خلع کے بعد عدت وغیرہ کا حکم

    khula ke baad iddat waghaira ka hukm

    تاریخ: 4 جولائی، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 1570

    سوال

    میں نے اپنی بیٹی کی شادی نومبر 2024 میں کی ۔ لیکن جون 2025 تک اسکے شوہر نے ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا، ہم نے بچی کے سسرال والوں کو آگاہ کیا تاہم انہوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیابلکہ علیحدگی پر زور دیا۔ ہماری ویلفیئر تنظیم کی جانب سے طبی معائنہ کروایا گیا اور رپورٹس کی روشنی میں ہم نے علیحدگی پر رضامندی ظاہر کردی کیونکہ طبی طور پر شوہر کونااہلی کے مسائل لاحق ہیں، انکے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ سب گھر والوں کو یہ معلوم تھا لیکن انہوں نے ہمیں مطلع نہیں کیا بلکہ وہ لڑکی کو تنگ کرتے رہے کہ کسی طرح خود سے علیحدگی کا تقاضہ کرے لیکن لڑکی نے نہیں کیا تو لڑکا کسی بہانے سے لڑکی کو والدین کے گھر چھوڑ گیا، پچھلے چھ سے سات مہینے سے لڑکی والدین کے گھر ہے ۔ بات چیت کے بعد یہ طےہوگیا کہ خلع لی جائے اور لڑکا خلع دینے پر راضی ہے، اسی سلسلے میں میرے درج ذیل سوالات ہیں:اگر خلع ہوجائے تو

    1: عدت کے مہینوں کا نان و نفقہ کلیم کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

    2: میری بیٹی وہاں رہتے ہوئے جاب کرتی تھی دو ماہ کی سیلری اسی ہزار روپے بطورِ جیب خرچ دی ہے کیا ہم اسکا دعوٰی کر سکتے ہیں یا نہیں؟

    3: نیز لڑکا لڑکی والوں کے مابین سونے کے لین دین کا کیا حکم ہے؟ شوہر اور بیوی دونوں علیحدگی پر متفق ہیں جہیز کا زیادہ تر سامان وصول کیا جا چکا ہے۔

    نوٹ: سائل سے استفسار کیا تو معلوم ہوا لڑکی والدین کے گھر ہی عدت گزارے گی لڑکے کے گھر بھیجنا نہیں چاہتے۔

    سائل: سہیل احمد:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: طلاق و خلع دونوں میں شوہر پر عدت کا نان و نفقہ اور رہائش لازم ہے اور یونہی عورت پر شوہر کے گھر میں عدت گزارنا لازم ہے،اگرچہ عورت طلاق یا خلع سے قبل والدین کے گھر ہو تب بھی اس پر لازم ہے کہ طلاق یا خلع ہوتے ہی شوہر کے گھر آجائے اور وہاں عدت گزارے اس صورت میں شوہر نان و نفقہ کی سہولت اور طلاق ِمغلظہ ا ورخلع کی عدت میں مکمل پردے کی سہولت بھی فراہم کرےگا۔لہذا جوں ہی طلاق یا خلع واقع ہو گی عورت کو حکم دیا جائے گا کہ عدت گزارنے شوہر کے گھر جائے ،اگر عورت اپنی مرضی سے شوہر کے گھر عدت نہیں گزارتی اور کوئی ایسا مانع بھی نہیں کہ جو شرعی عذر بننے کی صلاحیت رکھے تو اس صورت بلاعذرِ شرعی شوہر کے گھر عدت نہ گزارنے کیوجہ ناشزہ کے حکم میں داخل ہوگی لہذا عدت کے نان و نفقہ کی مستحق نہ ہوگی، نیز اس صورت میں اللہ کریم کے حکم (وَ لَا یَخْرُجْنَ ترجمہ : عورتیں عدت کے دوران خود (شوہر کے گھر سے )نہ نکلیں۔سورۃ الطلاق،آیت:01) کی نافرمانی کے سبب گناہ بھی ہوگا۔ہاں ۔۔۔! اگر واقعتاً شوہر کے گھر عدت نہ گزارنے کا کوئی عذرِ شرعی موجود ہے مثلاً شوہر خود عورت کو اپنے گھر آنے نہ دے یا اسے گھر سے نکال دےیا شوہر کے گھر رہنے کی صورت میں ظلم و ستم یا ہلاکتِ نفس وغیرہ کا خطرہ وغیرہ تو اس صورت میں اگرچہ عدت والدین کے گھر میں گزارے ضرور نفقہ کی مستحق ہوگی۔

    لیکن اگر خلع میں سقوطِ نفقہ کی شرط لگادی جائےیعنی اس بات پر خلع ہو کہ مرد عورت کو دورانِ عدت نان و نفقہ نہیں دے گا تو اس صورت میں بھی عورت کا نفقہ ساقط ہوجائے گااور عورت کو مطالبے کا حق حاصل نہیں ہوگا ۔ یاد رہے کہ طلاق میں سقوطِ نفقہ کی شرط درست نہیں، یعنی یہ ممکن نہیں کہ طلاق کی صورت میں عورت آئندہ لازم ہونے والے نفقے کو قبل از وقت معاف کردے، البتہ فقہائے کرام نے خلع میں اس شرط کا استثناء فرماتے ہوئے سقوط کا اعتبار فرمایا ہے۔البتہ سکنٰی(رہائش) اس صورت میں بھی ساقط نہیں ہوگا کہ سکنٰی نصِ قرآنی سے ثابت و مستحکم ہے جو کسی شرط سے ساقط نہیں ہوسکتا۔ جیساکہ ارشاد باری تعالٰی ہے :لَا تُخْرِجُوۡہُنَّ مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ ترجمہ کنزالایمان: ”عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں۔ (القرآن الکریم،پارہ28،سورۃ الطلاق،آیت:01)

    کنزالدقائق،ہدایہ اور فتح القدیر میں ہے:و النظم للآخر: وعلى المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت لقوله تعالى ﴿لا تخرجوهن من بيوتهن﴾۔ترجمہ:اور معتدہ پر لازم ہے کہ وہ اسی گھر میں عدت گزارے جو طلاق یا موت کے وقت اس کی سکونت کی جگہ ہو، اللہ تعالیٰ کےاس فرمان کی وجہ سے کہ انہیں ان کے گھروں سے مت نکالو۔(فتح القدیر، جلد 4، صفحہ 344، مطبوعہ دار الفكر، لبنان)

    چناچہ علامہ ابوالفضل عبداللہ بن محمودبن مودود موصلی حنفی متوفى: 683ھ لکھتے ہیں : وَلِلْمُطَلَّقَةِ النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى فِي عِدَّتِهَا بَائِنًا كَانَ أَوْ رَجْعِيًّا۔ترجمہ: شوہر پر طلاق یافتہ کے لئے اسکی عدت میں نفقہ اور سکنٰی ہے خواہ طلاق رجعی ہو یا بائن ہو۔(الاختیار لتعلیل المختار ،کتاب الطلاق ،ج 4ص 8)

    یونہی تنویر الابصار مع الدر المختار باب العدۃ مطلب فی مسکن الزوج جلد 3ص 599 میں ہے:(وَ) تَجِبُ (لِمُطَلَّقَةِ الرَّجْعِيِّ وَالْبَائِنِ، وَالْفُرْقَةُ بِلَا مَعْصِيَةٍ وَتَفْرِيقٍ بِعَدَمِ كَفَاءَةِ النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى وَالْكُسْوَةُ۔ترجمہ: اور وہ عورت جس کو طلاق رجعی یا بائن دی گئی ہو یاایسی جدائی کی صورت میں جس میں عورت کی طرف سے کوئی معصیت نہ ہو یا کفو نہ ہونے کی وجہ سے علیحدگی ہوجائے تو اسکا خرچہ ،رہائش اور لباس مرد کے ذمے واجب ہیں۔خلع کی عدت میں بھی نفقہ لازم ہوگا۔ جیسا کہ فتاوٰی شامی میں ہے: فإن الخلع سبب لوجوب نفقة العدة۔ ترجمہ: خلع، عدت کا نفقہ واجب ہونے کا سبب ہے۔(رد المحتار مع الدر المختار ، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج 03، ص 453، مطبوعہ بیروت)

    بدائع الصنائع، بحر الرائق وغیرہ کتبِ فقہیہ میں ہے: و اللفظ للبحر“المعتدۃ اذا خرجت من بیت العدۃ تسقط نفقتھا ما دامت علی النشوز، فان عادت الی بیت الزوج کان لھا النفقۃ و السکنی ۔ترجمہ: عدت والی عورت اگر عدت والے گھر سے نکل جائے، تو جب تک وہ نافرمانی پر قائم رہے تب تک اس کا نفقہ ساقط ہوجائے گا۔ ہاں! اگر وہ شوہر کے گھر لوٹ آتی ہے تو وہ نفقہ اور رہائش کی مستحق ہوگی۔(البحر الرائق، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج 04، ص 217، مطبوعہ بیروت)

    بہار شریعت میں ہے: اگر بعدِ طلاق شوہر کے گھر میں رہی اور باہر جانا چھوڑدیا تو ( نفقہ) پائے گی۔ (بہار شریعت ،ج02،ص263، مکتبۃ المدینہ، کراچی )

    عورت اگر ناشزہ ہے تو مرد پر نان و نفقہ لازم نہیں اس بارے اعلی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں ’’ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:عورت کا نان ونفقہ کہ شوہر کے یہاں پابند رہنے کا بدلہ ہے،اگرناحق اس کے یہاں سے چلی جائے گی، جب تک واپس نہ آئے گی کچھ نہ پائے گی۔(فتاوی رضویہ، جلد24،صفحہ391، رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:عورت شوہر کے یہاں سے ناحق چلی گئی، تو نفقہ نہیں پائے گی، جب تک واپس نہ آئے اور اگر اُس وقت واپس آئی کہ شوہرمکان پر نہیں، بلکہ پردیس چلا گیا ہے، جب بھی نفقہ کی مستحق ہے۔ (بہارشریعت، جلد2،حصہ8،صفحہ262، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

    درِ مختار میں ہے:قالوا: الابراء قبل الفرض باطل و بعدہ یصح مما مضی۔ ترجمہ: فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ لازم ہونے سے پہلے معاف کردینا باطل ہے اور لازم ہونے کے بعد سابقہ دین معاف کرنا درست ہے۔

    اس کے تحت رد المحتار میں ہے:یستثنی من ذلک ما لو خالعھا علی ان تبرئہ من نفقۃ العدۃ کما قدمناہ فی بابہ، لانہ ابراء بعوض و ھو استیفاء قبل الوجوب فیجوز، اما الاول فھو اسقاط الشئی قبل وجوبہ فلا یجوز، کما فی الفتح۔ترجمہ: اس سے وہ صورت مستثنی ہےکہ عورت نے اسی شرط پر خلع کیا کہ وہ مرد کو عدت کے نفقہ سے بری کردے (تو اب عدت کا نفقہ ساقط ہوجائے گا) جیسا کہ ہم نے اسے خلع کے باب میں پہلے ذکر کیا ہے، کیونکہ یہ عوض کے بدلے میں معافی دینا ہے اور یہ نفقہ واجب ہونے سے پہلے اپنے حق کو وصول کرنا ہے، لہذا یہ جائز ہے۔ بہر حال (خلع کے علاوہ )پہلی صورت میں واجب ہونے سے پہلے ہی کسی چیز کو ساقط کرنا ہے اور یہ جائز نہیں، جیسا کہ فتح القدیر میں مذکور ہے ۔(رد المحتار مع الدر المختار ، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج 03، ص 586، مطبوعہ بیروت)

    ایک دوسرے مقام پر علامہ شامی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں:وفی المجتبی نفقۃ العدۃ کنفقۃ النکاح وفی الذخیرۃ وتسقط بالنشوز وتعود بالعود، وأطلق فشمل الحامل وغيرها والبائن بثلاث أو أقل كما في الخانية ، ويستثنى ما لو خالعها على أن لا نفقة لها ولا سكنى فلها السكنى دون النفقة۔ ترجمہ: مجتبیٰ میں ہے کہ عدت کا نفقہ نکاح کے نفقہ کی طرح ہے، اور ذخیرہ میں ہے کہ نشوز کے سبب نفقہ ساقط ہوجاتا ہےہاں اگر زوجہ لوٹ آئے تو نفقہ بھی لوٹ آئے گا۔ یہاں نفقہ کا مطلق بیان ہوا ہے لہذا یہ حکم حاملہ اور غیر حاملہ عورت ، تین طلاق والی بائنہ عورت یا اس سے کم طلاق والی عورت، سب کو شامل ہے، جیسا کہ خانیہ میں مذکور ہے۔ مگر اس سے وہ عورت مستثنیٰ ہے کہ جو اس شرط پر خلع کرے کہ اس کے لیے نفقہ اور رہائش نہیں ہے، تو اس کے لیے رہائش تو ہوگی مگر نفقہ نہیں ہوگا۔(رد المحتار مع الدر المختار ، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج 03، ص 609، مطبوعہ بیروت)

    جوہرہ میں ہے: إن خالعها على نفقة عدتها صح الخلع وسقطت عنه النفقة۔ترجمہ:عورت نے اگر اس شرط پر خلع کیا کہ وہ عدت کا نفقہ وصول نہیں کرے گی، تو یہ خلع درست ہےاور شوہر سے اُس کا نفقہ ساقط ہوجائے گا۔(الجوہرۃ النیرۃ،کتاب الخلع، ج 02،ص 61، المطبعة الخيرية)

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت میں فرماتے ہے: خلع میں نفقہ ہے، ہاں اگر خلع اس شرط پر ہواکہ عورت نفقہ وسکنےٰمعاف کرے تو نفقہ اب نہیں پائے گی مگر سکنٰے سے شوہر اب بھی بَری نہیں کہ عورت اس کو معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ (بہارشریعت، ج 02، ص264، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

    عورت خلع کا نفقہ ساقط کردے تو ساقط ہونے سے متعلق بہارِ شریعت میں ہے: اُس سال کا جوابھی نہیں آیا (نفقہ) معاف نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔ ہاں اگر اس شرط پر خلع ہوا کہ عورت عدت کانفقہ معاف کردے تو یہ معاف ہو جائیگا۔ (بہارشریعت، ج 02، ص268، مکتبۃ المدینہ)

    ایک دوسرے مقام پر صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں:نکاح کی وجہ سے جتنے حقوق ایک کے دوسرے پر تھے وہ خلع سے ساقط ہو جاتے ہیں اور جو حقوق کہ نکاح سے علاوہ ہیں وہ ساقط نہ ہوں گے۔ عدت کا نفقہ اگرچہ نکاح کے حقوق سے ہے مگر یہ ساقط نہ ہوگا ہاں اگر اس کے ساقط ہونے کی شرط کر دی گئی تو یہ بھی ساقط ہو جائیگا۔(بہارشریعت، ج 02، ص196-195، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

    عدت کی تفصیل: طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ہے ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔ (البقرۃ:228 )

    دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)

    2: اگر دیتے وقت قرض کی یا واپس لینے کی صراحت کی تھی تب تو بے شک و شبہ واپس لینا حق ہے، اگر اسکے خلاف صراحت کی تو جس چیز کی صراحت کی وہی قرار پائے گا اگر کچھ صراحت نہ کی یا گفٹ /ہبہ کی صراحت کی تو بھی واپس نہیں لے سکتی ، پہلی صورت میں تبرع قرار پائے جبکہ دوسری صورت میں ھبہ ہے مگر ھبہ کا مانع زوجیت موجود ہے لہذا واپسی کا حق نہیں۔

    3: شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے جو سامان اور زیورات وغیرہ لڑکی کو دیئے گئے:اس کی درج ذیل تین صورتیں ہے:

    (1):شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتاً (واضح طور پر)لڑکی کو سامان اور زیورات دیتے وقت مالک بناتے ہوئے قبضہ دیا تھا۔

    (2):شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتاً لڑکی کو سامان اور زیورات عاریتاً (یعنی عارضی استعمال کیلئے) دئیے تھے۔

    (3):شوہر یا اس کے گھر والوں نے دیتے وقت کچھ بھی نہیں کہا۔

    پہلی صورت میں لڑکی سامان اور زیورات کے ہِبہ کیے جانے کی وجہ سے مالکہ ہے، اسی کو یہ سب دیا جائے گا۔ دوسری صورت میں جس نے دیا وہی مالک ہے۔ وہ واپس لے سکتا ہے اور تیسری صورت میں شوہر کے خاندان کا رواج دیکھا جائے گا۔ اگر وہ لڑکی کو ان اشیاء کا مالک بناتے ہیں تو لڑکی کو دیا جائے گا ورنہ وہ حقدارنہیں اس سے واپس لیا جا سکتا ہے۔

    امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کردیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دیا تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا یا وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:260،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    3:لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کو ملنے والا سامان:لڑکے کو جو سامان لڑکی والوں کی طرف سے ملتا ہے ۔مثلاً گاڑی ،بائیک ،سونا وغیرہ ، عرف عام یہی ہے کہ لڑکے کو ہبہ کی جاتی ہیں۔یعنی لڑکے کی طرف سے قبضہ ہونے کے بعد وہ چیز لڑکے کی ملک ہوجاتی ہے۔اور ہبہ کی واپسی سے کوئی مانع نہ پایا جائےتو قاضی کی قضا یا لڑکے کی رضا مندی سے واپس لینے کا اختیار ہے۔ لیکن واپس لینا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز وگناہ اورشرعاًنہایت قبیح فعل ہے ، جسےحدیث پاک میں کُتّے کےقےیعنی اُلٹی کرکےاُسے چاٹ لینے سے تعبیرکیاگیا ہے۔اگر کسی نے گفٹ کی ہوئی چیز زبردستی چھین لی ، تو یہ شخص اُس گفٹ کی ہوئی چیز کا مالک نہیں بنے گا، بلکہ جس کو گفٹ دیا تھاوہ چیز اسی کی ملکیت میں باقی رہے گی ۔اور اس کے تمام تصرفات ،ملکِ غیر میں تصرف کرنا کہلائے گا۔

    بخاری شریف میں ہے:نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: العائد في هبته كالکلب یقی ءثم یعود في قيئه ترجمہ: اپنے ہبہ سے رجوع کرنے والااس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے پھر چاٹ جاتا ہے ۔(صحیح البخاری،رقم:2589)

    فتاوی رضویہ میں ہے:اگر موانع رجوع نہ ہوں جب بھی رجوع کا خود بخود اختیارنہیں ہوتا بلکہ یا تو موہوب لہ (جس شخص کو گفٹ دیا گیا ہو اس ) کی مرضی سے ہبہ واپس کر لے یا نالش کر کے بحکم حاکم رجوع کرے ،اس کے بعد دوسرے کو ہبہ کر سکتا ہے بغیر اس کے وہی ملک غیر کا ہبہ ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،ص:332،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    شادی کےوقت سُسرال سےملنے والےجوڑے کےمتعلق امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں: شوہر کا جوڑا ادھر سےآتا ہےبعد قبضہ قطعاً مِلک شوہر ہو جاتا ہے کہ لوگ اُس سےتملیک ہی کا قصد کرتے ہیں وذٰلک واضح لاخفاء بہ۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12، ص:260،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فتاوی رضویہ میں سُسرال کی جانب سےملنے والےجوڑے کی واپسی کے بارے میں لکھاہے: اگرجوڑا مِلکِ شوہر میں موجود اور باقی موانع رجوع بھی مفقود ہوں مثلاً والدینِ زن نے بنایا تو اُن سے قرابت محرمہ نسبیہ نہ ہو، یا مالِ زوجہ سے بنا تو پیش ازنکاح بھیجا گیا ہوتو شوہر کی رضا یاقاضی کی قضا سے رجوع کا اختیار ہوگا کہ طرفین سے جوڑیں کا جانابحکمِ عرف دونوں جانب کی مستقل رسم ہے،نہ ایک دوسرے کے عوض میں، ولہذا اگر ایک جا نب سے مثلاً بوجہ افلاس جوڑا نہ آئے تو بھی دوسری طرف والے بھیجتے ہیں تو عوض صریح کہ موانع رجوع سے ہے متحقق نہیں، پھر دُولہاکی جانب سےبری میں ہرگز اُس جوڑے کا خیال نہیں جودُولہا کو ملتا ہے بلکہ محض ناموری یا وہی کثرتِ جہیز کی طمع پروری، بہر حال یہ ہبہ معاوضہ سے خالی ہے تو بشرائط مذکورہ دُلہن والوں کو رجوع کا اختیار،مگر گنہگار ہوں گےاس صورت میں شوہر نے اگر یہ جوڑا واپس کردیا تو رجوع صحیح ہوگئی اور اس کی مِلک سے خارج ہوگیا لتحقق الرجوع بالتراضی۔(ملتقطاً ازفتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:204،205،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 رجب المرجب 1447ھ/ 06 جنوری2026 ء