deep fake videos banana kaisa
سوال
ڈیپ فیک (Deepfake) ویڈیوز بنانا کیسا؟
سائل:عبدالرحیم :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ڈیپ فیک ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے کسی فرد کے چہرے یا آواز کو کسی اور شخص پر اس مہارت سے منتقل کیا جا سکتا ہے کہ دیکھنے یا سننے والے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ویڈیو یا آڈیو واقعی اسی اصل شخص کی ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی مخصوص فرد کی ڈیپ فیک ویڈیو بنانا چاہے، تو وہ اس فرد کی مختلف تصاویر اور ویڈیوز کو ایک فولڈر میں جمع کرے گا۔ پھر وہ ڈیپ فیک ویڈیو بنانے والا سافٹ ویئر استعمال کرے گا، جو اس شخص کے چہرے کی ساخت، تاثرات، آنکھوں کی حرکت، ہونٹوں کی جنبش، اور چہرے کی حرکات کو مکمل طور پر سیکھ لیتا ہے۔اس کے بعد جب وہ چہرہ کسی دوسرے انسان پر لگایا جاتا ہے تو سافٹ ویئر نہ صرف اس اجنبی فرد کا چہرہ دوسرے پر فٹ کرتا ہے، بلکہ اس کی حرکات و سکنات، تاثرات اور انداز بھی بالکل اصل جیسے ظاہر کرتا ہے۔ نتیجتاً دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ یہ ویڈیو یا آڈیو واقعی اسی اجنبی شخص کی ہے، حالانکہ وہ ویڈیو سراسر مصنوعی اور دھوکہ دہی پر مبنی ہوتی ہے۔ لہذا واضح طور پر معلوم ہوا کہ ڈیپ فیک ویڈیوز بنانا شرعی اعتبار سے ناجائز و حرام ہے،کیونکہ اس میں دھوکہ دہی، فریب، تحقیر، بہتان، جھوٹ، غیبت اورچغلی جیسے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب یقینی طور پر لازم آئے گا اور بے شک کبیرہ گناہ کا ارتکاب حرام ، موجبِ عذابِ نار ہے۔
تفصیل :
1: دھوکہ اور فریب: اسلام میں ہر طرح کا دھوکہ، چاہے وہ زبان سے ہو یا عمل سے، حرام قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "من غش فليس منا۔ ترجمہ:جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ (صحیح مسلم، حدیث: 102)۔
لہذا ڈیپ فیک ویڈیوز یا آڈیوز اگر کسی فرد کو دھوکہ دینے، غلط تاثر دینے یا بدنام کرنے کے لیے بنائی جائیں تو یہ صریحاً حرام عمل ہے، کیونکہ اس میں جھوٹ، فریب اور نفاق جیسے کبیرہ گناہ موجود ہیں۔
2: تحقیر، بہتان اور جھوٹ:اگر ڈیپ فیک ویڈیو کے ذریعے کسی شخص پر ایسا عمل تھوپ دیا جائے جو اس نے کیا ہی نہ ہو،مثلاً کسی جرم کا اقرار، یا ایسی بات جو اس نے نہ کہی ہو اسکا اقرار تو یہ بہتان اور جھوٹ اور ایذاء المسلمین ہے، جو قرآن کے نزدیک کھلا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا﴾۔ترجمہ: جو لوگ مؤمن مردوں اور عورتوں کو بلاوجہ ایذا دیتے ہیں، تو وہ بہتان اور کھلا گناہ اٹھاتے ہیں۔" لہٰذا جھوٹی اور گمراہ کن ویڈیوز بنانا یا پھیلانا شریعت کی نظر میں کبیرہ گناہ ہے۔(سورۃ الاحزاب: 58)
یونہی ڈیپ فیک ویڈیوز اگر کسی کی برائی کو ظاہر کرنے یا اسے لوگوں کے سامنے رسوا کرنے کے لیے یا فساد پیدا کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں، تو یہ واضح طور پر تحقیرِ مسلم اورفساد فی الارض زمرے میں آتا ہے، حالانکہ شریعت کی نگاہ میں ایک مسلم کی حرمت و عزت کعبہ سے بھی بڑھ کر ہے، چناچہ امام ابن ماجہ سے مروی ہے:عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وآله وسلم يَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ، وَيَقُولُ: مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا۔ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔( ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932)حتٰی کہ اگر ویڈیو سچی بھی ہو مگر اس کا مقصد کسی کی بدنامی ہو تو وہ بھی سخت گناہ ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:02 محرم الحرام 1447ھ/ 28 جون2025 ء