دو طلاق رجعی کا شرعی حکم
    تاریخ: 26 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 895

    سوال

    میری بیوی چند دنوں سے میکے گئی ہوئی تھی 2018/9/13کو میں لینے گیاتو میں اسکو واپس گھر آنے کے لیئے راضی کر رہا تھا کہ اس کے بھائی نے مجھے برا بھلا کہتے ہوئے شور کر دیا پھر بھی میں اس کو سمجھا نے کی کوشش کر ہا تھا لیکن اس نے میری بالکل بھی نہیں سنی تو غصہ میں میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے "میں نے تمہیں طلاق دی ،طلاق ۔۔"بس اتنا کہہ چکا تھا کہ میری ماںوہاں موجود تھی اس نے میرا گریبان پکڑ کر پیچھے کھینچ دیا اس کے آگے میرے منہ سے کچھ نہیں نکلا۔اور اس پر میری ماں ،میری بیوی اور میری ساس بھی گواہ ہیں لیکن میرا بھائی جو اس وقت وہاں موجود تھا کہہ رہا ہے کہ میرے خیال میں تم نے تین دفعہ طلاق دی ہے جبکہ میں حلفاًیہ کہنے کے لیئے تیار ہو ں کہ میں نے دو ہی مرتبہ کہا تھا اور اس وقت میری بیوی حالت حیض میں تھی تو کیا حیض میں طلاق واقع ہو جا تی ہے ؟۔

    آپ شرعاًہماری رہنمائی کریں کہ کتنی طلاقیں ہوئی ہیں ؟

    سائل:محمد ا طہر


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر آپ اپنے اس بیان میں سچے ہیں تو آپ کی بیوی کو دو طلاق رجعی واقع ہو گئی ہیں اور آپ عدت کے دوران رجوع کر سکتے ہیں اور رجوع کے لیئے یا تو زبانی کہہ دیں کہ میں رجوع کرتا ہوں یا پھر بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کر لیں ؛لیکن اس کے بعد آپ کو صرف ایک طلاق کا حق ہوگا اس کے بعد آپ کی بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ ہمیشہ کے لیئے آپ پر حرام ہو جا ئے گی سوائے حلالہ شرعی کے ۔اور حیض میں بھی طلاق واقع ہو جا تی ہے اگر چہ اس طرح طلاق دینا طلاق بدعی ہے ۔

    اللہ تعالی جل شانہ کا فرمان ہے : الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ٘فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ٘ (البقرۃ:229،230)ترجمہ: یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑدینا ہے اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں ٘پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہےپھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے ٘۔

    بدائع الصنائع (باب الرجعۃ ،ج:۳،ص:۱۸۱،طبع:دار الکتب العلمیۃ )میں اللہ تعالی کا فرمان "فَإِمْسَاكٌ " کی تفسیر یوں ہےوَالْإِمْسَاكُ بِالْمَعْرُوفِ هُوَ الرَّجْعَةُ.ترجمہ:اور امساک سے مراد دستور کے مطابق رجوع کر نا ہے ۔

    اوربدائع الصنائع (فصل فی حکم طلاق البدعۃ ،ج:۳،ص:۹۶،طبع:دار الکتب العلمیۃ )میں ہے"وَالطَّلَاقُ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ بِدْعَةٌ۔۔۔۔۔۔ وَأَمَّا حُكْمُ طَلَاقِ الْبِدْعَةِ فَهُوَ أَنَّهُ وَاقِعٌ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ"ترجمہ:حیض کی حالت میں طلاق دینا بدعت ہے ۔۔۔اورطلاق بدعت کا حکم یہ ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک طلاق بدعت واقع ہو جا تی ہے ۔

    اوراحناف کے نزدیک مدخولہ عورت کی عدت طلاق تین حیض ہیں اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے

    اللہ تعالی جل شانہ کا فرمان ہے :وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ [البقرة: 228]

    ترجمہ: اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں

    وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ [الطلاق: 4] ترجمہ: اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    تاریخ اجراء:3محرم الحرام 1440 ھ/14ستمبر 2018 ء