سوال
بعد گزارش یہ ہے کہ میرا فلیٹ چاندنی چوک میں ہے جسکی قیمت 64 لاکھ ہے، اور میرے اوپر قرض 48 لاکھ روپے ہے ، اور میری ایک دوکان ہے اس میں مال 18 لاکھ کا ہے وہ بھی قرض کی صورت میں ہے،میرے فلیٹ میں 3 فیملی ہیں ، 2میرے بیٹوں کی ایک میری،اگر میں فلیٹ فروخت کرتا ہوں تو میرے پاس کوئی رقم نہیں بچے گی،اور دوکان بھی کرتے ہیں جس میں مزید نقصان ہورہا ہے اگر دوکان بند کرتا ہوں تو قرضدار گھر پر آئیں گے،تو کیا میں اس صورت حال میں قرض لے سکتا ہوں؟
سائل: مستقیم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوۃ یعنی جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ان کا بیان قرآن مجید میں فرمادیا ہے،جس میں قرضدار بھی شامل ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیۡنَ وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللہِ ؕوَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ :ترجمہ: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے جو محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللّٰہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللّٰہ کا اور اللّٰہ علم و حکمت والا ہے ۔
تنویر الابصار کتاب الزکوۃ باب المصرف جلد 3 ص 289 میں ہے:وَمَدْيُونٌ لَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ وَفِي الظَّهِيرِيَّةِ: الدَّفْعُ لِلْمَدْيُونِ أَوْلَى مِنْهُ لِلْفَقِيرِ.ترجمہ:اور (زکوۃ کاایک مصرف ) قرض دار ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ وہ قرض نکالنے کے بعد وہ نصاب کا مالک نہ رہے ، اور ظہیریہ میں ہے کہ فقیر کو زکوۃ دینے سے بہتر ہے کہ قرضدار کو زکوۃ دے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کے معاملات ایسے ہی ہیں جیسا سوال میں مذکور ہوا تو آپ زکوۃ لے سکتے ہیں ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی