gp fund par nafa lene ka hukm
سوال
ہر ماہ میری تنخواہ سے گورنمنٹ گی پی فنڈ کی کٹوتی کرتی ہے یہ رقم گورنمنٹ کے پاس جمع ہوتی ہے جس سے وہ کاروبار کرتے ہیں کونسا کاروبار کرتے ہیں اسکا مجھے علم نہیں بہرحال میرے اکاؤنٹ سے جتنے بھی پیسے کٹتے ہیں گورنمنٹ سالانہ اس پر نفع دیتی ہے جس کی شرح ہر سال مختلف ہوتی ہے میرا سوال یہ ہے کہ یہ منافع جائز ہے یا نہیں؟
سائل:شاکر شاہین : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کوئی بھی ادارہ یا حکومت اپنے ملازمین کے لئے جوپراویڈنٹ فنڈقائم کرتی ہے جس میں ہر ماہ ملازم کی تنخواہ سے مخصوص رقم کاٹی گئی رقم کے ساتھ اتنی ہی رقم حکومت یا کوئی بھی ادارہ اپنی طرف سے شامل کرتا ہے، توان فنڈزسے ملنے والی وہ رقم جو ملازمین کی تنخواہ سے کٹتی تھی اس رقم کو مطلقا ملازمین کولیناجائزہے کہ وہ اپنی ہی تنخواہ کا حصہ ہے جو تاجیلا(تاخیر سے) ملا ہے۔ اور باقی اتنی ہی رقم حکومت یا کمپنی کی طرف سے جو ملازمین کے کٹوتی کی رقم کے ساتھ دی جاتی ہے یا اس رقم کو کسی سودی ادارے میں انویسٹمنٹ کیا گیا اور اس سے جو نفع ملے گا ،تو اس کی دو صورتیں بنیں گی۔
1: اگر وہ کٹوتی جبری نہ ہو اختیاری ہو یعنی ملازم کے اختیار و رضامندی سے اس تنخواہ سے ماہانہ رقم کٹوتی کی جاتی ہے، تو جب ریٹائرمنٹ کے وقت اس کی وہ رقم واپس کی جائے ،تو اس کے لیے اس میں سے اسی قدر لینا جائز ہوگا جتنی مقدار اس کی تنخواہ سے کٹوتی کی گئی ہو باقی اس پر ملنے والی اضافی رقم لینا جائز نہیں کہ اس رقم کی حیثت قرض کی ہے اور جو قرض ساتھ نفع کو بھی لائے وہ سود ہے بلکہ اس طرح کا سودی معاملہ کرنا ہی ناجائز ہے چنانچہ اگر کسی نے ایسا معاملہ کرلیا اور رقم منافع کے ساتھ مل گئی ،تو اس صورت میں اپنی تنخواہ سے کاٹی گئی رقم لینا جائز ہے اور کمپنی کی طرف سے ملنے والی رقم اور مزید اس کے اوپر ملنے والا نفع بھی ناجائز و سود ہےلہذااس اضافی رقم کا حکم یہ ہے کہ جس سے لی ہے اس ادارے یا کمپنی کو واپس کر دی جائے اگر وہ نہ ملے یا نہ لے تو اپنے استعمال میں نہ لائی جائے بلکہ بلانیت ثواب مستحق زکوٰۃ شخص پر تصدق لازم ہے ۔
ہاں اگر کمپنی سے عقدِ تجارت یا مضاربت کا اس طرح معاہدہ ہو کہ کمپنی ملازم کی رقم کو کسی غیر سودی ادارے میں انویسٹمنٹ کرے گی اور عقدِ اجارہ و مضاربت کے تمام شرائط کے ساتھ معاہدہ ہو،تو پھر اصل رقم کے اوپر ملنے والا نفع (Profit) )بھی لینا درست ہوگالیکن یہ صورت نادر ہے کہ ایسا ہوتا نہیں۔
2: اگر وہ کٹوتی جبری ہو اور ملازم کو عدم شمولیت کا اختیار نہ ہو اور تنخواہ اس کے ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی اس میں سے یہ کٹوتی کی جاتی ہو،تو پھر ایسی صورت میں ملازم کو پراویڈنٹ کے نام سے ریٹائرمنٹ یا ملازمت چھوڑنے کے وقت جو رقم دی جاتی ہو،تو پھر اپنی تنخواہ سے کٹوتی کی جانے والی رقم کے ساتھ کمپنی کی طرف سے دی جانے والی رقم بھی لینا جائز ہوگی کہ یہ رقم بطورتحفہ ہوتی ہے،کیونکہ ان اداروں کا مقصد ان فنڈز کے ذریعے اپنے ملازمین کو سہولت فراہم کرنا ہے جوکہ درست ہے۔جو ملازم کے لئے کمپنی کی طرف سے "ہبہ"Gift))ہے۔ اور ان دونوں قسم کی رقم پر ملنے والا منافع (Profit))لینا بھی جائز ہوگا کہ یہ سود نہیں اس لیے کہ وہ رقم اس کے قبضے میں نہیں آئی اور سود وہ ہے جو قرض نفع کو لائے یہاں اس رقم کی حیثیت قرض کی نہیں لہذا تمام رقم منافع کے ساتھ لینا جائز ہوگی۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: ربیع الثانی 1446ھ/ 26 اکتوبر 2024 ء