سوال
میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے ۔ میرے دوچھوٹے بچے ہیں انکے والد انکا کرچہ نہیں دے رہے جسکے لئے مجھے کورٹ جانا پڑتا ہے اور بچوں کی دیکھ بھال سامان وغیرہ بھی لانا پڑتا ہے ۔ کیا مجھے عدت کرنی ضروری ہے۔ شرعی حکم واضح فرمادیں۔ سائلہ: امبر: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
طلاق کے بعد عدت لازم و ضروری ہے کیونکہ عدت نکاح ختم ہونے کا سوگ ہے۔اور عدت کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ہے ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےاور اگر عورت حاملہ ہوتو تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔قال اللہ تعالٰی: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔ (البقرہ 228)
اور دوسری جگہ یوں ارشاد ہوا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4)
پھر عدت دو طرح کی ہے ۔ایک عدت وفات اور دوسری عدت طلاق ۔عدت طلاق میں عورت کا نان و نفقہ (خرچہ)مرد شوہر پر لازم ہوتا ہے،لہذا مطلقہ عورت نان و نفقہ کے لیے گھر سے باہر نہیں جاسکتی، لیکن اگر اسکا خرچہ دینے والا کوئی نہ ہو مثلا شوہر خرچہ دینے سے انکار کردےتو عورت کام کاج کے لیے گھر سے باہر جا سکتی ہے۔ جبکہ عدت وفات میں عورت کا نان و نفقہ کسی کے ذمے نہیں ہے بلکہ عورت اپنا انتظام خود کرے گی اس کے لیے اسے باہر جانے کی ضرورت ہو تو شریعت میں اسکی اجازت ہے ، کہ وہ دن میں اور رات کا کچھ حصہ گھر سے باہر رہ کے اپنے لیے نان و نفقہ کا انتظام کرے لیکن ضروری ہے کہ پوری رات یا رات کا اکثر حصہ گھر سے باہر نہ گزارے۔اور اگر وہ خود گھر میں رہ کر یا اسکا کوئی رشتہ دار اسکے نان و نفقہ کا انتظام کردے تویہ بھی مطلقہ کی مثل ہوجائے گی یعنی اب ا س عورت کا بھی گھر سے باہر جانا اسی طرح منع ہوگا جیساکہ مطلقہ کا گھر سے نکلنا منع ہے۔ کئی کتب فقہ میں اس بات کی صراحت موجود ہے ،چنانچہ تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے :(وَمُعْتَدَّةُ مَوْتٍ تَخْرُجُ فِي الْجَدِيدَيْنِ وَتَبِيتُ) أَكْثَرَ اللَّيْلِ (فِي مَنْزِلِهَا) لِأَنَّ نَفَقَتَهَا عَلَيْهَا فَتَحْتَاجُ لِلْخُرُوجِ، حَتَّى لَوْ كَانَ عِنْدَهَا كِفَايَتُهَا صَارَتْ كَالْمُطَلَّقَةِ فَلَا يَحِلُّ لَهَا الْخُرُوجُ فَتْحٌ. ترجمہ:اور معتدۃ الموت(شوہر کی وفات کی عدت گزارنے والی عورت)دن اور رات میں گھر سے باہر جاسکتی ہے لیکن رات کا اکثر حصہ اپنے گھر میں گزارے۔کیونکہ اسکا خرچہ (خود)اسی پر ہے،جس کے لیے وہ باہر نکلنے کی محتاج ہوگی۔ یہاں تک کہ اگر اسکے پاس بقدر کفایت(مال )موجود ہو تو یہ بھی مطلقہ(طلاق کی عدت گزارنے والی عورت) کی طرح ہے لہذا اب اس کے لیے بھی باہر جانا جائز نہ ہوگا ۔اسی طرح فتح القدیر میں ہے۔( تنویرالابصار مع الدرالمختارکتاب النکاح فصل فی الحداد جلد3ص 536 الشاملہ)
چناچہ محقق علی الاطلاق علامہ ابن ھمام اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں :وَالْحَاصِلُ أَنَّ مَدَارَ الْحِلِّ كَوْنُ خُرُوجِهَا بِسَبَبِ قِيَامِ شُغْلِ الْمَعِيشَةِ فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهِ فَمَتَى انْقَضَتْ حَاجَتُهَا لَا يَحِلُّ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ صَرْفُ الزَّمَانِ خَارِجَ بَيْتِهَاترجمہ:اور خلاصہ یہ ہے کہ عورت کے گھر سے باہر نکلنے کا دار و مدار گھر کے اخراجات چلانے پر ہے لہذا یہ اپنی مقدار کے ساتھ ہی جائز ہوگا سو جب حاجت ختم ہوجائے تو اسکے بعد گھر سے نکلنا جائز نہ ہوگا۔ (فتح القدیر ،کتاب النکاح باب العدۃ جلد 4ص 345الشاملہ )واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضاقادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 16 شوال المکرم 1441 ھ/08 جون 2020 ء