مسئلہ وراثت تین بیٹے چھ بیٹیاں

    masla-e-wirasat teen bete chhe betiyan

    تاریخ: 4 جولائی، 2026
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 1565

    سوال

    ایک شخص کا انتقال ہوگیا مرحوم کی دو بیویاں تھی ایک کا انتقال زندگی میں ہی ہوگیا اس سے تین بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں ، جبکہ دوسری بیوی حیات ہے اس سے کوئی اولاد نہیں ہے۔ انکی میراث کیسے تقسیم ہوگی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: غلام قادر :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 96حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے ہر بیٹے کو 2 جبکہ ہر بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔

    وراثت کی مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کو مبلغ یعنی 96 پرتقسیم کردیں جو جواب آئے اسکومحفوظ کرلیں بعد ازاں اس کو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: شوال المکرم 1446ھ/ 21 اپریل2025 ء