قادیانیوں کا حکم نیز ان سے تعلقات رکھنا مدد طلب کرنا کیسا

    qadianiyon ka hukum neez un se talluqat rakhna madad talab karna kaisa

    تاریخ: 20 جون، 2026
    مشاہدات: 52
    حوالہ: 1491

    سوال

    1:میرے ایک دوست ہیں جوکہ پہلے قادیانی تھے ، انکے چار بچے ہوئے اسکے بعد و ہ پوری فیملی مسلمان ہوگئی۔اور کورٹ میں جاکر اسلام قبول کرلیا ۔ لیکن عورت ماں باپ نہیں ہیں بہن اور بھائی ہیں اور وہ سب بھی قادیانی ہیں۔میرا سوال یہ ہے کہ جب یہ میاں ، بیوی اور بچے صحیح العقیدہ سنی ہیں تو کیا میں انکی بیٹی کے ساتھ نکاح کرسکتا ہوں یا نہیں؟

    2:دوسرا سوال یہ ہے کہ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو عورت کی اسکے بہن بھائیوں سے ناراضگی عروج پر تھی اسکے بعد انکا کوئی آگے پیچھے نہ تھا۔جسکی وجہ سے اس عورت کے شوہر نے دوسری شادی کرلی اور انہیں روڈ پر لاکر چھوڑ دیا۔ پھر خاتون نے مجبورا اپنے بھائیوں سے مدد مانگی انہوں نے انکی مدد کی اور ابھی بھی اسکے ساتھ تعاون کرتے ہیں جبکہ بھائی قادیانی ہیں۔اور اب یہ خاتون اپنی بیٹی کی شادی اپنے بھائیوں سے پیسے لےکر کرے گی،شادی کا سارا خرچہ بشمول جہیز اسکے قادیانی بھائی دیں گے۔ کیا ایسی صورت حال میں ان سے جہیز کا سامان لینا جائز ہے؟یونہی شادی کے موقع پر اس خاتون کے بھائی ہمارے گھر آئیں تو دل میں نفرت رکھ کرہم ان سے مل سکتے ہیں یا نہیں؟

    سائل:عبداللہ: کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:جب عورت اور اسکےتمام بچے سنی صحیح العقیدہ ہوچکے ، تو لڑکی سے نکاح کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ۔کہ ایک مسلمان کا دوسرے سے نکاح بلاشبہ سنت عمل ہے: چنانچہ بخاری میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ لَهُ، لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي۔ترجمہ:بخدا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اللہ کی ناراضگی سے بچنے والا ہوں (لیکن میرا حال)یہ ہے کہ میں کبھی نفل روزے رکھتا ہوں اور کبھی بغیر روزوں کے رہتا ہوں راتوں میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بھی کرتا ہوں (یہ میرا طریقہ ہے)اور جو میرے طریقے سے منھ موڑے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔( بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح حدیث نمبر 5063)

    2:مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے خارج از اسلام، کافر، مرتد اور زندیق ہیں اور ان سے معاملات کا حکم دیگر کفار سے مختلف ہے کیونکہ یہ مرتد اور زندیق ہونے کے باوجود وہ دجل و فریب کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان قرار دے کر سادہ لوح مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکا ڈالتے ہیں،لہذا انکے ساتھ کسی قسم کا تعلق جائز نہیں خواہ یہ شخص کسی کا باپ ہو یا اولاد ، ان کے ساتھ ،میل جول رکھنا،بلا وجہ شرعی بے تکلف ہونا،کھانا پینا ،ان کی تقاریب میں شرکت کرنا شرعا منع ہے،کہ ان سے تعلقات رکھنے اور نرم رویہ رکھنے میں انکو انکے کفر پر جری کرنا ہے۔ لہذا ان سے جہیز لینا ممنوع ہے، یونہی ان کو اپنے گھروں میں آنے کی اجازت دینا بھی حرام ہے کیوں کہ ان سے مالی معاونت لینے میں انہیں عزت دینا ہے، اور یہ لوگ عزت و احترام کے اہل نہیں ہیں۔سائل کو چاہیے کہ اگر اس عورت کی بیٹی سے نکاح کا خواہشمند ہے تو بجائےقادیانی سے جہیز لینے کے ، لڑکی سے جہیز کا مطالبہ ترک کردے اور جہیز سے ناامید ہوکر سچا مسلمان ہونے کا اور حمیتِ ایمانی اور غیرتِ اسلامی کا ثبوت دے، تاکہ لڑکی کو اپنے قادیانی رشتہ داروں سے معاونت کی نوبت پیش نہ آئے۔

    اللہ کریم نے قرآن مجید میں اور اس کے پیارے رسول ﷺ نے اس سے منع فرمایا ۔ قال اللہ تعالٰی:وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ۔ ترجمہ کنز الایمان :اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(المائدہ: 51)

    اس آیت کے تحت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی تفسیر خازن و مدارک کے حوالے سے لکھتے ہیں :اس میں بہت شدت و تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود و نصارٰی اور ہر مخالف دین اسلام علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے۔(خزائن العرفان ص218)

    دوسری جگہ ارشاد فرمایا:وَلاَ تَرْکَنُوْا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ۔ترجمہ کنز الایمان :اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔ (ھود: 113)

    اس آیت کے تحت تفسیر کشاف میں ہے:وفي الکشاف: والنھی تناول للانحطاط في ھواھم والانقطاع إلیھم ومصاحبتھم ومجالستھم وزیارتھم ومداھنتھم والرضا بأعمالھم والتشبہ بھم والتزیي بزیھم ومد العین إلی زہرتھم وذکرھم بما فیہ تعظیم لھم ترجمہ:اور آیت میں مذکور نہی انکی نفسانی خواہشات کی تکمیل گرانے اور ختم کرنے کو شامل ہے ، یونہی آیت میں انکی صحبت، مجلس، انکی زیارت،ا ن سے مداہنت، انکے اعمال پر رضا مندی، اور ان سے مشابہت، اور انکی عادات اپنانے ،انکی عیادت کرنے اور انکا ایسا ذکر کرنے جس سے انکی تعظیم ظاہر ہو کی ممانعت ہے۔(تفسیر کشاف: جلد 2 ص 95)

    سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :کافر دو قسم ہے :اصلی ومرتد۔اصلی وہ کہ ابتداء سے کافر ہو اور مرتد وہ کہ بعد اسلام کافر ہوا یا با وصف دعوی اسلام عقائد کفر رکھے :جیسے آج کل نیچری۔ مرتد کے لیے تو اصلاً نہ غسل، نہ کفن، نہ دفن، نہ مسلمان کے ہاتھ سے کسی کافر کو دیا جائے اگر چہ وہ اسی کے مذہب کا ہو، اگر چہ اس کا باپ یا بیٹا ہو، بلکہ اس کا علاج وہی مرادار کتے کی طرح دبادینا ہے، اور کافر اصلی سے اگر مسلمان کو قرابت نہیں توا س کے بھی کسی کام میں شریک نہ ہو بلکہ چھوڑ دیا جائے کہ اس کا عزیز قریب یا مذہب والے جو چاہے کریں۔( فتاوٰی رضویہ ، کتاب الجنائز، جلد 9 ص391،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

    یوں ہی ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:مرتد، ان میں سب (کفار میں )سے خبیث تر ہے اس کے پاس نشست برخاست مطلقا ناجائز ہے۔مرتد کی نہ دعوت کرے نہ اس کی دعوت میں جائے نہ اس سے کوئی معاملہ میل جول کا رکھے۔اور ساتھ کھانا ہر کافر کے ساتھ برا ہے۔ پھر اگر اس میں بد مذہبی کی تہمت ہو جیسے نصرانی کے ساتھ کھانا مسلمانوں کے لئے زیادہ باعث نفرت ہو تو اس کاحکم اور سخت تر ہوگا ورنہ اس اصل حکم میں کہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ پانی نہ پیو سب برابر ہیں۔( فتاوٰی رضویہ ، کتاب الحظر والاباحۃ ، جلد 21 ص 668،662رضا فاؤنڈیشن،لاہورملخصا )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:28 محرم 1442 ھ/17 دسمبر 2020 ء