سوال
ایک شخص عبدالماجد کا ایک حادثہ میں انتقال ہوگیا اسکی دو بیٹیاں اور بیوی موجود ہے۔ عدت گزارتے ہی عبدالماجد کی زوجہ سارا سامان لے کر اپنی ماں کے گھر چلی گئی ۔اب اس عورت کی والدہ اور بھائی اسکا نکاح کہیں اور کرنا چاہ رہے ہیں لیکن عبدالماجد کے والد کا کہنا ہے کہ شادی کرو لیکن شرط یہ ہے کہ عبدالماجد کی دونوں بیٹیاں یا تو ہمارے ساتھ رہیں گی یا اپنی نانی کے گھر ۔ہم ان بچیوں کو دوسرے شوہر کی ساتھ نہیں رہنے دیں گے۔ اس صورتِ حال میں چند سوالات ہیں :
1:عبدالماجد کی بیوی کا دوسرا نکاح کرنا کیسا؟
2:اس وقت عبدالماجد کی بیٹیوں کو رکھنے کا حق کس کا ہے؟
3:مرحوم کے والد کا یہ مطالبہ کرنا کیسا ہے؟
4:اگر عورت کہیں اور نکاح کرے تو بچیوں کا اپنی ماں کے شوہر کے ساتھ رہنا کیسا ؟سائل:عمیر اسحاق:کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: شوہر کی وفات کی عدت گزارنے کے بعد عورت کو نکاح کااختیار ہے ،کہ جہاں چاہے نکاح کرے کسی کو بھی اس پر اعتراض کا حق نہیں کہ اسے نکاح سے روکےبالخصوص اس صورت میں کہ جب نکاح کروانے والا خود، عورت کا والد ہو کہ اب تو کفو کا بھی مسئلہ نہ رہا۔
بدائع الصنائع میں ہے: وَالنِّكَاحُ بَعْدَ الْمَوْتِ بَاقٍ إلَى وَقْتِ انْقِطَاعِ الْعِدَّةِ۔ترجمہ:موت کے بعد ،عدت ختم ہونے تک نکاح باقی رہتا ہے۔( بدائع الصنائع، جلد 1 ص 304)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: چار مہینے دس دن عدت بیٹھے ، عدت گزار کر جس سے چاہے نکاح کرے۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب النکاح، جلد11 ص 331)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: جبکہ وفات شوہر کی عدت گزرگئی تو اب عورت کو نکاح جائزہوگیا۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب النکاح، جلد11 ص 429)
2: اگر شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق یا وفات یا کسی اور وجہ سے تفریق ہو جائے تو بالاتفاق ماں کو حق حضانت یعنی پرورش کا حق حاصل ہوتا ہے۔ لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اور لڑکی کے نو سال کی ہونے تک پرورش کاحق ماں کاہے۔مذکورہ عمر پوری ہونے سے قبل اگر عورت کسی اجنبی شخص سے نکاح کرلے تو اسکا حق پرورش باطل ہوجاتا ہے اسکے بعد نانی کو حق حاصل ہے نانی نہ ہو تو نانی کی ماں وہ بھی نہ ہو تو پھر دادی کو یہ حق حاصل ہے کہ پرورش کرے ۔
اور اگر مذکورہ بچوں کی مذکورہ عمر پوری ہوگئی تو اسکے بعد اگر باپ زندہ ہو تو لڑکا اور لڑکی باپ کے پاس رہیں گے اگر باپ نہ ہو تو دادا کے پاس رہیں گے ۔
ابوداؤد میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ان امراۃ قالت: یارسول اللہ، ان ابنی ھذا کان بطنی لہ وعاء وثدیی لہ سقاء وحجری لہ حواء وان اباہ طلقنی واراد ینتزعہ منی فقال لہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انت احق بہ مالم تنکحی۔ترجمہ:ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کرنے لگی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ بیٹا، میرا شکم اس کا برتن بنا رہا، میرے سینے سے یہ سیراب ہوتا رہا اور میری گود اس کی پرورش گاہ رہی، اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی اور اب مجھ سے بیٹا بھی چھیننا چاہتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بیٹے کی زیادہ حقدار ہے جب تک تو آگے کہیں نکاح نہیں کرتی۔( ابوداؤد،حدیث نمبر 22ج1 ص 317)
تنویرالابصار مع الدر میں ہے: (تثبت للأم ولو بعد الفرقة، (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت (ثم أم الأب وإن علت).ترجمہ:پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے اگرچہ زوجین کی تفریق کے سبب ہو ،پھر اگر ماں مرجائے یا اپنا حق چھوڑ دے یا کسی اجنبی سے نکاح کرلے تو اسکے بعد نانی کو ،اسی طرح اوپر تک۔ پھر دادی اور اسکے اوپر تک۔(تنویرالابصار مع الدر، کتاب الحضانۃ ، جلد3 ص 563)
ہندیہ میں ہے:أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم، وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير.ترجمہ:نکاح کی صورت میں ، یا فرقت کے بعد بچہ کی پرورش کا سب سے زیادہ حق ماں کا ہے اور اگر ماں پرورش کی مستحق نہ بن رہی ہو بایں طور کہ پرورش کی اہل نہ ہو یا نامحرم سے نکاح کرلے یا مرجائے تو نانی ، اوپر تک اور اگر نانی نہ ہو تو دادی اوپر تک۔(الفتاوٰی الھندیہ، کتاب الطلاق، الباب السادس،جلد 1 ص 541)
مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: لڑکی نو برس کے بعد سے جب تک کو آری ہے باپ دادا بھائی وغیرہم کے یہاں رہے گی۔(بہارِ شریعت، جلد دوم ،حصہ ہشتم ص 256)
3:مرحوم کے والد کا مطالبہ جائز ہے جیساکہ اوپر گزرا کہ اگر ماں اجنبی سے شادی کرلے تو اسکا حقِ پرورش ساقط ہوجاتا ہے پھر اگر پرورش کی مدت باقی ہےبچیاں تو نانی کے ہاں رہیں۔ اور اگر عمر 9 سال سے بڑھ چکی تو ہر صورت میں داداکے پاس رہیں گی۔
4:اسکا جواب بھی ماقبل سے واضح ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضاقادری
تاريخ اجراء:14جمادی الثانی 1442 ھ/27 جنوری 2021 ء