طلاق بالکتابت كا شرعی حکم
    تاریخ: 26 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 893

    سوال

    میری شادی کو اٹھارہ سال ہو گئے ہیں اور میرے چھ بچے ہیں ،میرے شوہر نے ایک سال قبل دوسری شادی کر لی ہے اور مجھے اس کا علم شادی کے ڈھائی مہینے بعد ہوا تو میں نے اپنے شوہر سے دوسری بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا تو اس نے ایک سادہ پیپر پر یہ تحریر لکھی "میں نے اپنی دوسری بیوی کو طلاق دی،دی ،دی "اوراس پراپنے دستخط کر دیئے ،پھر اس کے بعد میں نے کورٹ سے پیپرز بنوائے جس پر میرے شوہر کے دستخط موجود ہیں(جس کی کاپی منسلک ہے )دستخط کر نے بعد میرے شوہر نے اپنی زبان سے میرے سامنے بھی یہ الفاظ ادا کیئے "میں نے اپنی دوسری بیوی مون علی کو طلاق دی ،طلاق دی،طلاق دی"پھر اس کے بعد ہم نے 25000روپے حق مہر کےساتھ اس کے گھر پہنچا دیئے ۔

    ایک سال بعد مجھے معلوم ہواکہ میرے شوہر کے اپنی دوسری بیوی کے ساتھ تعلقات اب بھی بر قرار ہیں ،جب میں نے اپنے شوہر سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میری دوسری بیوی کا بچہ ہونے والا تھا تو اس طرح طلاق نہیں ہو تی ،اور میرے شوہر یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے جو دستخط کیئے تھے وہ غلط ہیں اور میرے دل ودماغ میں نہیں تھا کہ میں طلاق دے رہا ہوں اور لڑکی کا ایڈریس بھی غلط بتایا تھا اور شاید کاغذات بھی غلط پتے پر پہنچائے گئے تھے ۔

    آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ اس طریقے سے طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی ؟اور اگر طلاق ہوگئی ہے اور میراشوہر اپنی دوسری بیوی سے تعلقات بر قرار رکھتاہے تو میرا اس کے ساتھ رہنا صحیح ہے یا نہیں ۔

    سائلہ :شازیہ کامران


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ واقعتا ایسا ہی ہے جس طرح آپ نے بیان کیا تو آپ کے شوہر کی دوسری بیوی مون علی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور وہ اپنے شوہر کے لیئے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے ،جس کے بعد ان دونوں کا میاں ،بیوی والے تعلقات قائم رکھنا حرام ہے لہذا آپ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی دوسری بیوی سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرے ،اور جہاں تک آپ کے شوہر کا یہ کہنا ہے کہ حمل میں طلاق نہیں ہو تی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے کیوں کہ طلاق جس حال میں دی جائےواقع ہو جاتی ہے تو دوران حمل دی جانے والی طلاق بھی واقع ہو جا ئے گی اور اسکی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش تک)ہے۔اور" غلط دستخط کر دینے یا غلط ایڈریس بتا نے یا یہ کہنا کہ میرے دل و دماغ میں نہیں تھا "اس طرح کے باتوں سے فرق نہیں پڑتا اورطلاق کو ئی کھیل نہیں ہے کہ شوہر کی مر ضی سے واقع ہو جا ئے بلکہ یہ شریعت کا حق ہے لہذا مون علی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ۔

    اور جہاں تک آپ کا ان کے ساتھ رہنے کی بات ہے تو اس کا تعلق تین طلاقوں سے نہیں ہے البتہ آپ کے شوہر نے اگر غلط فہمی کی بنیاد پر اپنی دوسری بیوی کے ساتھ تعلقات بر قرار رکھے ہو ئے ہیں تو اب ان پر لازم ہے کہ قطع تعلقی کریں اور اللہ تعالی سے صدق دل سے توبہ و استغفار کرے اور اگر جانتے ہو یہ سب کرہے تھے تو حرام کا ارتکاب کر رہے تھے ۔

    سنن ابی داود میں ہے: " ثَلَاثٌ جَدُّهُنَّ جَدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جَدٌّ: النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ" ترجمہ:تین چیزیں ایسی ہیں کی سنجید گی بھی حقیقت ہےاور جن کا مذاق بھی حقیقت ہے (یعنی )نکاح ،طلاق اوررجوع۔( سنن ابی داود ، رقم:2194)

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: وَحَلَّ طَلَاقُهُنَّ أَيْ الْآيِسَةِ وَالصَّغِيرَةِ وَالْحَامِلِ عَقِبَ وَطْءٍ لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ فِيمَنْ تَحِيضُ لِتَوَهُّمِ الْحَبَلِ وَهُوَ مَفْقُودٌ هُنَا:ترجمہ : اوران عورتوں کو وطی کے بعدطلاق دینا حلال ہے یعنی زیادہ بوڑھی عورت ،چھوٹی بچی اور حاملہ عورت کو کیونکہ حیض والی عورت کو حمل کے شبہ کی وجہ سےطلاق دینا مکروہ ہے اور یہ بات یہاں موجود نہیں ہے ۔ ( تنویر الابصار مع الدر المختار باب رکن الطلاق ، ج:3 ص:232)

    حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246اورعالمگیریہ ،کتاب الطلاق، الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414 میں ہے واللفظ لہالْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ:ترجمہ: کتابتِ (طلاق )کی دو قسمیں ہیں ،(١)مرسومہ (٢)غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں ،مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح)مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اور غیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں)طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔

    طلاق نامہ بھی مرسومہ طلاق کی ایک صورت ہے لہذا آپ کے شوہر کی دوسری بیوی کو طلاق نامہ کے مطابق تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔

    فتاوی ہندیہ(کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت) میں ہے،"اذاقال لامرأتہ’’ انت طالق وطالق وطالق‘‘ ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا"ترجمہ:’’جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا ’’تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے‘‘ اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا ،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ۔

    وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ (الطلاق: 4) ترجمہ: اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔

    تیسری طلاق کے بعداگر میاں ،بیوی دوبارہ رہنے پر راضی ہوں توبغیر حلالہ شرعی کے نہیں رہ سکتے۔

    ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَالِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ: ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''،( البقرہ 230)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :

    ''حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں ےا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے '' (فتاویٰ رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص84 )

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    تاریخ اجراء:01ربیع الاول 1440 ھ/10نومبر 2018ء