chhaliya se roza fasid hone ka hukm
سوال
چھالیہ منہ رکھ کر چوسنے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟ زید کا کہنا ہے کہ جب چھالیہ پیٹ میں نہیں جا رہی اور تھوک تو منہ میں ہی پیدا ہوتا ہے تو اس سے روزہ کیونکر فاسد ہوگا؟
سائل:عبدالرحمان :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
چھالیہ ذائقہ اور مٹھاس والی ہوتی ہے اور اسے چوسنے سے تھوک کے ساتھ اس کا ذائقہ اور مٹھاس حلق سے اتر جاتا ہے، لہذا چھالیہ چوسنے سے بے شک و شبہ روزہ فاسد جائے گااور کفارہ بھی لازم ہوگا۔ تاہم اگر چھالیہ ایسی ہو جس میں بالکل بھی ذائقہ اور مٹھاس نہ ہو جیسے پان کی چھالیہ تو اس کو چوسنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ بلاعذر اس طرح کی چھالیہ چوسنا بھی مکروہ ہے۔فقہاء کرام نے ہڑ کی لکڑی چوسنے سے روزہ کے عدم فساد کا قول فرمایا ہے کہ وہ بے ذائقہ ہوتی ہے جبکہ گوند کے متعلق علما کا قول ہے کہ اگر وہ گوند گھل کر حلق سے اتر جاتی ہوبایں طور کہ وہ جڑی ہوئی اور ملی ہوئی نہ ہو تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا لیکن اگر گھل کر حلق سے نیچے نہ اتر تی ہو بلکہ جڑی ہوئی اور ملی ہوئی ہو تو دیکھیں گے اسکی رنگت سیاہ ہے یا سفید اگر سیاہ ہو تو بھی روزہ فاسد ہوجائے گا کی اسکی سیاہی تھوک کے ساتھ مل کر حلق سے اتر جائے گی اور اگر سفید ہو تو روزہ فاسد نہ ہوگا۔
اور چھالیہ میں بعینہ یہی دو صورتیں ہیں کہ اگر ذائقے اور مٹھاس والی نہ ہو تو روزہ فاسد نہ ہوگا کہ وہ ہڑ کی لکڑی کی مثل ہے، اور اگر ذائقے اور مٹھاس والی ہو تو اسے چوسنے سے روزہ فاسد ہوجائے گاکہ یہ رنگت والی گوند کی مثل ۔یہی مسئلہ چیونگم چبانے کا بھی ہے کہ اس میں بھی مٹھاس و ذائقہ تھوک کے ساتھ حلق سے اتر جاتا ہے۔
ازالہ اشکال : چھالیہ کو شکر ، گڑ یا چینی پر قیاس کرنا درست نہیں کہ ان اشیاء میں ان چیزوں کا عین گھل کر حلق سے اترجاتا ہے جبکہ چھالیہ میں عین نہیں گھلتا بلکہ اس میں شامل مٹھاس تھوک کے ساتھ حلق سے اترتی ہے۔
تنویر مع الدر میں ہے: ومص إهليلج بخلاف نحو سكر۔ترجمہ:ہڑ چوسنے سے روزہ فاسد نہ ہوگا برخلاف شکر جیسی چیزیں (ان سے روزہ فاسد ہوجائے گا)۔
اسکے تحت شامی میں ہے: (قوله: ومص إهليلج) أي بأن مضغها فدخل البصاق حلقه ولا يدخل من عينها في جوفه لا يفسد صومه كما في التتارخانية وغيرها۔ترجمہ:یعنی اسے چبایا اور تھوک حلق میں چلا گیا اور اسکا کوئی حصہ پیٹ میں داخل نہ ہوگا اسکا روزہ فاسد نہ ہوگا جیساکہ تاتارخانیہ وغیرہ میں ہے۔(تنویر الابصار مع الدر و حاشیہ ابن عابدین شامی، جلد 2 ص 396)
ہندیہ میں ہے: ولو مص سكرا حتى وصل الماء حلقه فعليه الكفارة كذا في محيط السرخسي ۔ترجمہ:اور اگر شکر چوسی حتی کہ اسکا پانی حلق تک پہنچ گیا تو اس پر کفارہ لازم ہوگا اسی طرح محیط سرخسی میں ہے۔ (فتاوٰی ہندیہ، جلد 1 ص 203)
ہندیہ میں ہے: يكره مضغ العلك للصائم كذا في فتاوى قاضي خان. وهكذا في المتون. قال مشايخنا: المسألة على التفصيل إن لم يكن العلك ملتئما مصلحا فطره، وإن كان مصلحا ملتئما فإن كان أسود فطره، وإن كان أبيض لم يفطره۔ ترجمہ: روزے دار کے لئے گوند چبانا مکروہ ہے اسی طرح فتاوٰی قاضی خان میں ہے اور اسی طرح متون میں ہے ہمارے مشائخ نے فرمایا یہ مسئلہ تفصیل پر مبنی ہے کہ اگر گوند جڑی ہوئی ملی ہوئی نہ ہو تو روزہ فاسد کردے گی اور اگر جڑی ہوئی ملی ہوئی ہو تواگر سیاہ ہو تو روزہ فاسد کودے گی اور اگر سفید ہو تو فاسد نہ کرے گی۔(الفتاوى الهندية: (199/1، ط: دار الفکر)
شامی میں ہے: (قوله أبيض إلخ) قيده بذلك؛ لأن الأسود وغير الممضوغ وغير الملتئم، يصل منه شيء إلى الجوف، وأطلق محمد المسألة وحملها الكمال تبعا للمتأخرين على ذلك قال للقطع بأنه معلل بعدم الوصول، فإن كان مما يصل عادة حكم بالفساد؛ لأنه كالمتيقن۔ ترجمہ: سفید کے ساتھ اس کے ساتھ مقید کیا کیونکہ سیاہ اور جسے چبایا نہ جائے اور جو جڑی ہوئی نہ ہو اسکا کچھ حصہ جوف تک پہنچ جاتا ہے اور امام محمد نے اس مسئلہ کو مطلق رکھا ہے اور امام ابن ھمام نے متاخرین کی اتباع میں اس کو اسی پر محمول فرمایا ہے اور فرمایا یہ عدم وصول کے ساتھ معلل ہے لہذا اگر ان امور میں سے ہو جو عادۃً پہنچ جائے تو فساد کا حکم دیا جائے گا کیونکہ یہ یقینی کی طرح ہے۔(شامی ، جلد 2 ص 415)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 رمضان المبارک 1446ھ/ 10 مارچ 2024 ء