قرض لے کر حج کرنا کیسا ؟

    Qarz le kar Hajj karna kaisa

    تاریخ: 23 اپریل، 2026
    مشاہدات: 38
    حوالہ: 1199

    سوال

    میں ایک بیوہ خاتون ہوں میرا بھائی مجھے پرائیویٹ اسکیم میں حج پر لے کر جانا چاہتا ہے،اور جو خرچہ حج پر آئے گا وہ مجھے قرضے کی مد میں دے گا،اور بعد میں مجھ سے وصول کرے گا کیا میں اس کے ساتھ حج پر جا سکتی ہوں۔

    سائلہ: مسز فرزانہ اعجاز ملک

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا.ترجمہ: اور اللّٰہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے۔(آل عمران :97)

    استطاعت سے مراد اس قدر مال کا مالک ہونا جو ضروریات اصلیہ سے اور قرض سے محفوظ ہو اور اسکے زادِ راہ اور اس کی سواری کے لیے کافی ہواور جن لوگوں کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کے لئے بھی اس میں اس قدرے چھوڑ جائے جو اس کے لوٹنے تک ان لوگوں کو کفایت کر سکے۔

    دوسری جگہ رب کریم ارشاد فرماتا ہے.لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا. ترجمہ: اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اسکی طاقت بھر۔(البقرہ : 286)

    ان دونوں آیات مقدسہ سے ظاہر ہوا کہ حج صاحبِ استطاعت پہ فرض ہے ۔ اور جو صاحب استطاعت نہ ہو اس پر حج فرض نہیں ہے ۔لہذا قرض لیکر حج پر جانا شرعاً لازم نہیں۔لیکن قرض لے کر حج یا عمرہ کرنے سے حج و عمرہ ہوجائے گا ۔ البتہ قرضہ وہ شخص لے جسے اطمینان ہو کہ وہ سہولت سے ادائیگی کرسکے گااور اگر یہ امید نہ ہوتو پھر قرضہ سے لینے اجتناب برتنا چاہیے ۔واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہيب رضاقادري

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني