینک صرف اپنے کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز کو ہی یہ ڈسکاؤنٹ دیتا ہے تو پھر قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے یہ ڈسکاؤنٹ لینا جائز نہ ہوگا۔اس لیے کہ کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز کو ہی ڈسکاؤنٹ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نفع قرض کے عوض ہے اور جو قرض نفع کھینچ لائے وہ سود ہوتا ہے اور سود ناجائز وحرام ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25جمادی الآخر4144 ھ/18جنوری2023 ء