قانونی رجسٹری قبضہ حکمی ہے

    qanooni registry qabza hukmi hai

    تاریخ: 23 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 57
    حوالہ: 1791

    سوال

    1.میرا نام محمد اویس ولد یحییٰ کا مدار ہے۔ مفتی صاحب! مجھے آپ سے ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے دادا نے 1972ء میں ایک بنگلہ خریدا تھا جو میری دادی کے نام پر تھا۔ 1985ء میں میرے دادا کا انتقال ہو گیا۔ اس گھر میں میرے تایا، میرے والد اور میری دو پھوپھیاں رہتی تھیں، جبکہ تین پھوپھیوں کی شادی ہو چکی تھی اور وہ اپنے سسرال میں رہتی تھیں۔2001ء میں میرے تایا نے میری دادی کی حیات میں اس پراپرٹی میں سے اس وقت کی مالیت کے حساب سے ان کا جو بھی وراثت میں حصہ تھا وہ لے لیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ مجھے میرا حصہ دے دیں تاکہ میں اپنا حصہ لے کر الگ گھر میں منتقل ہو جاؤں، مگر روز بروز ٹال مٹول ہوتی رہی اور کئی سال گزر گئےابھی شفٹ نہیں ہورہے ۔بعدمیں 27 مارچ 2007ء کو میری دادی (فاطمہ بائی) نے یہ گھر میری پانچوں پھوپھیوں کو گفٹ کر دیا، مگر انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اس کا قبضہ نہیں دیا۔ اس کے چند ہی مہینوں بعد 17 اکتوبر 2007ء کو میری دادی کا انتقال ہو گیا۔اور میری دادی کے انتقال کے تقریباً چار سال تک یہ بنگلہ انہی کے نام پر رہا، پھر 2011ء میں جا کر یہ بنگلہ میری پانچوں پھوپھیوں کے نام منتقل ہوا اور اس کی میوٹیشن بھی ہو گئی۔مفتی صاحب! آپ سے معلوم کرنا یہ ہے کہ جب میری دادی نے اس بنگلے کا ہبہ نہیں نہیں کیا ، تو کیا یہ بنگلہ وراثت میں ہے؟ مہربانی فرما کر اس کا شرعی تحریری جواب عنایت فرمائیں۔

    2. جب 2007ء میں میری دادی (فاطمہ بائی) نے یہ بنگلہ میری پانچوں پھوپھیوں کو گفٹ کیا تھا، اس وقت میرے والد صاحب نے میری دادی سے کہا تھا کہ اللہ نے مجھے بہت دیا ہے، آپ یہ بنگلہ پانچوں بہنوں کو گفٹ کر دیں۔ مفتی صاحب! مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا یہ بنگلہ ابھی بھی وراثت میں ہے؟ اور کیا ہم اپنے والد کی وراثت کے تحت آج بھی اس میں حقدار ہیں؟ کیونکہ میری پھوپھو کا کہنا یہ ہے کہ تمہارے باپ نے کہا تھا کہ مجھے اس بنگلے میں حصہ نہیں چاہیے۔

    3. میری دادی کا سونا بھی تھا اور اسی طرح میری پھوپھو میمونہ زکریا کا بھی سونا تھا میری پھوپھو میمونہ زکریا کا کوئی بیٹا نہیں انکی دو بیٹیاں ہیں۔ میری دادی اور اس پھوپھو کی سونےمیں بھی ہماری وارثت ہوگی ۔ میری پھوپھو رخسانہ زکریا کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے میری دادی اور میری پھوپھو میمونہ زکریا جن کا انتقال ہو گیا ہے اس کا سونا صرف اور صرف میری پھوپھو کی بیٹیاں ( یعنی میمونہ زکریا کی بیٹیوں کو دے دیا ہے )۔

    4: اگر تو یہ بنگلہ وارثت میں ہے تو میری دادی کے 2 بیٹے اور 5بیٹیاں ہیں جن میں سے میری 3 پھوپھیوں کا انتقال ہو گیا ہے۔ میری ایک پھوپھو جن کی کوئی اولاد نہیں ہے اور میری ایک پھو پھو ہیں جنگی صرف دو بیٹیاں ہیں۔آپ ہمیں اس کا شرعی طریقے سے وارثت کی تقسیم کا بھی حصہ بتائیں کہ یہ جائیداد کتنے فیصد پر سب پر تقسیم ہوگی۔

    دادی فاطمہ بائی کے ورثاء دو بیٹے(یحی ،امین)،پانچ بیٹاں (رخسانہ،بلقیس،میمونہ،کلثوم،فریدہ)،سب سے پہلے کلثوم کا انتقال ہواان کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔اس کے بعد میمونہ کا انتقال ہوگیااس کے ورثاء میں صرف دو بیٹاں (طیبہ ،طاہرہ )تھیں ،اس کے بعد یحی کا انتقال ہوا ورثاء:دوبیٹے،دوبیٹیاںاس کے بعد فریدہ کا انتقال ہو گیاورثاء :شوہر،دو بیٹے ہیں ۔

    نوٹ:ورثاء سے بات کی گئی تو پتہ چلا کہ فاطمہ بائی کی پانچوں بیٹیوں میں سے کوئی طلاق یافتہ ،کوئی غیر شادی شدہ اور کوئی بیوہ ہے جس کی وجہ سے فاطمہ بائی نے اپنی بیٹیوں کویہ گھر ہبہ کردیا تاکہ ان کو بعد میں کوئی پریشانی نہ ہو جبکہ دو بیٹے صاحبِ ثروت ہیں۔اور ہبہ کے وقت وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا نہیں تھیں کہ جس میں ان کا انتقال ہوا ۔نیز ہبہ کرنے کے بعد مرتے دم تک وہ اسی گھر میں رہائش پذیر رہیں لیکن زندگی میں ہی یہ گھر قانونی کاغذات میں بیٹیوں کے نام ٹرانسفر کردیا ۔ان کاغذات کی بناء پر ان پانچ بہنوں کو اپنے اپنے حصص کےمطابق اس گھر میں قانونی طور پر تصرف کرنے کا حق حاصل ہوگیا تھا۔جس کی وضاحت وکلاء حضرت کے دستاویزات سے بھی ہوتی ہے جو اس سوال نامہ کے ساتھ منسلک ہیں۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ بالا سولات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں :

    1. آپ کی دادی (فاطمہ بائی) نے جو مذکورہ بالا گھر اپنی پانچ بیٹیوں کو ہبہ کیا اور اپنی زندگی میں ہی قانونی کاغذات میں ان کے نام رجسٹرڈ بھی کروا دیا پس مذکورہ بالا گھر پانچ بہنوں کے حصص کے مطابق ان کی ملکیت ہوگیا ۔ اور چونکہ یہ گھر پانچ بہنوں میں تقسیم کی صورت میں قابل انتفاع نہ رہتا تو عدم تقسیم کے سبب ہبہ باطل نہ ہوا ۔نیز یہ ہبہ صرف بیٹیوں کو کرنا اور بیٹوں کو محروم رکھنا باعثِ گناہ نہیں کہ یہاں بیٹیاں مالی لحاظ سے کمزور تھیں جبکہ بیٹے صاحب ِ ثروت تھے البتہ بیٹیوں کے درمیان برابری نہ کرنا بُرا ہے کہ جب سب بیٹیاں ہی تھیں تو سب کو برابر برابر مکان دیا جاتا۔

    تفصیل مسئلہ : بغیر عوض کسی کو اپنی چیز کا مالک بنانا ہبہ کہلاتا ہے۔ہبہ کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ہبہ کرنے والا موہوب بہ (جو چیز ہبہ کی جارہی ہے)کواپنی زندگی میں ہی موہوب لہ(جسے ہبہ کیا جارہا ہے) کے قبضے میں دے دے ۔ اور ہبہ تام ہونے کے لیے قبضہ کی شرط خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فیصلوں سے ثابت ہے، البتہ قبضہ کی کیفیت اور نوعیت کا ذکر نص میں نہیں، اس لیے اس کا مدار عرف پرہے، یعنی عرف میں جسے قبضہ سمجھا جاتا ہو وہی شرعاً بھی قبضہ شمار ہوگا، خواہ قبضہ حقیقی ہو یا حکمی۔

    چنانچہ فقہاء کرام علیہم الرضوان نے اپنےاپنے زمانے کے عرف کے لحاظ سے مختلف اشیاء کے قبضہ کی مختلف صورتیں بیان فرمائی ، لیکن عبارات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے قبضہ کے لیے جن امور کوحضرات فقہاء کرام نے لازم قراردیا ہے وہ امور درحقیقت بذاتِ خود مقصود نہیں ، بالخصوص جبکہ وہ منصوص بھی نہیں، بلکہ ان امور سے اصل مقصود یہ ہے کہ قبضہ کرنے والا اس زمین پر ہر قسم کے مالکانہ تصرفات کرنے میں خود مختارہو۔چنانچہ اس مقصد کے حصول کیلئے اس زمانے میں جو امور ضروری سمجھے جاتے تھے انہیں فقہاء کرام نے ضروری قرار دیا لیکن چونکہ وہ عرف پر مبنی ہیں اس لئے عرف کے بدلنے سے قبضہ کی صورتوں میں بھی تبدیلی ہوسکتی ہے ۔

    البتہ بنیادی چیز جس پر تمام فقہاء کرام زمین کے قبضہ کے حوالے سے متفق ہیں وہ ہے ”تخلیہ“ ۔ا ور تخلیہ کی حقیقت یہ ہے کہ شیئ موہوبہ اور موہوب لہ کے درمیان تمام رکاوٹوں کواس طرح ختم کردیا جائے کہ موہوب لہ کواپنی مرضی سے اس میں تصرف کی قدرت اوراختیار حاصل ہوجائے اور کوئی مانع نہ ہو۔نیز اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اشیاء کے مختلف ہونے سے ان کے قبضہ کی کیفیت بھی مختلف ہوتی ہے، یعنی ہر چیز میں مالکانہ تصرفات کا اختیار ملنے کی کیفیت وہی ہوگی جواس کے مناسب ہو۔اس کے مطابق، جس طرح مکان کی چابی لینا مکمل قبضے میں شمار ہوتا ہے، اسی طرح موجودہ عرف کی بناء پر ہمارے نزدیک رجسٹرار کے ہاں مکان وغیرہا اعلانیہ رجسٹرڈ کرانے سے ملکیت تامہ حاصل ہوجاتی ہےجبکہ اسکے بعد کوئی ایسا مانع (حسّی ،شرعی و قانونی) نہ ہوجو مالکانہ تصرف سے روکے۔قانونی رجسٹری کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسا کہ فلیٹ کی چابی دے دینااور اسے اصطلاح فقہاء میں قبضہ حکمی سے تعبیر کرتے ہیں جو کہ مشروع ہے۔لہذا جب فاطمہ بائی نے اپنی زندگی میں ہی مذکورہ بالا پانچ بیٹیوں کے نام یہ گھر رجسٹرڈ کروادیا تو یہ گھر کا ہبہ تام ہوگیا اور پانچ بیٹیوں اس گھر کی اپنے شرعی حصص کےمطابق مالک بن گئی ۔ہبہ مشاع لایقسم میں حقیقی قبضہ ضروری نہیں حکمی قبضہ کافی ہے ۔

    2. جب آپ کی دادی (فاطمہ بائی) نے اپنی زندگی ہی میں مذکورہ بنگلہ اپنی پانچوں بیٹیوں (یعنی آپ کی پھوپھیوں) کے مابین ہبہ کر دیا، اور اس ہبہ کی باقاعدہ رجسٹری بھی کروادی گئی جسے شرعاً قبضۂ حکمی تسلیم کیا جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں وہ بنگلہ آپ کی پھوپھیوں کی ملکیت میں مکمل طور پر داخل ہو گیا۔لہٰذا دادی کے انتقال کے بعد یہ بنگلہ ترکہ (وراثت) میں شمار نہیں ہوگا، کیونکہ جو چیز زندگی میں ہی کسی کوہبہ کرکر دی جائیں ، بعد ازں ورثاء کو اس میں کسی قسم کا حق میراث نہیں ہوتا ۔لہذا جب آپ کے والد کا اس جائیداد میں کوئی حق و حصہ باقی نہ رہا، تو آپ بھی بطورِ اولاد اس میں کسی قسم کے شرعی حق دار نہیں بنتے۔ لہٰذا موجودہ صورت میں آپ کا اس بنگلے میں والد کی وراثت کا دعویٰ کرنا شرعاً درست نہیں ۔

    البتہ جن پھوپھیوں کا انتقال ہو چکا ہے، ان کے اپنے حصے کی میراث ان کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی۔ چنانچہ کلثوم کے انتقال کے بعد اس بنگلےمیں جو ان کا حصہ ہے اس کے 2016 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے میمونہ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 84 حصے، امین کے 528 حصے، رخسانہ اور بلقیس میں سے ہر ایک کے 264 حصے، یحییٰ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے 176 حصے، یحییٰ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 88حصے، فریدہ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے 99 حصے،اور فریدہ کے شوہر کے 66 حصے ہونگے۔اور میمونہ کا جو حصہ اس بنگلے میں بنتا ہے ۔اس کے 504 حصے کیے جائیں گے۔ جن میں سے میمونہ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 168 حصے، امین کے 48 حصے، رخسانہ اور بلقیس میں سے ایک کے24 حصے، یحیٰ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے 16 حصے، یحیٰ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 8 حصے، فریدہ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ 9 حصے اور فریدہ کے شوہر کے 6حصے ہوں گے۔

    اسی طرح فریدہ کا جو حصہ اس بنگلےمیں بنتا ہے، اس کے 8 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے ان کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے 3 حصے حصہ اور شوہر کے 2 حصے ہونگے ۔

    3. جو سونا دادی کی ملکیت میں تھا اور انہوں نے اپنی بیٹیوں کو دے دیا تھا، لیکن صرف پہننے کے لیے دیا تھا، تو ایسے سونے کو دادی کی ملکیت میں شمار کیا جائے گا، اور وہ سونا جو دادی نے اپنی بیٹیوں کو مالک بنا کر دے دیا تھا وہ ان بیٹیوں کی ملکیت شمار ہوگا، اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔ لہٰذا جو سونا حقیقتاً دادی ہی کی ملکیت میں باقی تھا، اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو لگائی جائے گی، اور امورِ متقدمہ علی الارث (مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے، پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا، کوئی جائز وصیت ہو تو اسے تہائی مال سے پورا کیا جائے) کے بعد اس کے 2016 حصے کیے جائیں گے۔ جن میں سے فریدہ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے 99 حصے، میمونہ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 84 حصے،یحیٰ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک176 حصے، یحیٰ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 88 حصے، امین کے 528 حصے، رخسانہ اور بلقیس میں سے ہر ایک کے 264 حصے، اسی طرح میمونہ زکریا کی ملکیت میں جو سونا تھا، اس کی بھی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت لگائی جائے گی، اور امورِ متقدمہ علی الارث (مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے، پھر اگر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا، کوئی جائز وصیت ہو تو اسے تہائی مال سے پورا کیا جائے) کے بعد اس کے 504 حصے کیے جائیں گے۔ جن میں سے میمونہ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 168 حصے، امین کے 48 حصے، رخسانہ اور بلقیس میں سے ایک کے24 حصے، یحیٰ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے 16 حصے، یحیٰ کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کے 8 حصے، فریدہ کے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ 9 حصے اور فریدہ کے شوہر کے 6حصے ہوں گے۔

    4.یہ بنگلہ وراثت میں نہیں بلکہ انہیں پھوپھیو کی ملکیت ہے جنہیں ہبہ کیا گیا ۔

    ہبہ کی تعریف کے حوالے سے علامہ محمد بن فرامرز المعروف ملا خسروعلیہ الرحمہ لکھتے ہیں:(تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ) أَيْ بِلَا شَرْطِ عِوَضٍ لَا أَنَّ عَدَمَ الْعِوَضِ شَرْطٌ فِيهِ۔ترجمۃ: کسی چیز کا( دوسرے کو )بلا عوض ( بغیر عوض کی شرط کے )مالک کردینا ہبہ کہلاتا ہے ،یعنی اسمیں عوض کا ہونا شرط و ضروری نہیں ۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام جلد 2 صفحہ 217 دار إحياء الكتب العربية)

    قبضہ کی شرط خلفائے راشدینرضی اللہ عنہم سے ثابت ہے،علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"(وَلَنَا) إجْمَاعُ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَهُوَ مَا رَوَيْنَا أَنَّ سَيِّدَنَا أَبَا بَكْرٍ وَسَيِّدَنَا عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - اعْتَبَرَا الْقِسْمَةَ وَالْقَبْضَ لِجَوَازِ النُّحْلَى بِحَضْرَةِ الصَّحَابَةِ وَلَمْ يُنْقَلْ أَنَّهُ أَنْكَرَ عَلَيْهِمَا مُنْكِرٌ فَيَكُونُ إجْمَاعًا وَرُوِيَ عَنْ سَيِّدِنَا أَبِي بَكْرٍ وَسَيِّدِنَا عُمَرَ وَسَيِّدِنَا عُثْمَانَ وَسَيِّدِنَا عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - عَنْهُمْ أَنَّهُمْ قَالُوا لَا تَجُوزُ الْهِبَةُ إلَّا مَقْبُوضَةً مَحُوزَةً وَلَمْ يَرِدْ عَنْ غَيْرِهِمْ خِلَافُهُ وَلِأَنَّهَا عَقْدُ تَبَرُّعٍ فَلَوْ صَحَّتْ بِدُونِ الْقَبْضِ لَثَبَتَ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ وِلَايَةُ مُطَالَبَةِ الْوَاهِبِ بِالتَّسْلِيمِ فَتَصِيرُ عَقْدَ ضَمَانٍ وَهَذَا تَغْيِيرُ الْمَشْرُوعِ".ترجمہ:(ہبہ میں قبضہ شرط ہونے پر)ہماری دلیل صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے۔ اور یہ وہ روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے صحابہ کی موجودگی میں تحفہ کے جواز کیلئے تقسیم اور قبضہ کا اعتبار کیا اور منقول نہیں کہ کسی انکار کر نیوالے نے اس پر انکار کیا ہو،پس یہ اجماع ہوگا۔ نیز حضرت سیدنا ابوبکر ، عمر فاروق، عثمان غنی،مولا علی اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہبہ جائز نہیں ہوتا مگر جب کہ مقبوض و مجوزیعنی تقسیم کیا ہوا ہو۔اور اس کے خلاف کچھ وارد نہیں ہوا۔نیز یہ عقد تبرع ہے اور اگر بغیر قبضے کے ہبہ صحیح ہو جائے تو موہوب لہ کو واہب سے سپرد کرنے کے مطالبہ کا اختیار حاصل ہوگااور اس پر یہ عقد ضمان بن جائے گا جو کہ مشروع کی تغییر ہے۔(بدائع الصنائع،کتاب الہبۃ،فصل فی شرائط رکن الہبۃ،6/123،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    ہبہ قبضہ شرعی سے مکمل ہوتاہے،علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"قَالَ فِي التَّتَارْخَانِيَّة قَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ الْهِبَةَ لَا تَتِمُّ إلَّا بِالْقَبْضِ وَالْقَبْضُ نَوْعَانِ حَقِيقِيٌّ وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ وَحُكْمِيٌّ وَذَلِكَ بِالتَّخْلِيَةِ".ترجمہ:فتاویٰ تتارخانیہ میں ہے:ہم ذکر چکے ہیں کہ بے شک ہبہ قبضہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ، اور قبضہ کی دو قسمیں ہیں:حقیقی وہ تو ظاہر ہے اور حکمی تو وہ تخلیہ سے ہوتا ہے۔(منحۃ الخالق،7/486،دار الکتاب کوئٹہ)

    تخلیہ بھی قبضہ شرعی ہے،علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"وَالْقَبْضُ عِنْدَنَا هُوَ التَّخْلِيَةُ، وَالتَّخَلِّي وَهُوَ أَنْ يُخَلِّيَ الْبَائِعُ بَيْنَ الْمَبِيعِ وَبَيْنَ الْمُشْتَرِي بِرَفْعِ الْحَائِلِ بَيْنَهُمَا عَلَى وَجْهٍ يَتَمَكَّنُ الْمُشْتَرِي مِنْ التَّصَرُّفِ فِيهِ فَيُجْعَلُ الْبَائِعُ مُسَلِّمًا لِلْمَبِيعِ، وَالْمُشْتَرِي قَابِضًا لَهُ، وَكَذَا تَسْلِيمُ الثَّمَنِ مِنْ الْمُشْتَرِي إلَى الْبَائِعِ".ترجمہ:ہمارے نزدیک قبضے سے مراد شے کا تخلیہ اور تخلی (خالی کرنا) ہے، وہ اس طرح کہ بائع مبیع اور مشتری کے مابین تخلیہ کر دے۔ یعنی مشتری اور اس کے درمیان وہ رکاوٹ کو اس طرح دور کردے کہ مشتری کیلئے ان میں تصرف کرنا ممکن ہو جائے تو اس طرح بائع مبیع کو سونپنے والا اور مشتری اس پر قبضہ کرنے والا ہوگا۔ یہی حکم مشتری کی جانب سے بائع کو ثمن کی ادائیگی کا ہے۔ (بدائع الصنائع،کتاب البیوع،فصل فی حکم البیع،5/244،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    ہر شے کا قبضہ اسکے اپنے اعتبار سے ہوتا ہے،علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"لِأَنَّ قَبْضَ كُلِّ شَيْءٍ وَتَسْلِيمَهُ يَكُونُ بِحَسَبِ مَا يَلِيقُ بِه".ترجمہ:ہر شے کا قبضہ و تسلیم شے کی مناسبت سے ہوتا ہے۔(البحر الرائق،کتاب الوقف،فصل اختص المسجد باحکام،5/268،دار الکتاب الاسلامی)

    کسی کے نام کا تملیک نامہ لکھوادینا ہبہ ہے،چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’دستاویز تملیک نامہ تو قطعا تمام اقوال پر ہبہ نامہ ہے جس میں کسی طرح نزاع کا احتمال نہیں کہ بالیقین ا س کا لکھنے والا تملیک عین بلاعوض کا قصد کرتاہے اور بالتعین یہی اس سے سمجھا جاتاہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    قانونی رجسٹری دلیل تملیک ہے، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ والد نے مکان اپنے بیٹے کے نام اس طور پر کیا کہ قانونی رجسٹری میں اپنا نام خارج کراکر بیٹے کا نام داخل کروایاپھر مکان کے کرایہ ناموں پر بیٹے نے بحیثیت مالک دستخط کئے،اسی طرح دیگر قانونی معاملات میں بھی بیٹے کو مالک ظاہر کیا پھر سولہ سال بعد والد انتقال کرگئے،یہاں بیٹیاں کہتی ہیں کہ والد صاحب نے کسی مصلحت کے تحت یہ مکان بیٹے کے نام رجسٹررڈ کرایا تھا ،جواباً امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’داخل خارج کرا دینا اور وہ کاروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیک ہیں، اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں‘‘۔

    (فتاوی رضویہ،19/334،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    سیدی اعلیٰ حضرت ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: اگر اس نے اپنا حصہ جدا جدا تقسیم کراکر ہبہ کیا اور بھانجی کو قبضہ دے دیا یا ہبہ کے بعد تقسیم کرکے حصہ منقسمہ پر قبضہ دے دیا یا وہ مشترک جائداد قابل تقسیم نہ تھی اگر دو حصے کئے جاتے تو ہر حصہ قابل انتفاع نہ رہتا، جیسے کوئی کوٹھری یا چھوٹی دکان تو ان صورتوں میں بعد قبضہ دختر ہبہ تمام ہوگیا۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:19،ص:354،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    البحر الرائق میں ہے:'' يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ''ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ درمختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    و اللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمّد سجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 ذی القعدہ 1447ھ/01مئی 2026