سوال
ہمارا بڑے بھائی طارق انصاری کا انتقال دو سال قبل ہوا، اس وقت انکی ایک بیوی تھی جبکہ اولاد کوئی نہیں ہے۔ ہم انکی صرف تین بہنیں ہیں ، وراثت میں ایک فلیٹ ہےجو مکمل ان کا ہے اور اسکے علاوہ ایک پلاٹ بھی ہے جوکہ انہوں نے اپنے سالے وکیل انصاری کے ساتھ مل کر لیا تھا ، دونوں کا آدھا آدھا فلیٹ ہے۔اسکے علاوہ دو بینک اکاؤنٹ ہیں جس میں کچھ رقم موجود ہے۔ اب وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی۔
نوٹ: مرحوم کے ورثاء میں تین چچا زاد بھی موجود ہیں۔
سائل:سیما اعجاز:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت (فلیٹ،بینک بیلنس، اور نصف پلاٹ)کو 36حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے مرحوم کی زوجہ کو 3 حصے ، ہر بہن کو الگ الگ8 حصے ملیں گے۔جبکہ ہر چچا زاد کو الگ الگ 1،1 حصہ ملے گا۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے :قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(النساء : آیت نمبر 11)
لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی:فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔
چچازاد کے بارے میں سراجی میں ہے :اما العصبہ بنفسہ وہم اربعۃ اصناف : جزء جد المیت،ای الاعمام ،ثم بنوھم وان سفلوا۔(ملخصا)ترجمہ:عصبہ بنفسہ چار اقسام پر ہیں ان میں سے چوتھا میت کے داداکا جزء یعنی چچا سب سے زیادہ حقدار ہے اسکے بعد اسکے بیٹے ہیں پھر اگر بیٹے نہ ہوں تو انکے بیٹے (نیچے تک سلسلہ)۔(السراجی فی المیراث باب العصبات ص 54 )
فائدہ :رقم تقسیم کرنے کا حسابی طریقہ :جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کی تمام رقم کو فتوی میں بیان کردہ کل حصو ں 36پر تقسیم کریں جو جواب آئےاس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھراس محفو ظ جواب کو ہر وارث کے حصہ میں ضرب کریں جو جواب آ ئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہو گی جو بطور وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:30ربیع الثانی 1442 ھ/16 دسمبر 2020 ء