وراثت کا مسئلہ بیووی دو بیٹے پانچ بیٹیاں

    warasat ka masla bewa do betay paanch betiyan

    تاریخ: 11 مئی، 2026
    مشاہدات: 22
    حوالہ: 1319

    سوال

    السلام علیکم

    جمیل صاحب کا 2018 میں کینیڈا میں انتقال ہوا ، وہاں تدفین ک خرچہ تقریباََ پاکستانی 10لاکھ روپے ہے،اور انہوں نے انتقال سے پہلے کہا تھا کہ میری بیوی کی قبر کا خرچہ بھی میری وراثت سے دیا جائے اب ان کے ورثاء میں بیوی 2بیٹے (معین،معیز) اور 5بیٹیاں (صبا، ارم،ناز، بشریٰ ،صدف) ہیں ان میں سے ایک بیٹی صدف کا انتقال جمیل صاحب کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ اسکے علاوہ جمیل صاحب کے 6بھائی اور 3بہنیں بھی ہیں جن میں سے 4بھائیوں اور تینوں بہنوں کا انتقال ان سے پہلے ہی ہوگیا تھا دو بھائی ابھی زندہ ہیں ، اب جمیل صاحب کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی برائے مہربانی بتادیں۔

    سائل: حمزہ صدیقی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں مذکور ہوا اور انکا ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو انکی جو بیٹی ان سے پہلے وفات پاگئیں انکو جمیل صاحب کی وراثت سے کچھ نہیں ملے گا ، اور اسی طرح جمیل صاحب کے بھائیوں کو بھی کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ میت کی اولاد کی موجودگی میں اسکے بھائیوں کو کچھ نہیں ملتا،

    چناچہ سراجی فی المیراث ص36میں ہے''اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم اصلہ ای الاب ثم جزء ابیہ الاخوۃ'' ترجمہ: میت کی وراثت کے زےادہ حقدار میت کا جزء یعنی بیٹا ہے ،اس کے بعد باپ کا زیادۃ حق ہے اسکے بعد میت کے بھائی کا ۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے ''(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ فَیُقَدَّمُ جُزْء ُ الْمَیِّتَِ ثم اصلہ الاب ثم جزء ابیہ الاخ'':ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک لہذا میت کے جزء یعنی بیٹے کووراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا پھر اسکے باپ کو پھر اسکے بھائی کو۔

    اور مرحوم نے انتقال سے پہلے کہا تھا کہ میری بیوی کی قبر کا خرچہ بھی میری وراثت سے دیا جائے یہ وصیت ہے اور یہ وصیت انکے حق میں نافذ نہیں ہوگی یعنی انکی تدفین کا خرچہ ترکے سے نہیں دیا جائے گا کیونکہ یان کی بیوی انکی وارث ہیں اور وارث کو صرف اسکا فرض حصہ ملتا ہے اسکے حق میں وصیت نافذ نہیں ہوتی۔

    بدائع الصنائع کتاب الوصیہ فصل فی رکن الوصیۃ ج6ص424میں ہے :وَفِی الْحَدِیثِ مَا یَدُلُّ عَلَیْہِ، فَإِنَّہُ - عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ - قَالَ: إنَّ اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَعْطَی کُلَّ ذِی حَقٍّ حَقَّہُ، فَلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ وَقَوْلُہُ کُلَّ ذِی حَقٍّ حَقَّہُ أَیْ: کُلَّ حَقِّہِ فَقَدْ أَشَارَ - عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ - إلَی أَنَّ الْمِیرَاثَ الَّذِی أُعْطِیَ لِلْوَارِثِ کُلُّ حَقِّہِ، فَیَدُلُّ عَلَی ارْتِفَاعِ الْوَصِیَّۃِ، وَتَحَوُّلِ حَقِّہِ مِنْ الْوَصِیَّۃِ إلَی الْمِیرَاثِ وَإِذَا تَحَوَّلَ فَلَا یَبْقَی لَہُ حَقٌّ لَہُ فِی الْوَصِیَّۃِ:ترجمہ: اور حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کیونکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر وارث کو اسکا حق دے دیا ہے لہذا وارث کے لئے وصیت نہیں ہے، اور آپ علیہ السلام کا یہ کہنا (ہر وارث کو اسکا حق دے دیا ہے) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وارث کو جو وراثت دی جاتی ہے اس کا بس وہی ہے اور یہ (وارث کے حق میں وصیت کے نافذ نہ ہونے کی اور اسکا حق وصیت سے وراثت کی طرف پھرنے کی دلیل ہے اور جب اسکا حق وراثت کی طرف پھر گیا تو اس کا وصیت میں کوئی حق باقی نہ رہا۔

    اب میت کے جو ورثاء باقی ہیں ان میں تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل مال کے 64حصے کئے جائیں گے جس میں سے میت کی زوجہ کو 8حصے ملیں گے قال اللہ تعالیٰ'' ولہن الربع مماترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم( النساء:12)

    ترجمہ: اورتم نے جو کچھ چھوڑا اس میں بیویوں کا چوتھا حصہ ہے جبکہ تمہاری کوئی اولاد نہ ہو ،اور اگر تمہاری اولاد ہو توجو تم نے چھوڑا اس میں سے انکا آٹھواں حصہ ہے ۔

    اور ہر بیٹی کو 7,7حصے ملیں گے اور ہر بیٹے کو بیٹیوں سے دگنا ملے گا۔ قال اﷲ تعالیٰ للذکر مثل حظ لانثیین(النساء : 11) ترجمہ : مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے۔

    سراجی فی المیراث ص25پر ہے ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبہن:ترجمہ: اور بیٹی کو بیٹے کے ہوتے ہوئے ٰ للذکر مثل حظ لانثیین( یعنی مرد کے لئے عورت کے حصہ سے دگنا ہے) کے تحت حصہ ملے گا،یعنی بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملیگا۔وہ انکو عصبہ بنادے گا۔

    خلاصہ یہ ہے کہ کہ کل مال کے 64حصے کئے جائیں گے جس میں سے میت کی زوجہ کو 8حصے ملیں گے ،اور ہر بیٹی کو 7,7حصے ملیں گے اور ہر بیٹے کو بیٹیوں سے دگنایعنی 14,14حصے ملیں گے۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی