آیت کریمہ پر آمین کہنا

    Ayat-e-Karima par Ameen kehna

    تاریخ: 11 مئی، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 1315

    سوال

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اجتماعی دعا میں مندرجہ ذیل آیات پڑھنا اور سامعین کا اس پر آمین کہنا کیسا ؟ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پہلی دو آیات پر آمین کہنا جائز و درست ہے کہ دونوں آیت مسلمانوں کی تربیت کے طور پر بطورِ دعا بھی ہیں اگر چہ یہ آیات بعض انبیاء کے الفاظ ہیں بہر کیف اس میں تلیقین و تعلیم ضررو ہے لہذا آمین کہنا جائز ہے جبکہ آیت کریمہ پر آمین نہیں کہنا چاہیے کہ یہ محض تسبیح وتہلیل کی قسم سے ہے۔ امام رازی نے اس مقام پر آمین کہنے کو ناجائز فرمایا ہے۔