kuch mutafarriq sawalat ke jawabat
سوال
حدیث مبارک ہے کہ آخری زمانے میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ ایک مرد کی کفالت میں پچاس پچاس عورتیں ہوں گی۔ حدیث مبارکہ میں اس کی جو وجوہات بیان نہیں کی گئی ہیں، میرے خیال میں اس بات کو اس زمانے کے لوگوں کو چھوڑ دیا گیا تھا کہ زمانے کے لوگ اس مسئلے پر غور و فکر کریں گے۔ اس زمانے میں لڑکیوں کی تعداد بڑھنی شروع ہو گئی ہے۔ مگر اس مسئلے پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟
آج سائنس اس پر روشنی ڈالتی ہے:
1:اگر مرد کے جراثیم طاقتور ہوں گے اور عورت کے کمزور تو لڑکا پیدا ہوگا۔
2: اگر مرد کے جراثیم کمزور ہوں گے اور عورت کے طاقتور تو لڑکی پیدا ہوگی۔
3: اگر مرد اور عورت کے جراثیم طاقت کے لحاظ سے برابر ہوں گے تو جڑواں بچے پیدا ہوں گے۔
میں نے اس بات پر غور و فکر کیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس بات میں ہمارے والدین کا اور اولادوں پر توجہ نہ دینا اور ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔
مجھ سمیت ہر شخص بلوغت کے زمانے سے گزرا ہے جو کہ بارہ سال سے چودہ سال کے درمیان ہوتا ہے، اگر والدین اپنے بچوں کو کسی بھی ذریعہ سے "سیکس جنسیات" کے بارے میں تعلیم دے دیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ 75 فیصد تک ہم اس اہم مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔
میں نے اپنے طور پر بارہ بچوں کے انٹرویوز لئے۔ ہر بچے کو مشت زنی میں گرفتار پایا۔ میں نے بچوں کو اس کے نقصانات سے آگاہ کیا۔
1: بچا نا مرد ہو جاتا ہے، شادی کے قابل نہیں رہتا۔ لڑکیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔ بعض بچوں نے شادی کے بعد خودکشی کرلی طلاق ہوجاتی ہے وغیرہ وغیرہ بچوں نے میری باتوں کو توجہ سے سُنا۔ اور ہر بچے نے ایک ہی بات کی کہ ہمیں کسی نے سمجھایا ہی نہیں۔ مشت زنی کے نقصان سے ہر شخص باخبر ہے لیکن کوئی شخص اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ میرے خیال میں والدین ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کا بچہ زنا میں نہ پڑ جائے حالانکہ اس کا ایک بہترین حل ہے کہ بچوں کو شریعت کے بارے میں بتایا جائے۔ شریعت میں زنا کی جو سزائیں ہیں، ان کے بارے میں بتایا جائے۔ شادی سے پہلے جو زنا کرے، اس کی سزا میں کوڑے مارے جاتے ہیں۔ اگر شادی کے بعد زنا کرے زمین میں گڑھ کر پتھر مارے جاتے ہیں حتی کہ وہ مر جائے اور یہ کہ یہ زنا کی معافی نہیں ہے۔ اگر دنیا میں زنا کی معافی دی جاتی ہے تو قیامت میں یہ گناہ بڑی سختی سے پکڑا جائے گا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس اہم مسئلے پر بچے سے بات چیت کی جائے؟ بچے کی تعلیم و تربیت کی جانی چاہیے۔ جس سے ایک صحت مند معاشرہ کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اس مسئلے پر شریعت کیا کہتی ہے؟ بچوں کو سمجھایا جائے یا بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جیساکہ اکثر والدین بچوں کو نہیں سمجھاتے۔سوائے یہ کہ وہ بچہ پہلوان کا ہو ، اگر پہلوان بچے پر نظر نہ رکھے تو پہلوان کا بچہ کبھی پہلوان نہیں بن سکتا۔
سائل: اشرف حسین :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سائل کا سوال کثیر جہتی ہے تاہم ظاہر یہی ہے کہ سائل کا مقصد سیکس ایجوکیشن سے متعلق ہے کہ آیا بچوں کو سیکس ایجوکیشن دینی چاہیے یا نہیں ؟ اس بارے میں شریعت کا کیا نکتہ نظر ہے؟ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ اگر جنسی تعلیم سے مراد یہ ہے کہ بچوں کو تعلیمی نصاب میں الگ سے جنسی تعلیم فراہم کی جائے ، تولیدی عمل سے آگاہ کیا جائے اور ’محفوظ طریقوں‘ سے اپنی خواہش پوری کرنا سکھایا جائے جیساکہ بعض اسکولز میں ہوتا ہے ،انتہائی غیر مناسب اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، بچوں اور بچیوں کواس طریق پر جنسی تعلیم دینے سے فحاشی اور عریانی کا بازار مزید گرم ہو گا، یہ بات بالکل خلافِ عقل ہے کہ جنسی تعلیم دینے سے زنا اور بدکاری کا دروازہ بند ہو جائے گا۔البتہ جنسی تعلیم یا جنسی تربیت اسلام میں شجرِ ممنوعہ نہیں کہ جس پر بالکل بات ہی نہ کی جاسکتی ہو یا اس کی تعلیم روحانیت کے خلاف متصور کی جائے، اور عائلی زندگی، معاشرت ومعاملات کا سر رشتہ کاٹ دیا جائے اور ان سب سے قطع نظر کرتے ہوئے جنگل، صحراوں، اور پہاڑوں میں زندگی گزارنے کا درس دے اور اسی تجردانہ زندگی کو معراج تصور کیا جائے، اور ناہی یہ ان مذاہب میں سے ہے جہاں جنسیات کو شتر بے مہار چھوڑ دیاجائے یا اس کی قدر وعظمت اس قدر بلند کردی جائے کہ اسے پرستش کا مقام مل جائے، بلکہ اسلام ایک متوسط مذہب کا نام ہے ’’وکذلک جعلناکم امۃ وسطا‘‘ترجمہ: اور ہم نے تمہیں امتِ وسط بنایا ہے۔(البقرۃ: 143)افراط وتفریط کی اس میں کوئی جگہ نہیں ہے، یہ اعتدال وتوازن کی راہ کو انسانیت کا منشور قرار دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کا تصور جنس مشرق ومغرب کے مروجہ تصورات سے بنیادی طور پر مختلف ہونے کے سبب ایک الگ تشخص کا حامل ہے۔بلکہ اسلام کا درس یہ ہے کہ بچوں کو عمر کے مختلف حصوں میں مختلف تربیت دی جائے، جس کا ایک حصہ جنسی تعلیم یا جنسی معلومات بھی ہےچناچہ جب بچہ 7 سے 10 سال کے درمیانی عمر کو پہنچے تو یہ وقت بچے کو نماز، وضو، نواقض وضواور طہارت کے احکام وغیرہ سکھلانے اور ان کا بستر الگ کردینے کا ہوتا ہے، تاکہ بدن مس ہونے کی بنا پر جنسی ہیجان نہ پنپنے پائے، نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا:مروا أولادکم باالصلاۃ وھم أبناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم أبناء عشر سنین وفرقوا بینھم فی المضاجع ۔ترجمہ:جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی نماز نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو۔(ابو داؤد حدیث نمبر 495)
نیز یہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں آداب استئذان (دوسروں کے گھروں میں جانے کیلئے اجازت طلب کرنا )سکھلانے کا حکم ہے، فرمان الہی ہے:یاأیھا الذین آمنوا لیستأذنکم الذین ملکت أیمانکم والذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرات۔ ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو چاہیے کہ تم سے اِذن لیں تمہارے ہاتھ کے مال غلام اور وہ جو تم میں ابھی جوانی کو نہ پہنچے تین وقت۔ (النور:58)
پھر جب بچہ 10 سال سے بڑا ہوجائے تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس کے جسم میں مختلف جنسی تبدیلیاں ہوتی اس دوران والدین لڑکیوں کے لئے ماں جب کہ لڑکوں کے لئے والد اسی طرح اساتذہ وغیرہ کی ذمہ داری عائد ہوتی کہ انہیں اس بارے میں وہ بچوں کو احتلام، حیض ، استحاضہ، پاکی ناپاکی سے متعلق آگاہ کریں ۔بالخصوص لڑکی کو پردے کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کریں اجنبی اور نامحرم افراداگرچہ قریبی رشتہ دارہو سے بے ضرورت گفتگو یا بے تکلفی سےسختی سے اجتناب کی تعلیم دیں۔جب کہ لڑکوں کو حیا کی تلقین ، نظروں اور شرم گاہ کی حفاظت سے متعلق تعلیمات سے آراستہ کریں اور یہ کہ لذات جنسیہ کو مکمل کرنے لئے اسلام کا بیان کردہ عمل نکاح کے علاوہ ہر طریقہ ناجائز و حرام اور سخت عذاب نار کا موجب ہے لہذا نکاح ہونے تک خود کو ہر جنسی عمل سے حفوظ رکھیں تا ہم والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کے جوان ہوتے ہی شادی کردیں تاکہ ہر قسم کے فتنہ کا سد باب ہوسکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے جس کے پاس ضروریاتِ نکاح کی استطاعت ہو وہ شادی کرے، کیونکہ یہ نظروں کوجھکا دیتی ہے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرتی ہے’’یا معشرالشباب! من استطاع منکم البائۃ فلیتزوج فانہ اغض البصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ رجاء‘‘(بخاری:5030، مسلم:1425)
اگر اسکے لئے بنیادی اسلامی تعلیمات پر مبنی کورسز کروانے پڑیں تو ضرور اہتمام کرے۔عمر کے اس حصے میں والدین خصوصاً بچوں کی نگہداشت پرپوری توجہ دیں اور جنسی میلان اور اسے بھڑکانے والے تمام جدید آلات، انٹرنیٹ، موبائل وغیرہ کے استعمال اوربالخصوص غلط استعمال پر نگاہ رکھیں۔ ۔
اللہ کریم کا ارشاد ہے:قل للمؤمنین یغضون من أبصارھم ویحفظوا فراجھم ذلک ازکی لھم، ان اللہ خبیر بما یصنعون۔ ترجمہ کنزالایمان: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیںاور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ اُن کے لیے بہت ستھرا ہے بےشک اللہ کو اُن کے کاموں کی خبر ہے۔ (النور : 30)
عورتوں کے لئے ارشاد فرمایا: قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ترجمہ کنزالایمان: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں (ف۵۶) اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (النور : 31)
خلاصہ یہ ہے کہ عمر کا یہ حصہ انتہائی حساس ہے اس عمر میں بچوں میں ایک خاص عمر میں جنسی میلان کا پایاجانا اور اس بارے میں تجسس ہونا ایک فطری عمل ہے، اسے نہ تو دبانے اور مسخ کرنے کی ضرورت ہے اور نا ہی ابھارنے اور اکسانے کی، بلکہ ان کی عمر کی رعایت کرتے ہوئے علمی ودینی تربیت کی طرف توجہ مرکوز کرنا چاہئے، اہل خانہ ، اسکول اور معاشرہ کی ذمہ داری ہے کہ مناسب رویہ اختیار کریں،اور انہیں یہ بتلائیں کہ دوسروں کے اعضاء کو دیکھنا یا انہیں بد نیتی یا بد نگاہی سے دیکھنا عنداللہ مبغوض عمل ہے، اسے نہ صرف جسمانی وروحانی نقصان ہے بلکہ نفس کے مردہ ہوجانے اور اللہ کے ناراض ہوجانے کا سبب بھی ہےانھیں جس جنس میں پیدا کیا ہے اس پر اللہ کا شکر کریں اور بلوغ کے قریب، جب جنسی اعضا کا زیادہ احساس ہوتا ہے، ذمہ داری اور ضبطِ نفس کے ساتھ پیش آئیں۔ عصمت و عفت کی تعلیم اور شرم و حیا کا تصور دراصل جنسی تعلیم ہی کے اجزا ہیں۔ اس کے برخلاف جنسی اعضا کی تصاویر بنا کر پانچویں اور چھٹی جماعت کے بچوں کو تولیدی عمل سے آگاہ کرنا انھیں پریشان خیالی اور بے راہ روی کی طرف لے جانے کا ایک بہت ’کامیاب‘ طریقہ ہے جس سے لازمی طور پر بچنا ہوگا۔ ماہرین تعلیم اور ماہرین نفسیات کو مل کر ان مسائل پر مناسب لوازمہ تیار کرنا ہوگا۔ مسئلے کا اصل حل تعلیمی حکمت عملی ہے۔ جب تک ہم اپنے نصاب کے اندر خاندان کی اہمیت، خاندان کے حقوق اور فرائض کو شامل نہیں کریں گے، اس وقت تک یہ سمجھنا کہ اگر بچوں کو یہ بات سمجھا دی جائے کہ خاندانی منصوبہ بندی کیا ہوتی ہے، جنسی امراض کیا ہوتے ہیں اور ان سے کس طرح سے بچا جائے، اس سے ایک باعفت اور باعصمت معاشرہ وجود میں آجائے گا تو یہ سراسر ایک واہمہ ہے۔ یہ صداقت سے خالی مفروضہ ہے! اس لیے ہمیں اپنے فکری زاویے کو تبدیل کرنا ہوگا ،مسئلے کو اصولی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ہمیں خاندان کی اہمیت کو اپنے نصاب میں شامل کرنا ہوگا۔ قرآن و حدیث میں جہاں کہیں بھی جنس سے متعلق بات کی گئی ہے اس کا انداز تعلیمی اور اسلوب اخلاقی ہے۔ اسلامی فقہ طہارت، بلوغ اور اس سے وابستہ مسائل کا ذکر کرتا ہے اور ہر موقع پر حلال اور اخلاقی طریقوں پر زور دیتا ہے اور لذت کے حرام طریقوں کو فحش سے تعبیر کرتا ہے۔ شوہر اور بیوی کا تعلق ہو یا ایک نوجوان کا شادی سے قبل صالحیت کے ساتھ زندگی گزارنا، اسلام زندگی کے ہر دور میں اخلاقی ضابطے کے ذریعے اس کی خواہشات کو تعمیری انداز میں ترقی کے موقع فراہم کرتا ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 شوال المکرم 1446ھ/ 23 اپریل2025 ء