قفیز طحان کا شرعی مسئلہ

    qafiz tahhan ka sharai masla

    تاریخ: 17 جولائی، 2026
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 1641

    سوال

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عام اس مسئلہ میں کہ ہمارے علاقے میں گندم کی کٹائی اس طرح ہوتی ہے کہ ایک ایکڑ کی کٹائی کے بدلے میں مزدور کو مزدوری کے طور پر اسی ایکڑ کے گندم سے پانچ من گندم دی جاتی ہے ۔ یہ گندم بطور مزدوری میں دینا کیسا ہے؟

    سائل:مولانا محمد اعظم عطاری (متخصص فی الحدیث، فیضان مدینہ)


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جو گندم بطور اجرت دینا طے ہوا ہے، اگر عقد میں اسکی شرط ہو اور آپ کے علاقے میں یہ عرف ہو کہ یہ گندم اسی میں سے دی جاتی ہے جو مزدور نے کاٹی ہے،تو یہ صورت شرعاً ناجائز ہے۔کیونکہ یہ قفیز طحان کی قبیل سے ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قفیز طحان سے منع فرمایا ہے۔ ”قفیز طحّان“ کا مطلب یہ ہے کہ اجیر کے کام سے جو چیز وجود میں آرہی ہے اجرت اسی میں سے طے ہو یا اس کا عرف ہوجیسے آٹا پیسنے والے کا اُسی آٹے میں سے اجرت لینا۔

    ہدایہ میں ہے:وكذا إذا استأجر حمارا يحمل طعاما بقفيز منه فالإجارة فاسدة"؛ لأنه جعل الأجر بعض ما يخرج من عمله فيصير في معنى قفيز الطحان، وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عنه، وهو أن يستأجر ثورا ليطحن له حنطة بقفيز من دقيقه. وهذا أصل كبير يعرف به فساد كثير من الإجارات، لا سيما في ديارنا،:ترجمہ: اور اسی طرح غلہ اٹھانے کے لئے گدھا اجارہ پر لیا اور اسی میں سے ایک فقیز بطور اجرت دیا تو یہ اجارہ فاسد ہے کیونکہ اس نے ایسی چیز کے ایک حصہ کو اجرت بنایا ہے جو اس(گدھے)کے عمل کی وجہ سے نکلا ہے لہذا یہ قفیز طحان کے معنیٰ میں ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا (قفیز طحان) کی صورت ہی ہے کہ بیل اجارے پر لیا تاکہ اس سے گندم کی پسائی کرے گا اور اسی آٹے میں سے ایک قفیز اجرت مقرر کردے۔اور یہ ایک انتہائی اہم قاعدہ ہے جس کے ذریعے بہت سے فاسد اجاروں کو جانا جاسکتا ہے بالخصوص ہمارے ملک میں ہونے والے اجاروں کو جانا جاسکتا ہے۔(الہدایہ باب الاجارۃ الفاسدۃ جلد 3 ص 240 الشاملہ)

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَلَوْ) (دَفَعَ غَزْلًا لِآخَرَ لِيَنْسِجَهُ لَهُ بِنِصْفِهِ) أَيْ بِنِصْفِ الْغَزْلِ (أَوْ اسْتَأْجَرَ بَغْلًا لِيَحْمِلَ طَعَامَهُ بِبَعْضِهِ أَوْ ثَوْرًا لِيَطْحَنَ بُرَّهُ بِبَعْضِ دَقِيقِهِ) فَسَدَتْ فِي الْكُلِّ؛ لِأَنَّهُ اسْتَأْجَرَهُ بِجُزْءٍ مِنْ عَمَلِهِ، وَالْأَصْلُ فِي ذَلِكَ نَهْيُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَفِيزِ الطَّحَّانِ:ترجمہ:اور اگر کسی کو اون دیا تاکہ وہ سارا کات دے اور نصف اپنے پاس بطور اجرت رکھ لے یا خچر اجارہ پر لیا تاکہ وہ غلہ اٹھائے اور اسی غلے میں سے کچھ اجرت کے طور پر رکھ لے یا چکی سے آٹا پیسنے کے لیے بیل اجارہ پرلیا پھر اسی آٹے میں سے اجرت دی تو ان تمام صورتوں میں اجارہ فاسد ہوجائے گا کیونکہ اس نے اسی کے عمل کے ایک حصے کو اجرت بنادیا ۔ اور اس باب میں اصل آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نہی ہے کہ آپ ﷺ نے قفیز طحان سے منع فرمایا ۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار مطلب فی الاستیجار علی المعاصی جلد 6ص 59 الشاملہ)

    اوراسکی جائز صورت یہ ہےکہ اس گندم کی جگہ اسکی قیمت دےدے یا گندم ہی بطور اجر ت پہلے سے متعین کردے لیکن یہ متعین نہ کرے کہ اسی میں سے دونگا ،اوربعد میں اسی گندم میں سے دیدے تویہ جائز ہے۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:وَالْحِيلَةُ أَنْ يَفْرِزَ الْأَجْرَ أَوَّلًا أَوْ يُسَمِّيَ قَفِيزًا بِلَا تَعْيِينٍ ثُمَّ يُعْطِيَهُ قَفِيزًا مِنْهُ فَيَجُوزُ،:ترجمہ: اور اسکو جائز کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہی اجرت جدا کردے (یعنی کوئی اور چیز مثلا قیمت دیدے) اور یا قفیز مقرر کردے (لیکن کس میں سے دیگا یہ مقرر نہ کرے )پھر بعد میں اسی میں سے دیدے تو یہ جائز ہے۔(ایضا )

    اسکے تحت شامی میں ہے:وَلَا يَكُونُ فِي مَعْنَى قَفِيزِ الطَّحَّانِ إذْ لَمْ يَسْتَأْجِرْهُ أَنْ يَطْحَنَ بِجُزْءٍ مِنْهُ أَوْ بِقَفِيزٍ مِنْهُ كَمَا فِي الْمِنَحِ عَنْ جَوَاهِرِ الْفَتَاوَى:ترجمہ:اور یہ قفیز طحا ن کے معنیٰ میں نہیں ہے کیونکہ اس نے اس بات پر اجارہ نہیں کیا کہ وہ اسی کے ایک جزء سے یا اسی میں سے ایک قفیز سے اجرت ادا کرے گا جیساکہ جواہرالفتاویٰ سے المنح میں منقول ہے ۔(ایضا تحت قولہ)

    سیدی اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں :

    نشرالعرف میں ذخیرہ سے ہے : ھذا بخلاف مالوتعامل اھل بلدۃ قفیز الطحان فانہ لایجوز ولاتکون معاملتہم معتبرۃ لانالو اعتبرنا معاملتہم کان ترکاللنص اصلا وبالتعامل لایجوز ترک النص اصلا

    ترجمہ:یہ برخلاف ہے اس عرف کے جس میں علاقہ کے لوگ پسائی میں آٹے کو اجرت بنائیں کیونکہ یہ ناجائز ہے اور ان کا یہ معاملہ معتبر نہ ہوگاکیونکہ اگر ہم ان کا یہ تعامل معتبر مان لیں تو نص کا ترک لازم آئے گا جبکہ تعامل کے ساتھ نص کا ترک ہرگز جائزنہیں ہے۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الوکالۃ جلد 19 ص 566 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    خلاصہ یہ ہوا کہ مذکورہ صورت شرعا ناجائز ہے البتہ اسکے جواز کی صورت بھی بنتی ہے جسکو ہم نے اوپر ذکر کردیا ہے ۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:01 ربیع الثانی 1440 ھ/10 دسمبر 2018 ء