Prop Firm Account Ka Shari Hukm
سوال
پروپ فرم (Prop Firm)کے اکاؤنٹس کا استعمال حلال ہے یا نہیں؟ اس وقت سب سے مشہور پروپ فرم MockCapitalہے۔ ہمیں (دئے گئے اسکرین شاٹ کے مطابق) ان کے 1، 2 یا 3 مراحل پر مشتمل چیلنجز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور اس کی متعلقہ فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ اگر ہم چیلنج مکمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہماری ادا کردہ فیس واپس کر دی جاتی ہے۔
اس پلیٹ فارم پر ہم فاریکس ، انڈیکس (اسٹاک انڈیکس)، اشیاء اور کرپٹو میں ٹریڈنگ کر سکتے ہیں۔ اگر ہم چیلنج پاس کر لیں تو ہمیں ٹریڈنگ کیلئے مزید کوئی رقم نہیں دینی پڑتی بلکہ فرم خود ٹریڈنگ کیلئے فنڈز فراہم کرتی ہے۔ سرمایہ فناننشل کے ڈائریکٹر انویسٹمنٹ (سید فراز) کے مطابق، یہ فرم ہماری ٹریڈنگ کے سگنلز کو اپنی ذاتی ٹریڈنگ کیلئے استعمال کرتی ہے۔ (یہ سوال انگریزی زبان سے ترجمہ کیا گیا ہے)
فرم کی ویب سائٹ کا لنک : https://mockapital.com/funding-programs/#table
نوٹ: (فراہم کردہ اسکرین شاٹ کے مطابق): یہ سوال MockCapital کے MockRace (2-step) فنڈنگ پروگرام سے متعلق ہے جو کہ 10,000 ڈالر کے اکاؤنٹ کیلئے ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ 100 ڈالر شرکت کی فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ ٹریڈر کو دو امتحانی مراحل (Phase 1 اور Phase 2) پاس کرنے ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک میں 8 فیصد ($800) منافع کا ہدف حاصل کرنا لازمی ہے، جبکہ روزانہ 5 فیصد ($500) اور مجموعی طور پر 10 فیصد ($1,000) سے زیادہ نقصان (Drawdown)کی اجازت نہیں ہوتی۔ کامیابی کی صورت میں ٹریڈر کو فنڈڈ اکاؤنٹ دیا جاتا ہے جس میں منافع کا 80 فیصد حصہ ٹریڈر کو ملتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم 1:50 تک لیوریج فراہم کرتا ہے اور اس میں تجارت بنیادی طور پر CFD(قیمتوں کے فرق کے معاہدوں) کے ذریعے کی جاتی ہے۔
سائل: محبوب احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ کمپنی (MockCapital)کا پروپ ٹریڈنگ (Prop Trading)ماڈل شرعی اصولوں کی روشنی میں ناجائز وحرام ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ چیلنج فیس ہے جو قمار (جوئے) کی ایک صورت ہے، نیز اس میں ہونے والی تجارت (CFDs) بیع کے بنیادی تقاضوں مثلاً ملکیت اور قبضہ سے خالی ہے، جس کی وجہ سے یہ پورا معاملہ غرر، بیعِ معدوم اور سود کے زمرے میں آتا ہے۔
تفصیلِ مسئلہ:
(۱) قمار (جوا): پروپ فرم کی جانب سے لی جانے والی فیس ($100) درحقیقت ایک مالی داؤ ہے، جہاں نفع یا نقصان ایک موہوم نتیجے پر معلق ہے۔ اگر ٹریڈر امتحان میں ناکام ہو جائے تو فیس ضبط ہو جاتی ہے اور کامیاب ہو تو واپس ملتی ہے، جو کہ شرعاً قمار (جوا) کی ایک صورت ہے، کیونکہ اس میں فیس کے ضیاع کا خطرہ پایا جاتا ہے ۔
(۲) غرر (دھوکہ و غیر یقینی صورتحال): اس میں انجامِ کار کا علم نہیں کہ ٹریڈر ہدف پورا کر پائے گا یا نہیں، اور اسے فنڈِڈ اکاؤنٹ ملے گا یا فیس ڈوب جائے گی۔ چونکہ غرر ایسا خطرہ ہے جس میں وجود اور عدم برابر ہوں اور یہاں فنڈِڈ اکاؤنٹ کا ملنا محض ایک شک ہے، اس لیے یہ بیع الغرر ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
(۳) بیع قبل القبض اور بیع المعدوم: اس پلیٹ فارم پر تجارت CFDs (قیمتوں کے فرق کے معاہدوں) کے ذریعے ہوتی ہے۔ شرعی طور پر بیع کیلئے مبیع کا بائع کی ملکیت میں ہونا اور منقولی مبیع (جو نقل و حمل کے قابل ہو جیسے کرنسی) پر قبضہ ہونا ضروری ہے۔ یہاں ٹریڈر کے پاس نہ تو کرنسی کی ملکیت ہوتی ہے نہ قبضہ، بلکہ وہ محض قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر سٹّہ کھیلتا ہے۔ جبکہ منقولی چیز کی قبضہ سے پہلے بیع بالاجماع ناجائز ہے۔
(۴) سود کا تحقق: جب فرم فیس کے بدلے میں ٹریڈر کو فنڈز (Leverage)فراہم کرتی ہے، تو یہ ایک ایسی صورت بن جاتی ہے جہاں قرض فراہم کرنے والا (فرم) مقروض (ٹریڈر) سے فیس کی صورت میں مالی فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق ہر وہ قرض جو نفع کھینچے وہ سود ہے۔ یہاں فرم فیس لے کر جو کریڈٹ لائن فراہم کر رہی ہے، وہ مشروط نفع ہونے کی وجہ سے سود کے زمرے میں آتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ کاروبار چونکہ قرآنی ممانعت "لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ" (آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ) کے تحت آتا ہے اور اس میں قمار، غرر، اور سود جیسے قبیح عوامل یکجا ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔
دلائل و جزئیات:
جوئے کے بارے میں اللہ عزوجل ارشادفرماتاہے : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ترجمہ:اے ایمان والو!شراب اور جُوا اور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں ، شیطانی کام، تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔(المائدۃ:90)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:" الْقِمَارَ هُوَ الَّذِی یسْتَوِی فِیهِ الْجَانِبَانِ فِی احْتِمَالِ الْغَرَامَةِ".ترجمہ: قمار وہ معاملہ ہے جس میں دونوں فریقین کو نقصان پہنچنے کا احتمال برابر ہو۔ (رد المحتار،کتاب الحظر والباحۃ، 6/ 403،دار الفکر)
علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں:"القمارمشتق من القمر الذی یزداد وینقص سمی القمار قماراً لا ن کل واحد من المقامرین ممن یجوز ان یذهب مالہ الی صاحبہ ویستفیدمال صاحبہ فیزداد مال کل واحد منهما مرۃ وینتقص اخری فاذا کان المال مشروطاً من الجانبین کان قماراً والقمار حرام ولان فیہ تعلیق تملیک المال بالخطر وانہ لا یجوز".ترجمہ:قمارقمر سےمشتق(نکلا)ہے ۔ قمروہ ہوتاہے، جوبڑھتااورگھٹتارہتاہے۔ اسے قمار اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مقامرین (جواکھیلنےوالوں)میں سےہرایک کوشش کرتاہےکہ اپنے صاحب کامال لے جائے اوردوسرے کے مال سے فائدہ حاصل کرے ، پس ان میں سے ہرایک کاکبھی مال بڑھ جاتاہے اورکبھی کم ہوجاتاہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو، تواسے قمارکہاجاتاہے اورقمارحرام ہے اوراس لئے کہ اس میں مال کوحاصل کرنے میں خطرے پرمعلق کرناپایاجاتاہے اوریہ ناجائزہے۔(المحیط البرهانی فی الفقہ النعمانی ،5/323،دارالکتب العلمیۃ)
غرر اس کو کہا جاتا ہے جس میں کسی کام کے انجام کا علم نہ ہوسکے۔علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں: "الغرر هو الخطر الذي استوى فيه طرف الوجود والعدم بمنزلة الشك".ترجمہ:غرر ایسے خطرہ پر پر مشتمل ہے جس میں وجود اور عدم دونوں طرف مساوی ہوں یعنی بیع کے ہونے نہ ہونے کا شک سا ہو۔ (بدائع الصنائع، کتاب البیوع،فصل في شرائط الصحة في البيوع ،5/163،دار الکتب العلمیۃ)
غرر کے متعلق بہت سی احادیث مروی ہیں،چنانچہ مسلم شریف میں ہے:"نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ".ترجمہ :رسول اللہ ﷺنے کنکری کی بیع ( کنکری پھینک کر چیز منتخب کرنے کی صورت زمانۂ جاہلیت میں رائج تھی ) اور دھوکے والی بیع سے منع فرمایا۔ (صحیح مسلم، باب بطلان بيع الحصاة، والبيع الذي فيه غرر،3/1153،رقم:1513دار احیاء التراث العربی)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’مسلمانوں کو دھوکہ دے کر کمائی کرنا حرام ہے۔قال الله تعالى: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ۔ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ(البقرة: 188)۔اور ایسی کمائی کی رقم کھانا بھی حرام ہے۔حدیث شریف میں ہے: وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ (أخرجه البخاري 1470)یعنی منہ میں خاک بھر لینا اس لقمہ سے بہتر ہے کہ خدائے تعالی نے اسے حرام فرمایا۔ (فتاوی فقیہ ملت، 2/190، شبیر برادرز لاہور)
آیت ِمذکور کے تحت امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك. ولا يدخل فيه الغبن في البيع مع معرفة البائع بحقيقة ما باع لأن الغبن كأنه هبة".ترجمہ:اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر مالک خوش نہیں ہے یا ایسی چیز جس کو شریعت نے حرام کیا ہے اگرچہ مالک خوشی سے دینے پر راضی بھی ہو جیسے زانیہ کی کمائی، کاہن کا نذانہ، شرابوں اور خنازیر کی قیمتیں وغیرہ داخل ہیں۔ اور بیع میں غبن داخل نہیں جبکہ بائع اس چیز کی حقیقت بتا دے جو اس نے بیچی کیونکہ اس صورت میں غبن (زیادتی) گویا ہبہ ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن،2/338،تحت سورۃ البقرۃ:188،دار الکتب المصریۃ)
دھوکادینے کی ممانعت کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:"ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ومن غشنا فلیس منا".ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور جس نے ہمیں دھوکادیا،وہ بھی ہم میں سے نہیں۔ (الصحیح لمسلم ،کتاب الایمان،باب من غشنافلیس منا،1/99،رقم الحدیث:101،دار احیاء التراث العربی)
اس حدیث پاک کے تحت علامہ عبدالرؤف المناوی رحمہ اللہ(المتوفی:1031ھ)فرماتے ہیں:"والغش ستر حال الشئ".ترجمہ:دھوکا سے مراد کسی شی کی اصل حالت کو چھپاناہے۔(فیض القدیر،6/185،المکتبۃ التجاریۃ الکبری)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’غدر و بدعہدی مطلقاً سب سے حرام ہے ۔مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یا مرتد ۔ہدایہ و فتح القدیر وغیرہما میں ہے:"لان مالھم غیر معصوم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحامالم یکن غدر".ترجمہ: کیونکہ ان کفار کا مال معصوم نہیں اسے مسلمان جس طریق سے بھی حاصل کرلے وہ مال مباح ہوگا مگرشرط یہ ہے کہ دھوکا نہ ہو۔(فتاوی رضویہ،14/140، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بیع قبل القبض سے متعلق مسلم شریف کی روایت ہے:"أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ» ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ".ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ جو شخص غلہ خریدے تو اسے آگے نہ بیچے جب تک اس پرقبضہ نہ کرلے۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں اس معاملے میں ہر چیز کوغلےکے درجہ میں شمار کرتا ہوں۔(صحیح مسلم،کتاب البیوع،3/1159،رقم:1525،دار إحیاء التراث العربی)
ایک دوسری حدیث میں ہے: "نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ".ترجمہ:صحابہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں چیزکوخریدنے کے بعدجب تک اسے وہاں سے اٹھانہ لیں (یعنی قبضہ نہ کرلیں)آگے بیچنے سے منع فرمایا۔(صحیح مسلم،کتاب البیوع،3/1161،رقم:1527،دار إحیاء التراث العربی)
سنن نسائی کی روایت ہے کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے پوچھا:"قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ، فَيَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ، ثُمَّ أَبْتَاعُهُ لَهُ مِنَ السُّوقِ، قَالَ: «لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ»".ترجمہ: میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میرے پاس ایک شخص آ کر ، اس چیز کو بیچنے کا کہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی، تو میں اس کو بیچ دیتا ہو ں، پھر میں اس کے لیے بازار سے خرید لیتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو چیز تیرے پاس نہیں اس کو نہ بیچ ۔(سنن النسائی،کتاب البیوع،بيع ما ليس عند البائع ،7/289،مكتبۃ المطبوعات الإسلاميۃ)
بغیر ملکیت کے چیز بیچنے کے بارےمیں علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عند البيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم» ، ولو باع المغصوب فضمنه المالك قيمته نفذ بيعه؛ لأن سبب الملك قد تقدم فتبين أنه باع ملك نفسه، وههنا تأخر سبب الملك فيكون بائعا ما ليس عنده فدخل تحت النهي، والمراد منه بيع ما ليس عنده ملكا؛ لأن قصة الحديث تدل عليه فإنه روي أن «حكيم بن حزام كان يبيع الناس أشياء لا يملكها، ويأخذ الثمن منهم ثم يدخل السوق فيشتري، ويسلم إليهم فبلغ ذلك رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال لا تبع ما ليس عندك».ترجمہ:بیع منعقد ہونے کی شرط یہ ہے کہ چیز بیع کے وقت بائع کی ملکیت میں ہو،اگر اس کی ملکیت میں نہ ہو تو بیع منعقد نہیں ہوگی ،اگرچہ بعد میں کسی طریقے سے اس کا مالک ہو جائے ،سوائے سلم کے ، اوریہ اس چیز کو بیچنا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس چیز کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، جو انسان کے پاس نہ ہو اور سلم میں رخصت دی ہے ، بیچنا اس کو جو اس کے پاس نہیں سے ،مراد ملک ہے کیونکہ حدیث کا قصہ اسی پر دلالت کرتا ہے ، حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو وہ اشیا بیچ دیتے تھے جو ان کی ملک میں نہ ہوتیں اور ان سے ثمن لے لیتے پھر بازار جاتے اور وہ چیز خرید کر ان کے سپرد کر دیتے ، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کو اس معاملے کی جب خبر پہنچی، تو آپ نے فرمایا جو چیز تیرے پاس نہیں ہوتی اس کو نہ بیچ۔ (بدائع الصنائع،کتاب البیوع،فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، 5/146-147، دار الکتب العلمیۃ،بیروت)
علامہ ابو محمد محمود بن احمد بدر الدین العینی (المتوفی:855ھ) فرماتے ہیں:"بيع المنقول قبل القبض لا يجوز بالإجماع".ترجمہ:منقولی چیزکی قبضہ سے پہلے بیع بالاجماع ناجائز ہے۔(البنایۃ شرح الہدایۃ،کتاب البیوع،،باب الاقالۃ،8/299،دار الکتب العلمیۃ )
قرض پرمشروط نفع سود ہوتا ہے۔حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"کل قرض جر منفعة فھو ربا".ترجمہ:ہر وہ قرض، جو نفع کھینچے،تو وہ سود ہے ۔ (کنز العمال،16/238،رقم:15516،بیروت)
اورسود کی حرمت کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:"اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا".ترجمہ:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے،مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو، یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود۔(البقرۃ: 275) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 29 شوال المکرم 1447ھ/18 اپریل 2026ء